صنعتی شعبے کا لوڈ شیڈنگ پر 40 فیصد ورکرز فارغ کرنے کا انتباہ

بجلی کی8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے2 شفٹیں متاثر،صنعتوں میں پیداواری منصوبہ بندی تباہ،کروڑوں ڈالرکے برآمدی آرڈرمنسوخ ہونے۔۔۔

سیلز ٹیکس گوشوارے اور مارک اپ جمع کرانے میں تاخیر ہوگی، پاور ڈسٹری بیوشن سیکٹر نئی کمپنیوں کیلیے کھولاجائے، صنعتی علاقوں کے نمائندوں کی پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

صنعتی شعبے نے بجلی کی لوڈشیڈنگ برقراررہنے کی صورت میں 40 فیصد ورکرز کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے شہر میں بدامنی کی نوعیت کی سنگین ہونے اورانتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔

کراچی کے ساتوں ٹاؤن انڈسٹریل زون کے نمائندوں نے پاورڈسٹری بیوشن سیکٹر میں کے ای ایس سی کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے نجی شعبے کی دیگر پاورجنریشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے اور8 گھنٹے کی طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

جمعرات کوکراچی پریس کلب میں کورنگی ایسوسی ایشن اور سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر چھایا اور ڈاکٹر ارشد وہرہ نے کراچی کے 7 صنعتی علاقوں، سائٹ، کورنگی، لانڈھی، نارتھ کراچی، فیڈرل بی ایریا، بن قاسم اور سائٹ سپر ہائی وے کی ایسوسی ایشنز کے مشترکہ پلیٹ فارم کراچی ٹاؤن اینڈ انڈسٹریل الائنس (کیٹیا) سے پریس کانفرنس کی۔ سائٹ ایسوسی ایشن کے ڈاکٹرارشد وہرہ نے کہا کہ لوڈشیڈنگ جاری رہنے سے صنعت کاروں کی جانب سے سیلز ٹیکس گوشوارے اور ایکسپورٹ ری فنانس کے تحت حاصل کردہ قرضوں کا مارک اپ جمع کرانے میں تاخیر ہوگی۔

کے ایس ایس سی کو دسمبر 2012 سے تاحال یومیہ120 ایم ایم سی ایف گیس مل رہی ہے لیکن یہ ادارہ صرف اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے فرنس آئل کے اخراجات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے گیس کی قلت کوجواز بناتے ہوئے صنعتی شعبے کو تختہ مشق بنا رہا ہے لیکن کے ای ایس سی کو بھی اس حقیقت کا اندازہ ہونا چاہیے کہ لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں جب صنعتیں ازخود بندش کی جانب گامزن ہو جائیں گی تو اس کے بلک انڈسٹریل کنزیومرز سے ریونیو بھی رک جائے گا جو کے ای ایس سی کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔




انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتوں صنعتی زونزمیں یومیہ 4،4 گھنٹوں بجلی کی مرحلہ وارلوڈشیڈنگ سے صنعتی شعبے کو اربوں روپے مالیت کا پیداواری نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ متعدد چھوٹے ودرمیانے درجے کی صنعتیں بند ہوگئی ہیں حالانکہ کے ای ایس سی اپنے صارفین کو24 گھنٹے بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ای ایس سی نے اگر اپنی خدمات کے معیار کو بہتر نہ کیا تو بہت جلدہی پی ٹی سی ایل کی طرز پر کراچی کے پاورجنریشن اینڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں نجی شعبے کی مزید کمپنیوں کی آمد سے کے ای ایس سی کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوجائے گا۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین زبیر چھایا نے کہا کہ کے ای ایس سی اچانک لوڈشیڈنگ کا اعلان کرکے صنعتی شعبے پر شب خون مار رہی ہے حالانکہ صنعتی شعبے نے کے ای ایس سی کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ حکومتی سطح پرآواز بلند کی جبکہ اس کے برعکس ایس ایس جی سی کی جانب سے صنعتی شعبے کی مشاورت اور اعتماد میں لینے کے بعد ہی گیس لوڈمنیجمنٹ پلان کا اعلان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں گیس اور بجلی کے بغیر نہیں چل سکتی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ کے ای ایس سی شہر میں صنعت کاری روکنے کی پالیسی پرگامزن ہے، من مانے فیصلے کرتے ہوئے سیکیورٹی ڈپازٹس کی مد میں ادائیگیاں روک دی ہیں جبکہ کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود تمام صارفین سے ماہانہ بنیادوں پرٹی وی فیس کی وصولیاں بھی جاری ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایم سلیم چغتائی، فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایم ہارون شمسی، چئیرمین سائٹ سپر ہائی وے ایسو سی ایشن اسلم ریاض، چیئرمین لانڈھی ایسو سی ایشن علی رضا ایم علاؤالدین اور بن قاسم ایسو سی ایشن کے صدر عثمان احمد اور ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل کی ایسوسی ایشنزکے چیئرمینز مہتاب الدین چاؤلہ، زین بشیرعامر حیدر بٹ، خواجہ عثمان،رفیق گوڈیل،امان اللہ قاسم، شیخ شفیق رفیق اور ذوالفقار علی چوہدری نے کہا کہ لوڈشیڈنگ سے دو شفٹوں کے ورکرز اپنے روزگار سے فراغت حاصل کرگئے ہیں، صنعتوں کی پیداواری منصوبہ بندی تباہ ہونے سے ان کے برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں تاخیرکے سبب خدشہ پیداہوگیا ہے کہ کروڑوں ڈالر مالیت کے آرڈرز منسوخ ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی نجی کمپنی کی بنیاد پر ایک ہی کمپنی کو کراچی میں بجلی کی تقسیم دے کر اجاراداری قائم کردی گئی ہے جو من مانے طریقے سے بجلی کا نظام چلارہی ہے اور ملکی معیشت کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بجلی کی ڈسٹری بیوشن کو دوسری نجی کمپنیوں کے لیے کھولا جائے تاکہ مسابقت کی وجہ سے بجلی کمپنیاں فعال ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقوں میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے چھو ٹے یونٹس کے قیام سے صنعت کاروں کو کے ای ایس سی کے مقابلے میں سستی بجلی ملے گی اور کے ای ایس سی کی نسبت لائن لاسسز بھی کم ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ سے اپیل کی کہ وہ لوڈشیڈنگ کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر کے ای ایس سی کو کراچی کے ساتوں صنعتی علاقوں میں فی الفور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے احکام جاری کریں۔
Load Next Story