ڈیلرزکاموبائل فون پرسیلزٹیکس ختم کرنے کیلیے دباؤ
ایف بی آرکاانکار،کراچی ودیگرچیمبرزکے دباؤپرممبرآئی آرنے ڈیلرزکوملاقات کے لیے بلالیا
آج اجلاس میں مطالبات زیرغورآئیں گے،ایف بی آرسیلزٹیکس واپس نہیں لے گا، ذرائع فوٹو: فائل
ISLAMABAD/KARACHI:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے موبائل اور اسمارٹ وسیٹلائٹ فون کی درآمد پر بالترتیب 500 اور 1ہزار روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔
جبکہ ایف بی آر میں انتظامیہ کے بدلتے ہی ملک بھر کی الیکٹرانک و موبائل فون ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیاہے ۔
جس میں اسمارٹ فون کی درآمد پر عائد کردہ 1ہزار روپے فی یونٹ اور دیگر موبائل فونز پر500 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کے سابق ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز رضا باقر نے ملک کے مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، موبائل فون ڈیلرز اور الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ڈالا جانے والا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے سیلز ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا تھا، اس اقدام سے 5 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ نئے چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی کے بعد ایف بی آر میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث ملک بھر کی الیکٹرانک و موبائل فون ڈیلرز ایسوسی ایشن و دیگر حکام دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں تاہم نئے ممبر ان لینڈ ریونیو مصطفیٰ اشرف بھی موبائل فون کی درآمد پر عائد کردہ سیلز ٹیکس واپس لینے کے حق میں نہیں ہیں اور انہوں نے موبائل فون ڈیلرز اور الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے لیٹر پر انہیں ملاقات کے لیے وقت دینے سے انکار کردیا تھا ۔
تاہم کراچی چیمبرز آف کامرس ودیگر چیمبرز کے عہدیداروں سمیت دیگر حکام کے دباؤ میں آکر ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن نے الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کوجمعہ سہہ پہر 3 بجے ملاقات کے لیے بلا لیا ہے، اس موقع پر ممبر ان لینڈ ریونیو کی زیر صدارت اجلاس میں موبائل فون سیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کا جائزہ لیا جائے گا تاہم زیادہ امکان ہے کہ ایف بی آر یہ ٹیکس واپس نہیں لے گا کیونکہ موجودہ ریونیو شارٹ فال کی پوزیشن میں ایسا قدم اٹھانا کسی طور بھی ایف بی آر کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے موبائل اور اسمارٹ وسیٹلائٹ فون کی درآمد پر بالترتیب 500 اور 1ہزار روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔
جبکہ ایف بی آر میں انتظامیہ کے بدلتے ہی ملک بھر کی الیکٹرانک و موبائل فون ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیاہے ۔
جس میں اسمارٹ فون کی درآمد پر عائد کردہ 1ہزار روپے فی یونٹ اور دیگر موبائل فونز پر500 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کے سابق ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز رضا باقر نے ملک کے مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، موبائل فون ڈیلرز اور الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ڈالا جانے والا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے سیلز ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا تھا، اس اقدام سے 5 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ نئے چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی کے بعد ایف بی آر میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث ملک بھر کی الیکٹرانک و موبائل فون ڈیلرز ایسوسی ایشن و دیگر حکام دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں تاہم نئے ممبر ان لینڈ ریونیو مصطفیٰ اشرف بھی موبائل فون کی درآمد پر عائد کردہ سیلز ٹیکس واپس لینے کے حق میں نہیں ہیں اور انہوں نے موبائل فون ڈیلرز اور الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے لیٹر پر انہیں ملاقات کے لیے وقت دینے سے انکار کردیا تھا ۔
تاہم کراچی چیمبرز آف کامرس ودیگر چیمبرز کے عہدیداروں سمیت دیگر حکام کے دباؤ میں آکر ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن نے الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کوجمعہ سہہ پہر 3 بجے ملاقات کے لیے بلا لیا ہے، اس موقع پر ممبر ان لینڈ ریونیو کی زیر صدارت اجلاس میں موبائل فون سیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کا جائزہ لیا جائے گا تاہم زیادہ امکان ہے کہ ایف بی آر یہ ٹیکس واپس نہیں لے گا کیونکہ موجودہ ریونیو شارٹ فال کی پوزیشن میں ایسا قدم اٹھانا کسی طور بھی ایف بی آر کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔