ایران جوہری معاہدہ سے امریکا کی دستبرداری
اس انداز نظر اور عزائم سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکا بھی نیوکلیئر ایگزٹ سنڈروم کا اسیر ہوگیا ہے۔
اس انداز نظر اور عزائم سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکا بھی نیوکلیئر ایگزٹ سنڈروم کا اسیر ہوگیا ہے۔ فوٹو:فائل
QUETTA:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے اور دوبارہ پابندیاں سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنے والی ریاست پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔
منگل کی شام وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران ایک دہشتگرد ملک ہے، وہ ریاستی دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے، شام اور یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے، اس نے ایٹمی معاہدے کی پاسداری نہیں کی، اسے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا، ایران سے معاہدہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حقیقت میں معاہدے کے ساتھ ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی، ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا، اس نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے متعلق جھوٹ بولا۔
ٹرمپ نے آخرکار ایران جوہری معاہدہ سے دستبرداری کی بلی معاہدہ کی تیاری میں شامل ممالک کے تحفظات کے باوجود تھیلے سے باہر نکال ہی لی۔ ایران سے جوہری معاہدہ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے 2015 میں کیا تھا ، اوباما نے ٹرمپ کے فیصلہ کو سنگین غلطی اور ''مس گائیڈڈ'' اعلان سے تعبیر کیا ہے جس کے خلاف شدید ردعمل اور کچھ ملکوں نے ٹرمپ کے اس اعلان پر اظہار مسرت کیا ہے، ان ملکوں میں اسرائیل، سعودی عرب سرفہرست ہیں، نیتن یاہو نے اسے دلیرانہ فیصلہ کہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایران جوہری معاہدہ کی تنسیخ کا نعرہ پہلے دن سے شامل تھا، یہ ٹرمپ حکومت کے دورانئے کا ایک غیر معمولی اقدام ہے جس کے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کے صدر حسن روحانی کے نزدیک ٹرمپ نے نفسیاتی جنگ چھیڑی ہے، امریکا مخلص تھا ہی نہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدہ کی پابندی اور پاسداری کی۔ اس سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، بغیر ثبوت کے امریکی صدر نے مخالفت کی۔ ایران اور اوباما کے موقف میں یکسانیت اور معروضیت اس لیے بھی قابل غور ہے کہ جب سے معاہدہ کی منظوری دی گئی اس وقت سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بے لگام ہونے کا کوئی عملی مظاہرہ نہیں کیا۔
گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ نے ایرانی جوہری معاہدہ سے دستبرداری کے اعلان کو استقامت کی آزمائش قرار دیا ہے، معاہدہ کرانے والے ملکوں میں امریکا سمیت چین، جاپان، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور روس شامل تھے، ان ملکوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس کے اس بیان کی تائید کی ہے کہ دنیا کو اس معاہدہ کی حمایت کرنی چاہیے اور ان کی تمام شقوں کو تحفظ دینا چاہیے۔
ادھر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے کو جاری رکھا تو مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ جیسے ہی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوجائے گا دیگر ممالک بھی اپنی کوششیں تیز کر دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ امریکا ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں لگائے گا، اس پر معاشی پابندیوں سے دنیا کو بھی ایک پیغام جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کام کریں گے۔ انھوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانا بند نہ کیے تو مزید سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
اس انداز نظر اور عزائم سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکا بھی نیوکلیئر ایگزٹ سنڈروم کا اسیر ہوگیا ہے، لہٰذا ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سامراجی طاقتوں کا رخ مشرق وسطیٰ کی داخلی صورتحال کو مزید گھمبیر بنادے گا۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت موقف سے خطے میں امن کی پہلے سے کمزور اور مضمحل حالت مزید پتلی ہوجائے گی اور عرب وعجم تضادات اور مفادات کی جنگ میں بہت کچھ داؤ پر لگ سکتا ہے۔
تہران نے اسے بیڈ ڈیل کہا ہے، کچھ نے اسے ٹرمپ کی جوہری حماقت قرار دیا ہے۔ یاد رہے عالمی سفارتکاری میں یہ مشہور کہاوت ہے کہ ڈیل نہ ہونے سے بری ہی سہی مگر کسی ڈیل کا ہوجانا اچھا شگون ہوتا ہے، اب جب کہ ایران کے اندر ہارڈ لائنرز نے بھی اصلاح پسندوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ٹرمپ اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے، ادھر ٹرمپ کی انتظامیہ میں جان بولٹن اور مائیک پومپیو جیسے ایران مخالف عقابوں کی موجودگی سے ایران حد سے زیادہ محتاط ہونے کو ترجیح دے گا۔
ایران، یمن، سعودی تنازع، قطر کی عالمی تنہائی اور 41 ملکی اسلامی فوجی اتحاد کے تناظر میں عالمی مبصرین ایران جوہری معاہدہ سے امریکی ''walk away'' کو مستقبل کے جنگی منظرنامہ کا پیش خیمہ قراردے رہے ہیں۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو پروگرام کے مطابق 12 مئی کو اعلان کرنا تھا مگر وائٹ ہاؤس نے میڈیا پنڈتوں کو چکمہ دے کر منگل کو اعلان داغ دیا تاکہ یورپی ملکوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو اس اعلان کو موخر کرانے کا موقع نہ مل سکے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا۔ امریکی صدر کا اعلان عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ امریکا کبھی جوہری معاہدے سے مخلص ہی نہیں تھا۔ اس نے ہمیشہ ایٹمی معاہدے سے متعلق جھوٹ بولا اور بغیر ثبوت کے ہمیشہ ایران کی مخالفت کی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق منگل کی شام قوم سے خطاب میں انھوں نے کہا ٹرمپ کو ایرانی قوم اور معیشت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران دیگر ممالک سے معاہدہ جاری رکھے گا جب کہ کچھ ہفتوں میں یورینیم کی افزودگی شروع کرسکتے ہیں، تاہم یورینیم کی افزودگی شروع کرنے سے پہلے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے۔ دوسری جانب فیڈریکا مغرینی نے کہا ایران سے پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کا حصہ تھا۔ اس کے ساتھ معاہدہ جاری رکھیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے بھی معاہدے کے دیگر شرکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے کو جاری رکھیں۔ دریں اثنا فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ڈونلڈٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہارکیا ہے۔
ایک ٹی وی کے مطابق تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ آج کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو خطرہ ہے جب کہ ترکی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ اب جب کہ ٹرمپ کا ایران مخالف روڈمیپ کی ایک واضح جھلک سامنے آگئی ہے، عالمی قوتوں کا مذاکراتی بلاک اس معاہدہ کی روح کو عالمی امن کے لیے اہم سمجھتا ہے، اور اس نے دنیا کے امن پسند ملکوں سے اپیل کی ہے کہ معاہدہ کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔
مگر ایران کے خدشات کا بھی ادراک کیا جائے اور مسلم امہ کو اپنے اندر اتحاد واتفاق کے لیے کوششوں کو ٹرمپ ڈاکٹرائن سے نتھی نہیں کرنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے، اسے ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کی چنگاری سے دور رکھنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے اور دوبارہ پابندیاں سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنے والی ریاست پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔
منگل کی شام وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران ایک دہشتگرد ملک ہے، وہ ریاستی دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے، شام اور یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے، اس نے ایٹمی معاہدے کی پاسداری نہیں کی، اسے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا، ایران سے معاہدہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حقیقت میں معاہدے کے ساتھ ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی، ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا، اس نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے متعلق جھوٹ بولا۔
ٹرمپ نے آخرکار ایران جوہری معاہدہ سے دستبرداری کی بلی معاہدہ کی تیاری میں شامل ممالک کے تحفظات کے باوجود تھیلے سے باہر نکال ہی لی۔ ایران سے جوہری معاہدہ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے 2015 میں کیا تھا ، اوباما نے ٹرمپ کے فیصلہ کو سنگین غلطی اور ''مس گائیڈڈ'' اعلان سے تعبیر کیا ہے جس کے خلاف شدید ردعمل اور کچھ ملکوں نے ٹرمپ کے اس اعلان پر اظہار مسرت کیا ہے، ان ملکوں میں اسرائیل، سعودی عرب سرفہرست ہیں، نیتن یاہو نے اسے دلیرانہ فیصلہ کہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایران جوہری معاہدہ کی تنسیخ کا نعرہ پہلے دن سے شامل تھا، یہ ٹرمپ حکومت کے دورانئے کا ایک غیر معمولی اقدام ہے جس کے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کے صدر حسن روحانی کے نزدیک ٹرمپ نے نفسیاتی جنگ چھیڑی ہے، امریکا مخلص تھا ہی نہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدہ کی پابندی اور پاسداری کی۔ اس سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، بغیر ثبوت کے امریکی صدر نے مخالفت کی۔ ایران اور اوباما کے موقف میں یکسانیت اور معروضیت اس لیے بھی قابل غور ہے کہ جب سے معاہدہ کی منظوری دی گئی اس وقت سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بے لگام ہونے کا کوئی عملی مظاہرہ نہیں کیا۔
گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ نے ایرانی جوہری معاہدہ سے دستبرداری کے اعلان کو استقامت کی آزمائش قرار دیا ہے، معاہدہ کرانے والے ملکوں میں امریکا سمیت چین، جاپان، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور روس شامل تھے، ان ملکوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس کے اس بیان کی تائید کی ہے کہ دنیا کو اس معاہدہ کی حمایت کرنی چاہیے اور ان کی تمام شقوں کو تحفظ دینا چاہیے۔
ادھر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے کو جاری رکھا تو مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ جیسے ہی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوجائے گا دیگر ممالک بھی اپنی کوششیں تیز کر دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ امریکا ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں لگائے گا، اس پر معاشی پابندیوں سے دنیا کو بھی ایک پیغام جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کام کریں گے۔ انھوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانا بند نہ کیے تو مزید سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
اس انداز نظر اور عزائم سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکا بھی نیوکلیئر ایگزٹ سنڈروم کا اسیر ہوگیا ہے، لہٰذا ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سامراجی طاقتوں کا رخ مشرق وسطیٰ کی داخلی صورتحال کو مزید گھمبیر بنادے گا۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت موقف سے خطے میں امن کی پہلے سے کمزور اور مضمحل حالت مزید پتلی ہوجائے گی اور عرب وعجم تضادات اور مفادات کی جنگ میں بہت کچھ داؤ پر لگ سکتا ہے۔
تہران نے اسے بیڈ ڈیل کہا ہے، کچھ نے اسے ٹرمپ کی جوہری حماقت قرار دیا ہے۔ یاد رہے عالمی سفارتکاری میں یہ مشہور کہاوت ہے کہ ڈیل نہ ہونے سے بری ہی سہی مگر کسی ڈیل کا ہوجانا اچھا شگون ہوتا ہے، اب جب کہ ایران کے اندر ہارڈ لائنرز نے بھی اصلاح پسندوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ٹرمپ اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے، ادھر ٹرمپ کی انتظامیہ میں جان بولٹن اور مائیک پومپیو جیسے ایران مخالف عقابوں کی موجودگی سے ایران حد سے زیادہ محتاط ہونے کو ترجیح دے گا۔
ایران، یمن، سعودی تنازع، قطر کی عالمی تنہائی اور 41 ملکی اسلامی فوجی اتحاد کے تناظر میں عالمی مبصرین ایران جوہری معاہدہ سے امریکی ''walk away'' کو مستقبل کے جنگی منظرنامہ کا پیش خیمہ قراردے رہے ہیں۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو پروگرام کے مطابق 12 مئی کو اعلان کرنا تھا مگر وائٹ ہاؤس نے میڈیا پنڈتوں کو چکمہ دے کر منگل کو اعلان داغ دیا تاکہ یورپی ملکوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو اس اعلان کو موخر کرانے کا موقع نہ مل سکے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا۔ امریکی صدر کا اعلان عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ امریکا کبھی جوہری معاہدے سے مخلص ہی نہیں تھا۔ اس نے ہمیشہ ایٹمی معاہدے سے متعلق جھوٹ بولا اور بغیر ثبوت کے ہمیشہ ایران کی مخالفت کی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق منگل کی شام قوم سے خطاب میں انھوں نے کہا ٹرمپ کو ایرانی قوم اور معیشت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران دیگر ممالک سے معاہدہ جاری رکھے گا جب کہ کچھ ہفتوں میں یورینیم کی افزودگی شروع کرسکتے ہیں، تاہم یورینیم کی افزودگی شروع کرنے سے پہلے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے۔ دوسری جانب فیڈریکا مغرینی نے کہا ایران سے پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کا حصہ تھا۔ اس کے ساتھ معاہدہ جاری رکھیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے بھی معاہدے کے دیگر شرکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے کو جاری رکھیں۔ دریں اثنا فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ڈونلڈٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہارکیا ہے۔
ایک ٹی وی کے مطابق تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ آج کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو خطرہ ہے جب کہ ترکی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ اب جب کہ ٹرمپ کا ایران مخالف روڈمیپ کی ایک واضح جھلک سامنے آگئی ہے، عالمی قوتوں کا مذاکراتی بلاک اس معاہدہ کی روح کو عالمی امن کے لیے اہم سمجھتا ہے، اور اس نے دنیا کے امن پسند ملکوں سے اپیل کی ہے کہ معاہدہ کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔
مگر ایران کے خدشات کا بھی ادراک کیا جائے اور مسلم امہ کو اپنے اندر اتحاد واتفاق کے لیے کوششوں کو ٹرمپ ڈاکٹرائن سے نتھی نہیں کرنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے، اسے ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کی چنگاری سے دور رکھنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔