طبقاتی نمائندگی

عوام اس مطلب پرست اشرافیہ کو اس وقت یاد آتے ہیں جب وہ کسی سیاسی بھنور میں پھنس جاتے ہیں۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ملک کا ہر سیاست دان خاص طور پر اشرافیہ دو موقعوں پر عوام سے اپنے لا متناہی عشق کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک موقع الیکشن کا ہوتا ہے، دوسرا جب وہ کسی سیاسی مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔ آج کل الیکشن کا سیزن ہے، الیکشن میں صرف دو ماہ دور رہ گئے ہیں۔ سیاست دان اپنے شیشوں کے محلوں سے نکل کر غریب عوام کی گندی گلیوں کے طواف کررہے ہیں اور ہر الیکشن سیزن کی طرح عوام کو زمین سے اٹھاکر آسمان پر بٹھانے کے وعدے کر رہے ہیں ۔

یہ اور اس طرح کے سیکڑوں وعدے 70 سالوں سے عوام سے کیے جارہے ہیں لیکن بے چارے عوام ابھی تک زمین پر ہی ہیں، البتہ ہر سال لاکھوں غریب وقت سے پہلے زمین سے اٹھ کر آسمان پر چلے جاتے ہیں ،ان میں بھوک کے مارے بھی ہوتے ہیں۔

علاج سے محرومی کے مارے بھی ہوتے ہیں وہ حاملہ عورتیں بھی ہوتی ہیں جو زچگی کی سہولتوں سے محروم ہوتی ہیں ، وہ بھی ہوتی ہیں جو بھوک اور مناسب خوراک سے محرومی کی وجہ سے آسمان پر پہنچ جاتی ہیں اور وہ لوگ بھی ہوتے ہیں، جو سڑکوں پر کاروں، ویگنوںکے نیچے آکر آسمان کے اوپر چلے جاتے ہیں۔ ان کے جنازوں میں گلی محلے کے غریب ہی ہوتے ہیں ، وہ وعدہ فروش اشرافیہ جو الیکشن مہم کے دوران ان گندی بستیوں کے طواف کرتی ہے ،کسی بھوک اور لاعلاجی سے مرنے والے غریب ووٹر کے جنازے میں شریک نہیں ہوتے ہیں ۔

عوام اس مطلب پرست اشرافیہ کو اس وقت یاد آتے ہیں جب وہ کسی سیاسی بھنور میں پھنس جاتے ہیں۔ آج کل حکمران طبقہ عدالت عالیہ کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا۔پانچ سال سے حکمران اشرافیہ کو ترقیاتی منصوبوں کا کوئی خیال نہ تھا ،اب سپر الیکشن حکمران اشرافیہ ترقیاتی منصوبوں میں اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ کوئی اسپتال بنا رہا ہے، کوئی اسکول اور کالج بنا رہا ہے، کوئی اسپتالوں میں سٹی اسکین کی مشینیں لگا رہا ہے، غرض اشرافیہ ترقیاتی کاموں میں اس قدر مصروف ہے کہ گھر پر بیوی بچوں کو دینے کے لیے ان کے پاس ٹائم نہیں۔

ہمارے کرم فرما ووٹ کے احترام کا نہ صرف درس دے رہے ہیں بلکہ اس حوالے سے مہم بھی چلا رہے ہیں ۔ ووٹ بلاشبہ محترم ہوتا ہے بشرطیکہ وہ عوام کے حقیقی نمایندوں کے لیے استعمال ہو، اگر ووٹ چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لوٹ مار کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خراب چیز اورکوئی نہیں ہوسکتی۔


غریب طبقات کا ووٹ غریب کی زندگی بہتر بنانے کے نام پر 70 سال سے ہتھیایا جا رہا ہے لیکن غریب کی زندگی پر آنے والے دن نئی نئی مشکلات کا شکار ہو رہی ہیں جس کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ٹی وی چینلز پر، اخبارات کے صفحات پر ترقی کے اعلانات ہوتے رہتے ہیں، بے چارے عوام ٹی وی اور اخبارات کی ترقی کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں لیکن انھیں اپنی بستیوں میں کہیں ترقی نظر نہیں آتی ، البتہ شہرکی پوش بستیوں میں ترقی اس طرح جگمگاتی ہے کہ غریبوں کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اس ملک کے 21 کروڑ عوام کو 70 سال سے ترقی کے سبز باغ دکھائے جارہے ہیں لیکن ترقی کا پتا نہیں چلتا۔ غریبوں کی بستیوں سے ترقی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئی ہے۔

اس المناک صورتحال کو جب تک مکمل طور پر تبدیل نہ کیا جائے ، غریب کا ووٹ اشرافیہ کے ہاتھوں میں جاکر ذلیل و خوار ہوتا رہے گا۔ تبدیلی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انتخابی اصلاحات اس طرح کی جائیں کہ غریب اور متوسط طبقات کے اہل اور ایماندار نوجوان قانون ساز اداروں میں پہنچ جائیں، لیکن یہ ہوگا کس طرح کہ سارے اداروں پر اشرافیہ کا قبضہ ہے حال ہی میں انتخابی اصلاحات کی گئیں اور ان کا پروپیگنڈا بھی خوب کیا گیا حیرت کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ان اصلاحات کی حمایت کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اصلاحات کی نتیجے میں غریب اور مڈل کلاس کے اہل لوگ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں جب کہ صورتحال یہ ہے کہ الیکشن لڑنے کے لیے کروڑ پتی اور ارب پتی ہونا ضروری ہے۔

عوام کے عشق میں مرنے والی اشرافیہ الیکشن لڑنے کے لیے جو ٹکٹ دیتی ہے، اس کی شرط یہ ہوتی ہے کہ جس امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے وہ اس قابل ہو کہ الیکشن جیت کر دکھائے اور چونکہ ہمارے ملک میں الیکشن کے موجودہ سسٹم میں صرف کروڑ پتی اور ارب پتی ہی الیکشن جیت سکتے ہیں۔ چونکہ غریب کے جسم پر کپڑے بھی پھٹے ہوئے ہوتے ہیں لہٰذا انتخابی ٹکٹ لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کے غربا کو دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا خواہ غریب کا بیٹا، مزدور کا بیٹا ،کسان کا بیٹا خواہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اہل ہی کیوں نہ ہو ، ٹکٹ کا حق دار نہیں ہوسکتا۔ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے حوالے سے یہ فرمانے والے کہ عوام نے ان فیصلوں کو مسترد کردیا ہے۔ عوام کے اہل اور تعلیم یافتہ بیٹوں کو کیوں انتخابی ٹکٹ دینے سے گریزاں رہتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ وہ کروڑ پتی اور ارب پتی نہیں ہیں ۔

عوام اور جمہوری حکومت وہی کہلائے گی جس کے قانون ساز اداروں میں غریب عوام مزدور اور کسانوں کے نمایندے ہوںگے ان نمایندوں کے بغیر قانون ساز ادارے اشرافیہ کی پناہ گاہیں بنی رہیں گی۔ ہمارے ملک میں ساڑھے چھ کروڑ مزدور ہیں دیہی آبادی کا 60 فی صد حصہ کسان ہیں کیا ان کے نمایندے کسی قانون ساز ادارے میں جب ملک کی 80 فی صد آبادی کا ایک بھی حقیقی نمایندہ قانون ساز اداروں میں نہ ہو تو جمہوریت چہ معنی دارد؟

یہ دھوکا باز جمہوریت 70 سال سے ملک میں جاری ہے کوئی اس پر فریب جمہوریت کو جمہوریت کیسے مان سکتا ہے؟ مزدوروں، کسانوں کو چھوڑیے اس ملک میں ہزاروں، دانشور ہیں، ہزاروں مفکر ہیں، ہزاروں صحافی ہیں، ہزاروں وکلا ہیں، ہزاروں ڈاکٹر ہیں، ہزاروں ادیب ہیں، ہزاروں شاعر ہیں، کیا انھیں قانون ساز اداروں میں نمایندگی نہیں ملنی چاہیے؟

اس سوال کے مثبت جواب پر ہی جمہوریت کا دار و مدار ہے اب یہ تصور احمقانہ ہے کہ مزدوروں، کسانوں میں وہ اہلیت نہیں جو قانون ساز اداروں میں پہنچنے کے لیے ضروری ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ غریبوں، مزدوروں، کسانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہیں لیکن میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ مزدوروں، کسانوں کے بچوں نے ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی اپنی ذاتی محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ان میں قانون ساز اداروں میں جانے کی مکمل صلاحیت ہے۔ اس 70 سالہ ناانصافی کا ایک ہی حل ہے کہ قانون ساز اداروں میں طبقات کے حوالے سے طبقاتی نمایندگی دی جائے اور غریبوں، مزدوروں، کسانوں کے اہل بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بھرپورمواقعے فراہم کیے جائیں۔
Load Next Story