پرویز مشرف کی گرفتاری

قمر افضل ایڈووکیٹ نے کہا کہ ججز کی نظر بندی پرویز مشرف کا نہیں، اس وقت کے وزیر اعظم اور کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا۔

پرویز مشرف کے اس اقدام سے عدالتی نظام تباہ ہو گیا، پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی اور کوئی ایک شخص متاثر نہیں ہوا بلکہ 18کروڑ عوام متاثر اور زخمی ہوا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی عبوری درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیدیا جس پر پرویز مشرف سیکیورٹی کے حصار میں عدالت سے چلے گئے اور انھیں موقع پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے بعد ہفتے کی شب ان کے گھر کو سب جیل قرار دیدیا گیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب انھیں ان کے گھر سے پولیس ہیڈ کوارٹر اسلام آباد پہنچا دیا گیا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق آئی جی اسلام آباد کو پرویز مشرف کو عدالت سے فرار کرنے کی ذمے دار ٹھہرا دیا ہے۔

عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بنچ نے پرویز مشرف کی درخواست ضمانت کی سماعت کی تھی۔ پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے دلائل دینے شروع کیے تو فاضل جسٹس نے استفسار کیا کہ ملزم خود عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوا۔ اس پر قمر افضل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں جس پر عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔تھوڑی دیر بعد پرویز مشرف سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔

قمر افضل ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججز کی نظر بندی پرویز مشرف کا نہیں، اس وقت کے وزیر اعظم اور کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا، میر ے موکل نے ججز کو نظر بند کرنے کا کبھی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ انتظامیہ کا فعل تھا، میر ے موکل کا اس میں کوئی کردار نہیں، مدعی مقدمہ اس سے متاثر ہوا، نہ 260ججز میں سے کسی نے مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ مقدمہ عوامی نوعیت کا ہے، اس میں کوئی بھی شہری درخواست دے سکتا ہے۔


پرویز مشرف کے اس اقدام سے عدالتی نظام تباہ ہو گیا، پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی اور کوئی ایک شخص متاثر نہیں ہوا بلکہ 18کروڑ عوام متاثر اور زخمی ہوئے، سپریم کورٹ کے ججز کو نظر بند رکھنا دہشتگردی ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے دلیل دی کہا کہ ججز کے گھر کے باہر سیکیورٹی کے لیے خار دار تار لگائے گئے تھے۔ انھیں حبس بے جا میں نہیں رکھا گیا۔ فاضل عدالت نے کہا کہ اگر مشرف نے خاردار تار لگانے کا حکم نہیں دیا تھا تو ہٹانے کا حکم تو دے سکتے تھے۔ ہم ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جب سے پاکستان آئے ہیں' وہ مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں۔ پاکستان آمد سے پہلے انھیں یقینی طور پر اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ان پر جو مقدمات ہیں' اس سلسلے میں انھیں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ وہ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ عدالت کا سامنا کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے دور اقتدار میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اب چونکہ وہ پاکستان آ گئے ہیں اور انھیں لازمی طور پر عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے اور اپنا مقدمہ لڑنا چاہیے۔ انھیں پوری قانونی تیاری کے ساتھ عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا' مقدمات میں ضمانت ہونا' یا ضمانت کا منسوخ ہونا اور جیل جانا معمول کی قانونی کارروائیاں ہوتی ہیں' جمعرات کو پرویز مشرف کے کیس میں ایسا ہی ہوا اور یہ کوئی حیران کر دینے والی بات نہیں ہے۔

اس کا یہ پہلو مثبت ہے کہ سابق آرمی چیف اور سربراہ مملکت خود عدالت کے روبرو پیش ہوا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائیاں عدلیہ کا بھی یہ امتحان ہے۔ اسے اس سے سرخرو ہونا ہے۔ عدلیہ نے اب تک جو کچھ کیا' وہ سب قانون کے مطابق ہے ۔ عدلیہ نے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی ضمانتیں منظور بھی کی ہیں' اگر ایک نا منظور ہوئی ہے تو یہ بھی قانون کے مطابق ہے۔ اس معاملے میں میڈیا اور سیاستدانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ کنفیوژن پیدا کرنے سے گریز کریں' میڈیا کو کسی معاملے میں فریق نہیں بننا چاہیے اور سیاستدانوں کو بھی اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملے کو آئین و قانون کے تناظر میں دیکھتے ہیں' ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ سیاستدان ہوں یا دینی شخصیات یا صحافی و دانشور حضرات وہ ہر معاملے پر رائے زنی کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

جہاں تک جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمات کا تعلق ہے تو یہ عام نوعیت کے نہیں ہیں۔ ان پر آئین و قانون کو سامنے رکھ کر ہی کوئی رائے دینا چاہیے۔ ادھر وکلاء حضرات کا بھی فرض ہے کہ وہ اس معاملے میں پیشہ ورانہ طرز عمل اختیار کریں خصوصاً وہ وکلاء جو جنرل پرویز مشرف کے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں' انھیں چاہیے کہ وہ میڈیا کے ساتھ ٹو دی پوائنٹ گفتگو کریں۔ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش سے کیس خراب ہونے کا اندیشہ ہے' بہرحال جنرل پرویز مشرف کا معاملہ اب عدلیہ میں ہے۔ انھیں سارے قانونی مراحل طے کرنا ہوں گے' وہ خود بھی عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں اور کئی مقدمات میں وہ ضمانت پر ہیں' اس معاملے پر فی الحال کوئی اندازہ لگانا یا رائے دینا درست نہیں ہے' وہی ہو گا جو آئین و قانون کے مطابق ہو گا۔
Load Next Story