متعلقہ ایس ایچ او کہاں ہے

چنانچہ گدھے ہمارے بادشاہ بنے رہے اور ہم ان بادشاہوں کی لاتیں کھاتے رہے

Abdulqhasan@hotmail.com

یونان کے سکندر اعظم کی جوانی اور فتوحات دونوں عروج پر تھیں، اس نے اپنے ملک یونان سے فتوحات کا آغاز کیا اور ایک شہر فتح کرنے کے بعد جب وہ اس کے اندر فاتحانہ داخل ہوا تو راستے میں ایک فقیر بے خبر سو رہا تھا۔ سکندر نے اپنی سواری اس کے سامنے روک لی اور اتر کر اسے لات مار کر جگایا اور کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے تمہارا یہ شہر فتح کر لیا ہے لیکن تم سو رہے ہو۔

اس پر فقیر نے اپنی بے آرامی پر قابو پا کر کہا کہ حضور فتوحات بادشاہ کیا کرتے ہیں لیکن وہ بادشاہ ہوتے ہیں ،کسی کو لات مار کر جگاتے نہیں ہیں۔ یہ کام بادشاہوں کا نہیں گدھوں کا ہوتا ہے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ کوئی گدھا ہمارا بادشاہ بن گیا ہے ورنہ میں راستے میں کبھی نہ سوتا ذرا دور ہو کر لیٹا رہتا۔ اور لات سے بچ جاتا۔ راستے میں پڑے اس فقیر نے بادشاہت کا بھرم کھول دیا۔ ہم پاکستانی ایک مدت سے اپنے بادشاہوں کی لاتیں کھا رہے ہیں مگر ہمارے درمیان کوئی ایسا فقیر شاذ و نادر ہی پیدا ہوا ہے جو کسی بادشاہ کو اس کی لات کھانے کے بعد اسے لات اور بادشاہت یا انسان اور گدھے کا فرق بتا سکے۔

چنانچہ گدھے ہمارے بادشاہ بنے رہے اور ہم ان بادشاہوں کی لاتیں کھاتے رہے اور اس میں عمر بسر کر دی۔ جب دنیا نے ہم سے ہمارے اپنوں کا یہ سلوک دیکھا، ہماری نیاز مندی اور عاجزی کا یہ نظارہ دیکھ کر انھوں نے بھی ہم پر بوٹوں سے مسلح لاتیں تان لیں۔ ڈیڑھ سو برس تک انگریز بھی ہمیں گالیاں دیتے رہے اور لاتیں مارتے رہے پھر جب حالات کی کروٹوں سے ہم نے آزادی کی جھلک دیکھی تو ہمیں یقین نہ آیا کہ کیا ہم آزاد بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم پاکستانی اور تو اور اس بھارت سے بھی دبنے لگے جس کے خلاف لڑ کر ہم نے آزادی حاصل کی تھی، غیر ملکی انگریز اور ملکی ہندو دونوں ہمارے لیے دشمن تھے مگر آزادی کے بعد ہمارا ایک اور دور شروع ہوا جو شاید براہ راست غلامی سے زیادہ شرمناک تھا۔

انگریز اپنی مقبوضات کو جاتے جاتے امریکا کے سپرد کر گئے۔ دل دکھانے والی تفصیلات کو چھوڑ کر آج کی بات کرتے ہیں۔ ہمارا ایک مجرم اپنی بدقسمتی سے کسی بڑے ہی زعم اور چالاک لوگوں کی تسلیوں کے ساتھ لوٹ آیا۔ جنرل پرویز مشرف نے وہ سب کچھ کیا جو کوئی بھی بگڑا ہوا حکمران کر سکتا ہے، اس کے جرائم کی فہرست طویل ہے عدلیہ انتظامیہ فوج اور عوام کو ان سب کا علم ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اب تک کیا صورت حال ہے یا کل صبح تک کیا ہو گی۔ میں نئے حالات کے وقوع ہونے سے پہلے ہی لکھ رہا ہوں لیکن ایک بات طے ہے کہ ہمارا یہ مجرم ہمارے سامنے رہا اور سامنے ہے مگر ہم ڈر کے مارے اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے کوئی نڈھال بھیڑیا جس میں شاید اب بھی اتنی جان ہو کہ وہ ہمیں کھا جائے۔ اس لیے دور دور سے اسے گالیاں دو اس کے خلاف نعرے بلند کرو اور اپنا غصہ نکالو ورنہ یہ آپ کو کھا جائے گا۔


اور کیا معلوم ہمارے لیڈروں کے سرپرستوں نے اسے حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہو اور ہمارے لیڈر اور حکمران ہم عوام سے زیادہ اس سے ڈر رہے ہوں۔ الیکشن سر پر ہیں اور چند دن کے بعد اقتدار کس کے سپرد ہونا ہے اس میں ہم پوری طرح آزاد نہیں ہیں۔ کسی نے میرے کان میں کہا کہ تم ان کو بھول جائو ان سے مراد وہ لوگ تھے جو ہمارے یقینی حکمران ہو سکتے ہیں اور ہم انھیں ابھی سے اپنا حکمران سمجھتے ہیں۔

یہ تو الیکشن کے بعد کی باتیں ہیں فی الحال اپنے ملزم کی بات جو اب مفرور بھی ہو چکا ہے اور ہماری پولیس کو بخوبی علم ہے کہ کوئی مفرور کیا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت میں ٹی وی وغیرہ کے ذریعہ اپنے دانش وروں ماہرین قانون اور سیاسی کارکنوں کی باتیں سن رہا ہوں، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں اور بحث برائے بحث، سب کچھ کیا جا رہا ہے وقت ضایع ہو رہا ہے اور عوام پریشان۔ معاملہ اب واضح ہو گیا ہے ملزم اور مجرم کا فیصلہ ہو گیا ہے اور وہ اس وقت اپنی پناہ گاہ میں چھپا بیٹھا ہے سب کو اس کا پتہ ہے کہ یہ فارم ہائوس کہاں ہے بلکہ یوں کہیں کہ یہ محل کہاں ہے۔

پہلی تعجب کی بات تو یہ کہ عدالت سے جب وہ بھاگا تو رینجرز والوں نے اسے اپنی پناہ میں لے کر گاڑی میں بٹھا دیا اور معاملہ نہ جانے کہاں سے کہاں تک جا پہنچا ہے، معمول کی اور سیدھی بات یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ کسی عدالت کا نہیں پولیس کیس ہے۔ عدلیہ نے تو فیصلہ سنا دیا اس کی تعمیل پولیس کو کرنی ہے۔ عدالت کے پاس سپاہی اور ہتھکڑیاں نہیں ہوتیں کہ وہ کسی کو عدالت میں لگا کر اسے جیل بھجوا دے یہ کام انتظامیہ اور پولیس کو کرنا ہوتا چنانچہ اب علاقے کے ایس ایچ او نے یہ فرض ادا کرنا ہے جس کے سامنے کوئی مجرم محض ایک مجرم ہوتا ہے، حاضر نوکری یا سابقہ افسر نہیں ہوتا۔

یہ ملزم فوج کا مالک تھا لیکن فوج کو اگر اس کی حفاظت مطلوب ہوتی تو وہ آسانی کے ساتھ کر سکتی تھی بہر کیف اب تو یہ ہمارے قانون کے تحت متعلقہ ایس ایچ او کا ملزم ہے اور اس کے افسروں کو لازم ہے کہ ایس ایچ او کو حکم دیں کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس سابق جرنیل کو اپنی گرفت میں لے لے ،کوئی دوسرا راستہ ایسا نہیں جسے انصاف کا راستہ کہا جا سکے۔ معلوم نہیں کل جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گی تو صورت حال کیا ہو گی۔ بہر حال مسئلہ مقامی ایس ایچ او کا ہے اور عوام بھی یہی کہہ رہے ہیں۔
Load Next Story