کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کے اجرا کیخلاف درخواست پر نوٹس

وزارت داخلہ اسلحہ لائسنس کے اجرا سے متعلق پالیسی بنانے کیلیے آئین اور قانون کے پابند ہیں، درخواست گزا

فیروز بیگ اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں اسلحہ لائسنس کے اجراکا اختیار ڈی سی اوز سے نادرا کو منتقل کیے جانے کوبھی چیلنج کیا گیا ہے. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کے اجرا کے خلاف دائر درخواست پر وزارت داخلہ ، چیئرمین نادرا،اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

فیروز بیگ اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں اسلحہ لائسنس کے اجراکا اختیار ڈی سی اوز سے نادرا کو منتقل کیے جانے کوبھی چیلنج کیا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے یکم دسمبر2012کو جاری کردہ ترمیمی نوٹیفکیشن کے تحت پاکستان آرمز آرڈیننس میں ترمیم کے ذریعے نادرا کو کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے اور اعلان کیاگیاہے ماضی میں جاری لائسنسوں کو 30 جون2013تک منسوخ کردیاجائے گا، درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وزارت داخلہ اسلحہ لائسنس کے اجرا سے متعلق پالیسی بنانے کیلیے آئین اور قانون کے پابند ہیں۔




لیکن انھوں نے آئینی اور قانونی تقاضے نظرانداز کردیے، درخواست گزار کے مطابق مذکورہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے 25جولائی2012کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا گیا، درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ یہ نوٹیفکیشن محض کارکردگی دکھانے کیلیے جاری کیاگیا ہے، اس نوٹیفکیشن کے ذریعے مدعا علیہان سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر اور جسٹس ایس ایم فاروق شاہ پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے میسرز اپالو ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ماتحت حکام کو 6کروڑ روپے سے زائد سیلز ٹیکس کی وصولی سے آئندہ سماعت تک روک دیا، فاضل بنچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور دیگر مدعا علیہان کو 6مئی کیلیے نوٹس جاری کردیے ،سینیٹر رضاربانی اور سالم سلام انصاری ایڈووکیٹس نے موقف اختیارکیا کہ 2فیصد سیلز ٹیکس کی ادائیگی قانونی طور پر رجسٹرڈ خریدار کی ذمے داری تھی۔
Load Next Story