30 بستروں پرمشتمل اسپتال کی عمارت کاافتتاح آج ہوگا
نوری آباد میں قائم اسپتال میں نہ عملہ ہے،نہ طبی سامان،بجٹ بھی مختص نہیں
اسپتال کی عمارت محکمہ صحت نے نوری آباد میں تعمیرکی ہے جس میں 30بسترمختص کیے گئے ہیں. فوٹو: فائل
محکمہ صحت نے ایسے اسپتال کے افتتاح کا فیصلہ کرلیا ہے جس میں عملہ تعینات ہے نہ ہی بجٹ اورنہ ہی طبی سامان فراہم کیاجاسکاہے اس کے باوجود اسپتال کا افتتاح کیا جائے گا۔
اسپتال کی عمارت محکمہ صحت نے نوری آباد میں تعمیرکی ہے جس میں 30بسترمختص کیے گئے ہیں، تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت نے گزشتہ سال نوری آباد میں 30 بستروں پر مشتمل اسپتال بنانے کی اسکیم منظورکی تھی، اسپتال کی عمارت تو تیارکرلی گئی لیکن اسپتال کی ایس این ای سمیت دیگر سامان وآلات اوراسپتال میں ادویات کے لیے بجٹ مختص نہیں کیاجاسکالیکن محکمہ نے اسپتال کی عمارت کے افتتاح کا فیصلہ کرلیا اورآج نگراں وزیرصحت ڈاکٹر جنید علی شاہ اور سیکریٹری صحت اسپتال کا افتتاح کریں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں جامشورو اسپتال کے بعض ڈاکٹروںکوتعینات کیاگیا ہے لیکن ان ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ اسپتال میں نہ تو ادویات ہیں اوردیگر سامان بھی موجود نہیں صرف اسپتال کی عمارت کا افتتاح کیاجائیگا،واضح رہے کہ کراچی کے ٹول پلازہ اور جامشورو کے درمیان صحت کے مراکزقائم نہیں کیے جا سکے ،سپرہائی وے پر حادثات کی صورت میں متاثرین کوکراچی اسپتال منتقل کیاجاتا ہے جبکہ گزشتہ سال بجٹ میں سپرہائی وے پرطبی سہولتوں کے لیے صحت کے مراکزقائم کرنے کا منصوبہ تیارکیاگیاتھا۔
اسپتال کی عمارت محکمہ صحت نے نوری آباد میں تعمیرکی ہے جس میں 30بسترمختص کیے گئے ہیں، تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت نے گزشتہ سال نوری آباد میں 30 بستروں پر مشتمل اسپتال بنانے کی اسکیم منظورکی تھی، اسپتال کی عمارت تو تیارکرلی گئی لیکن اسپتال کی ایس این ای سمیت دیگر سامان وآلات اوراسپتال میں ادویات کے لیے بجٹ مختص نہیں کیاجاسکالیکن محکمہ نے اسپتال کی عمارت کے افتتاح کا فیصلہ کرلیا اورآج نگراں وزیرصحت ڈاکٹر جنید علی شاہ اور سیکریٹری صحت اسپتال کا افتتاح کریں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں جامشورو اسپتال کے بعض ڈاکٹروںکوتعینات کیاگیا ہے لیکن ان ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ اسپتال میں نہ تو ادویات ہیں اوردیگر سامان بھی موجود نہیں صرف اسپتال کی عمارت کا افتتاح کیاجائیگا،واضح رہے کہ کراچی کے ٹول پلازہ اور جامشورو کے درمیان صحت کے مراکزقائم نہیں کیے جا سکے ،سپرہائی وے پر حادثات کی صورت میں متاثرین کوکراچی اسپتال منتقل کیاجاتا ہے جبکہ گزشتہ سال بجٹ میں سپرہائی وے پرطبی سہولتوں کے لیے صحت کے مراکزقائم کرنے کا منصوبہ تیارکیاگیاتھا۔