میٹرک کے امتحان کیلیے 4اسکولوں کو ہوم سینٹربنادیا گیا شرف الزماں
بعض امتحانی مراکز میں فرنیچر نہیں،ایک ڈیکس پر3بچے بیٹھ کرپرچہ حل کررہے ہیں.
2امتحانی مراکز ایسے بھی بنائے گئے جو فہرست میں موجود نہیں ہیں،پریس کانفرنس. فوٹو: فائل
TORONTO:
پرائیویٹ اسکولزمینجمنٹ ایسوسی ایشن کے رہنما شرف الزماں نے کہاہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت میٹرک کے جاری امتحانات کے دوران امتحانی مراکز میںبڑے پیمانے پر غیرقانونی ذرائع کے استعمال کے ساتھ نقل کا انکشاف ہواہے۔
یہ انکشاف بورڈکی جانب سے بنائی گئی ویجلنس ٹیم کے امتحانی مراکز کے دورے کے موقع پرہوا ہے، یہ بات انھوں نے جمعہ کومقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتائی ،شرف الزماں نے بتایاکہ ویجلنس کمیٹی کے دورے پر معلوم ہواہے کہ بورڈکے تحت کم از کم 4اسکولوں کے امتحانی مراکز کسی دوسرے اسکول میں قائم کیے جانے کے بجائے ''ہوم سینٹر''قائم کردیے گئے ہیں بورڈ کاعملہ نقل کرانے میں ملوث ہے ویجلنس کمیٹی نے یہ انکشافات سامنے آنے کے بعد اپنے امورسے استعفیٰ دے دیاہے۔
چیف جسٹس پاکستان ،گورنر ہائوس ،وزیراعلیٰ ہائوس اوربورڈ کے چیئرمین کے دفترمیں معاملے کی تحریری شکایت جمع کرادی گئی ہے،شرف الزمان نے بتایاکہ 4ایسے اسکولوں کا انکشاف ہواہے جوبن قاسم ،اسٹیل ،گڈاپ اورلانڈھی میں قائم ہیں ان کے امتحانی مراکز بھی ان ہی اسکولوں میں بنادیے گئے ہیں ،انھوں نے مزید بتایاکہ لانڈھی کے امتحانی مراکز میں بغیرٹیبل کے فرنیچرفراہم کیا گیا بچے پیر پرکاپی رکھ کر پرچے حل کررہے تھے، راہداری میں بچوں کو بٹھا کر پرچے حل کرائے جارہے ہیں، ایک ڈیکس پر3بچے بیٹھ کرپرچے حل کررہے ہیں۔
2امتحانی مراکز ایسے بھی بنائے گئے ہیں جو دی گئی فہرست میں موجود نہیں ہیں جب سینٹرسپریٹنڈنٹ سے پوچھاتومعلوم ہواکہ یہ امتحانی مرکز امتحان شروع ہونے کے بعد بنائے گئے ہیں ،سینٹر سپرنٹنڈٹ کے اپنے اسکول کے بچے امتحانی مرکز میں پرچے حل کررہے تھے جبکہ بلیک بورڈ پرحل پرچہ لکھا ہواتھا، سینٹرسپریٹنڈنٹ نے بتایاکہ بورڈانتظامیہ کے علم میں یہ سارامعاملہ ہے بورڈکا ڈپٹی کنٹرولر عبدالرزاق ڈیپر بھی وہاں موجود تھا ،استفسار پر عبدالرزاق ڈیپر نے بتایاکہ بورڈ حکام کے احکامات پر ایسا کیا گیا ہے ۔
پرائیویٹ اسکولزمینجمنٹ ایسوسی ایشن کے رہنما شرف الزماں نے کہاہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت میٹرک کے جاری امتحانات کے دوران امتحانی مراکز میںبڑے پیمانے پر غیرقانونی ذرائع کے استعمال کے ساتھ نقل کا انکشاف ہواہے۔
یہ انکشاف بورڈکی جانب سے بنائی گئی ویجلنس ٹیم کے امتحانی مراکز کے دورے کے موقع پرہوا ہے، یہ بات انھوں نے جمعہ کومقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتائی ،شرف الزماں نے بتایاکہ ویجلنس کمیٹی کے دورے پر معلوم ہواہے کہ بورڈکے تحت کم از کم 4اسکولوں کے امتحانی مراکز کسی دوسرے اسکول میں قائم کیے جانے کے بجائے ''ہوم سینٹر''قائم کردیے گئے ہیں بورڈ کاعملہ نقل کرانے میں ملوث ہے ویجلنس کمیٹی نے یہ انکشافات سامنے آنے کے بعد اپنے امورسے استعفیٰ دے دیاہے۔
چیف جسٹس پاکستان ،گورنر ہائوس ،وزیراعلیٰ ہائوس اوربورڈ کے چیئرمین کے دفترمیں معاملے کی تحریری شکایت جمع کرادی گئی ہے،شرف الزمان نے بتایاکہ 4ایسے اسکولوں کا انکشاف ہواہے جوبن قاسم ،اسٹیل ،گڈاپ اورلانڈھی میں قائم ہیں ان کے امتحانی مراکز بھی ان ہی اسکولوں میں بنادیے گئے ہیں ،انھوں نے مزید بتایاکہ لانڈھی کے امتحانی مراکز میں بغیرٹیبل کے فرنیچرفراہم کیا گیا بچے پیر پرکاپی رکھ کر پرچے حل کررہے تھے، راہداری میں بچوں کو بٹھا کر پرچے حل کرائے جارہے ہیں، ایک ڈیکس پر3بچے بیٹھ کرپرچے حل کررہے ہیں۔
2امتحانی مراکز ایسے بھی بنائے گئے ہیں جو دی گئی فہرست میں موجود نہیں ہیں جب سینٹرسپریٹنڈنٹ سے پوچھاتومعلوم ہواکہ یہ امتحانی مرکز امتحان شروع ہونے کے بعد بنائے گئے ہیں ،سینٹر سپرنٹنڈٹ کے اپنے اسکول کے بچے امتحانی مرکز میں پرچے حل کررہے تھے جبکہ بلیک بورڈ پرحل پرچہ لکھا ہواتھا، سینٹرسپریٹنڈنٹ نے بتایاکہ بورڈانتظامیہ کے علم میں یہ سارامعاملہ ہے بورڈکا ڈپٹی کنٹرولر عبدالرزاق ڈیپر بھی وہاں موجود تھا ،استفسار پر عبدالرزاق ڈیپر نے بتایاکہ بورڈ حکام کے احکامات پر ایسا کیا گیا ہے ۔