مشرف گھر سے پولیس ہیڈ کوارٹر منتقل غداری کا مقدمہ چلایا جائے سینیٹ کی متفقہ قرارداد
سابق صدرکیخلاف مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ7 شامل کرکے کل عدالت میں پیش کیا جائے
سابق صدرکیخلاف مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ7 شامل کرکے کل عدالت میں پیش کیا جائے فوٹو: فائل
KARACHI/SUKKUR/HYDERABAD:
سینیٹ نے ایک بار پھر جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے اور آئین کو پامال کرنے کے جرم میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل6 کے تحت مقدمہ چلانے اور تمام سرکاری عمارتوں سے ان کی تصاویر ہٹانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی جبکہ ارکان نے پرویزمشرف کو جیل نہ بھجوانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب کوآڑے ہاتھوں لیا۔
جمعے کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا، قائد حزب اختلاف اور (ن) لیگ کے سینئر رہنما اسحق ڈار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے جمہوریت کو پٹڑی سے اتارا، آئین کو پامال کیا، ججوں کونظر بندکیا، بے نظیر اوراکبر بگٹی کے قتل کے واقعات میں ملوث ہے، گزشتہ برس23 جنوری کو اس ایوان نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ پرویز مشرف کو پاکستان آمدپرگرفتارکرکے آرٹیکل6 کے تحت کارروائی کی جائے، آج کی قرارداد کوسابقہ قرارداد سے منسک کرکے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل6 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کی تصاویر تمام سرکاری عمارتوں سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
ثنا نیوز کے مطابق ایوان نے قرارداد منظور کرکے عملدرآمد کیلیے نگراں حکومت کو بھجوا دی۔ نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب نے ایوان میں آمد کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے پرویز مشرف کے فرار کے واقعے پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق فوجی حکمراں کو گرفتار کیا گیا ہے، راہداری ریمانڈ پر عدالت نے ان کے گھر کو سب جیل قرار دیا ہے، ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ مزید کارروائی بھی قانون کے مطابق ہو گی۔ اس پر ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص سنگین جرائم میں ملوث ہے، اس کیساتھ وی آئی پی سلوک دہرے قانون کا واضح ثبوت ہے۔
رضا ربانی نے کہاکہ ذوالفقار بھٹو اور میاں نواز شریف جیلوں میں جاسکتے ہیں تو مشرف کیوں نہیں ۔ فرحت اﷲ بابر نے کہاکہ ایوان کو بتایا جائے فارم ہائوس کوسب جیل قرار دینے کا فیصلہ کس کا تھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ مشرف کی گرفتار نمائشی ہے۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کا ٹرائل کرنا ہے تو اڈیالہ جیل بھجوایا جائے، انھیں سگار کا ڈبہ ہم بھجوا دیں گے، ہمیں خدشہ ہے انھیں بھگا نہ دیا جائے۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ نگراں حکومت نے مشرف سے کوئی امتیازی سلوک کیا تو یہ بدنما تاریخ ہو گی۔ زاہد خان نے کہا کہ میاں نواز شریف کو اٹک جیل کے جس تہہ خانے میں رکھاگیا تھا ، پرویز مشرف کو بھی وہاں رکھا جائے جہاں انھیں بچھو اور سانپ کاٹیں۔ چیئرمین نیئر حسین بخاری نے رولنگ دی کہ نگراں حکومت پرویز مشرف کے معاملے پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
سینیٹ نے ایک بار پھر جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے اور آئین کو پامال کرنے کے جرم میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل6 کے تحت مقدمہ چلانے اور تمام سرکاری عمارتوں سے ان کی تصاویر ہٹانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی جبکہ ارکان نے پرویزمشرف کو جیل نہ بھجوانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب کوآڑے ہاتھوں لیا۔
جمعے کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا، قائد حزب اختلاف اور (ن) لیگ کے سینئر رہنما اسحق ڈار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے جمہوریت کو پٹڑی سے اتارا، آئین کو پامال کیا، ججوں کونظر بندکیا، بے نظیر اوراکبر بگٹی کے قتل کے واقعات میں ملوث ہے، گزشتہ برس23 جنوری کو اس ایوان نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ پرویز مشرف کو پاکستان آمدپرگرفتارکرکے آرٹیکل6 کے تحت کارروائی کی جائے، آج کی قرارداد کوسابقہ قرارداد سے منسک کرکے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل6 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کی تصاویر تمام سرکاری عمارتوں سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
ثنا نیوز کے مطابق ایوان نے قرارداد منظور کرکے عملدرآمد کیلیے نگراں حکومت کو بھجوا دی۔ نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب نے ایوان میں آمد کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے پرویز مشرف کے فرار کے واقعے پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق فوجی حکمراں کو گرفتار کیا گیا ہے، راہداری ریمانڈ پر عدالت نے ان کے گھر کو سب جیل قرار دیا ہے، ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ مزید کارروائی بھی قانون کے مطابق ہو گی۔ اس پر ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص سنگین جرائم میں ملوث ہے، اس کیساتھ وی آئی پی سلوک دہرے قانون کا واضح ثبوت ہے۔
رضا ربانی نے کہاکہ ذوالفقار بھٹو اور میاں نواز شریف جیلوں میں جاسکتے ہیں تو مشرف کیوں نہیں ۔ فرحت اﷲ بابر نے کہاکہ ایوان کو بتایا جائے فارم ہائوس کوسب جیل قرار دینے کا فیصلہ کس کا تھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ مشرف کی گرفتار نمائشی ہے۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کا ٹرائل کرنا ہے تو اڈیالہ جیل بھجوایا جائے، انھیں سگار کا ڈبہ ہم بھجوا دیں گے، ہمیں خدشہ ہے انھیں بھگا نہ دیا جائے۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ نگراں حکومت نے مشرف سے کوئی امتیازی سلوک کیا تو یہ بدنما تاریخ ہو گی۔ زاہد خان نے کہا کہ میاں نواز شریف کو اٹک جیل کے جس تہہ خانے میں رکھاگیا تھا ، پرویز مشرف کو بھی وہاں رکھا جائے جہاں انھیں بچھو اور سانپ کاٹیں۔ چیئرمین نیئر حسین بخاری نے رولنگ دی کہ نگراں حکومت پرویز مشرف کے معاملے پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔