’’ پاکستان بھارت جوہری ہتھیاراورانکا معیاربڑھارہے ہیں‘‘
ایسے حالات میں اضافہ ہوسکتاہے جن میں وہ انکے استعمال پرتیار ہوجائینگے،امریکی رپورٹ
ایسے حالات میں اضافہ ہوسکتاہے جن میں وہ انکے استعمال پرتیار ہوجائینگے،امریکی رپورٹ
بھارتی میڈیانے امریکی کانگریس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کے معیار کی بہتری اورتعدادمیں اضافہ کر رہے ہیں اور ایسے حالات میں اضافہ ہوسکتاہے جن میں دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں کے استعمال پرتیار ہوجائیں گے ۔
رپورٹ کے مطابق ایسا لگتاہے کہ بھارت کے جوہری ہتھیاروںمیں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پاکستان جوہری مواد کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ان ہتھیاروں کی ڈلیوری گاڑیوںکی بہتر ی پربھی کام کر رہا ہے۔ کانگریس کی ریسرچ سروس رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے معیار اور مقدار میں اضافے کے علاوہ ایسی صورتحال پیداکرسکتا ہے جس کے تحت جوہری ہتھیاروںکے استعمال پر تیارہو جائے۔
امریکی قانون سازوں کے لیے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام بنیادی طور پربھارتی جارحیت کے مقابلے کیلیے ہے، بھارت اپنے جوہری پروگرام کو قابل بھروسہ ڈیٹرینس خیال کرتا ہے مگر اس کی کبھی وضاحت نہیں کی،اس نے سی ٹی بی ٹی پردستخط کرنے سے انکارکر دیا۔نجی ٹی وی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے بتایاکہ پاکستانی حکام کے مطابق جوہری ہتھیاروں میں ممکنہ بھارتی منصوبے کے جواب میں پاکستان کو بھی نمایاں اضافہ کرنا پڑسکتا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم کرنے کے علاوہ بھارتی روایتی فوجی آپریشنز کے مقابلے میں پاکستان اپنے جوہری ڈیٹرینس کی صلاحیت میں اضافے کے لیے غیراسٹرٹیجک جوہری ہتھیاروں کواستعمال کرنے پر بھی غورکر سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں میں موجودہ اضافہ کسی حد تک 2008 کے امریکا، بھارت جوہری تعاون کے معاہدے کاجواب ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسا لگتاہے کہ بھارت کے جوہری ہتھیاروںمیں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پاکستان جوہری مواد کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ان ہتھیاروں کی ڈلیوری گاڑیوںکی بہتر ی پربھی کام کر رہا ہے۔ کانگریس کی ریسرچ سروس رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے معیار اور مقدار میں اضافے کے علاوہ ایسی صورتحال پیداکرسکتا ہے جس کے تحت جوہری ہتھیاروںکے استعمال پر تیارہو جائے۔
امریکی قانون سازوں کے لیے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام بنیادی طور پربھارتی جارحیت کے مقابلے کیلیے ہے، بھارت اپنے جوہری پروگرام کو قابل بھروسہ ڈیٹرینس خیال کرتا ہے مگر اس کی کبھی وضاحت نہیں کی،اس نے سی ٹی بی ٹی پردستخط کرنے سے انکارکر دیا۔نجی ٹی وی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے بتایاکہ پاکستانی حکام کے مطابق جوہری ہتھیاروں میں ممکنہ بھارتی منصوبے کے جواب میں پاکستان کو بھی نمایاں اضافہ کرنا پڑسکتا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم کرنے کے علاوہ بھارتی روایتی فوجی آپریشنز کے مقابلے میں پاکستان اپنے جوہری ڈیٹرینس کی صلاحیت میں اضافے کے لیے غیراسٹرٹیجک جوہری ہتھیاروں کواستعمال کرنے پر بھی غورکر سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں میں موجودہ اضافہ کسی حد تک 2008 کے امریکا، بھارت جوہری تعاون کے معاہدے کاجواب ہے۔