پرویز مشرف نے عدالت میں خود گرفتاری دی ترجمان اے پی ایم ایل
اے پی ایم ایل سابق صدر کو پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی تردید کرتی ہے۔
اے پی ایم ایل سابق صدر کو پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی تردید کرتی ہے۔ فوٹو: وکی پیڈیا/فائل
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی گرفتاری کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر امجد نے کہا ہے کہ سابق صدر کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے خود رضاکارانہ طورپرگرفتاری دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کی گرفتاری کے باوجود اے پی ایم ایل آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔جمعے کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میڈیا میں سابق صدر کیخلاف بہت کچھ آ رہا ہے تاہم اے پی ایم ایل سابق صدر کو پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی تردید کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ روز سابق صدر کی رہائش گاہ پر اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ پرویز مشرف عدالتی فیصلے کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے عدالت میں گرفتاری دیں گے اور ایسا ہی کیا گیا، انھیں پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ انہوں نے عدالت میں خودگرفتاری دی۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے پرویز مشرف کا دو روزہ عبوری ریمانڈ دے کر 48 گھنٹوں کے لیے ان کے فارم ہائوس کو سب جیل قرار دیا ہے اور سابق صدرآئندہ 2 روز وہاں قیام کے دو ران تھانہ سیکریٹریٹ کی تفتیشی ٹیم کے ہمراہ تفتیش کا حصہ رہیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ سابق صدر تفتیشی عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اے پی ایم ایل کا موقف ہے کہ سابق صدر نے ججز کو نظر بند کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اورپرویز مشرف انسداد دہشتگردی کی عدالت سمیت تمام عدالتوں میں پیش ہونے کو تیارہیں۔
انھوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کی گرفتاری کے باوجود اے پی ایم ایل آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔جمعے کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میڈیا میں سابق صدر کیخلاف بہت کچھ آ رہا ہے تاہم اے پی ایم ایل سابق صدر کو پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی تردید کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ روز سابق صدر کی رہائش گاہ پر اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ پرویز مشرف عدالتی فیصلے کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے عدالت میں گرفتاری دیں گے اور ایسا ہی کیا گیا، انھیں پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ انہوں نے عدالت میں خودگرفتاری دی۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے پرویز مشرف کا دو روزہ عبوری ریمانڈ دے کر 48 گھنٹوں کے لیے ان کے فارم ہائوس کو سب جیل قرار دیا ہے اور سابق صدرآئندہ 2 روز وہاں قیام کے دو ران تھانہ سیکریٹریٹ کی تفتیشی ٹیم کے ہمراہ تفتیش کا حصہ رہیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ سابق صدر تفتیشی عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اے پی ایم ایل کا موقف ہے کہ سابق صدر نے ججز کو نظر بند کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اورپرویز مشرف انسداد دہشتگردی کی عدالت سمیت تمام عدالتوں میں پیش ہونے کو تیارہیں۔