امریکی سفارتخانہ کی خونبار منتقلی
امریکا کے کتنے صدور مشرق وسطیٰ میں امن اور فلسطینی دو قومی ریاست کا وعدہ کر کے مکرتے رہے
امریکا کے کتنے صدور مشرق وسطیٰ میں امن اور فلسطینی دو قومی ریاست کا وعدہ کر کے مکرتے رہے۔فوٹو: فائل
امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی نے فلسطینیوں کے زخم پھر سے ہرے کردیے جب کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی آڑ میں ٹرمپ کی مہم جوئی کے باعث افتتاحی تقریب خونریز داستان میں بدل گئی۔ اسرائیلی فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے52 فلسطینیوں کو شہید کردیا جب کہ آنسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں سے2ہزار سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے موقعے پر غزہ میں حالات نہایت کشیدہ ہو گئے۔ امریکا کی جانب سے سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی سے غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا۔ میڈیا کے مطابق گریٹ مارچ آف ریٹرن میں شرکت کے لیے فلسطینیوں کی بڑی تعداد غزہ میں موجود تھی جس نے اسرائیل کے قیام کی70 سال مکمل ہونے پراحتجاج کیا۔ فلسطینیوں کی جانب سے آج''یومِ نکبہ'' منایا گیا ، قابض اسرائیلی فوج نے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحافیوں کو بھی استثنیٰ نہیں دیا۔ اسرائیل نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے 86 ملکوں کے سفرا کودعوت دی تھی لیکن صرف 33 ملکوں کو سفیر شریک ہوئے جب کہ 53نے تقریب میں شرکت نہیں۔ تقریب میں امریکی صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اورداماد جیرارڈ کوشنر نے بھی شرکت کی۔ ایوانکا ٹرمپ اور امریکی محکمہ خزانہ کے وزیر سٹیو منوچن نے سفارتخانے کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تقریب سے خطاب میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ملکوں کو اپنے سفارتخانے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی دعوت دی۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی درست اقدام ہے اور اس سے امن قائم ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی پر وڈیو بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک بریفنگ نوٹ جاری کیا ہے ، وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا اب بھی فلسطینیوں اور اسرائیلوں کے ساتھ مل کر امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کھولنے سے مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا۔
امریکی انتظامیہ نے بیت المقدس میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مسترد کر کے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں ہلاکتوں کے سوگ میں ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے ادھر امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی پر پاکستان سمیت عالمی برادری کی طرف سے بھی رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان نے امریکا کی جانب سے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مخالفت کے باوجود امریکا کی طرف سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان فلسطین کی عوام اور ان کی حقوق کے لیے ساتھ کھڑا ہے پاکستان نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے مسئلہ بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق منصفانہ طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
لیکن واشگاف سچ تو یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین تاریخ کا ایک خونیں باب ہے اور ایک ایسی سرفروشانہ غلیل بردار عوامی جدو جہد جس نے دنیا بھر کے انقلابی رہنماؤں ، سربراہان حکومت ، دانشوروں، سائنسدانوں ، فلسفیوں، سیاسی مدبرین اور حریت پسندوں کے قلب و ذہن کو عشروں تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا، آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ یہ دیکھ کر میرے لیے اس سے زیادہ صدمہ کی بات کوئی اور نہ ہوگی کہ فلسطینی عربوں کے ساتھ صہیونیت کے علمبردار وہی سلوک کریں جو نازیوں نے یہودیوں سے کیا تھا، تنظیم آزادی فلسطین کے سربراہ یاسر عرفات نے اقوام متحدہ میں عالمی ضمیر سے اپیل کی تھی کہ ان کے ہاتھ سے زیتون کی شاخ نہ گرنے دیں، وہ کہتے رہے کہ فلسطین عرب اتحاد کے لیے سیمنٹ اور اس کو ریزہ ریزہ کرنے والا بارود بھی ہوگا ۔
امریکا کے کتنے صدور مشرق وسطیٰ میں امن اور فلسطینی دو قومی ریاست کا وعدہ کر کے مکرتے رہے، آج فلسطینوں کی جدوجہد آزادی اپنوں کی بے وفائی، سپرپاورز کی منافقت اور عالمی برادری کی سنگدلی اور مصلحت اندیشی کا دردناک قتل نامہ ہے جس پر درجنوں فلسطین دشمنوں کے نام سر محضر لکھے ہوئے ہیں، مسلم دنیا ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ بازعقابوں کے نئے عزائم سے خبردار رہے، اسرائیل ، امریکا اب سعودی عرب کو بھی عرب و عجم تصادم کے قریب لانے کی گھناؤنی سازشوں کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف ہے، پہلے ایران جوہری معاہدہ کو تارپیڈو کیا گیا اور اب ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا جارحانہ مقصد مشرق وسطیٰ میں پیراڈائم شفٹ کی تیاریاں ہیں، بارک اوباما اسرائیل و فلسطین کے دو ریاستی حل کے قریب پہنچ چکے تھے، مگر اسرائیلی لابی نے ہمیشہ فلسطینی کاز کو سبوتاژ کیا ۔گزشتہ چند برسوں میں غزہ کے عوام پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ تاریخ کی اندوہ ناک بربریت ہے۔خدارا عالم اسلام فلسطینیوں کو تنہا نہ چھوڑے۔
سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے موقعے پر غزہ میں حالات نہایت کشیدہ ہو گئے۔ امریکا کی جانب سے سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی سے غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا۔ میڈیا کے مطابق گریٹ مارچ آف ریٹرن میں شرکت کے لیے فلسطینیوں کی بڑی تعداد غزہ میں موجود تھی جس نے اسرائیل کے قیام کی70 سال مکمل ہونے پراحتجاج کیا۔ فلسطینیوں کی جانب سے آج''یومِ نکبہ'' منایا گیا ، قابض اسرائیلی فوج نے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحافیوں کو بھی استثنیٰ نہیں دیا۔ اسرائیل نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے 86 ملکوں کے سفرا کودعوت دی تھی لیکن صرف 33 ملکوں کو سفیر شریک ہوئے جب کہ 53نے تقریب میں شرکت نہیں۔ تقریب میں امریکی صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اورداماد جیرارڈ کوشنر نے بھی شرکت کی۔ ایوانکا ٹرمپ اور امریکی محکمہ خزانہ کے وزیر سٹیو منوچن نے سفارتخانے کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تقریب سے خطاب میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ملکوں کو اپنے سفارتخانے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی دعوت دی۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی درست اقدام ہے اور اس سے امن قائم ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی پر وڈیو بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک بریفنگ نوٹ جاری کیا ہے ، وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا اب بھی فلسطینیوں اور اسرائیلوں کے ساتھ مل کر امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کھولنے سے مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا۔
امریکی انتظامیہ نے بیت المقدس میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مسترد کر کے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں ہلاکتوں کے سوگ میں ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے ادھر امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی پر پاکستان سمیت عالمی برادری کی طرف سے بھی رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان نے امریکا کی جانب سے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مخالفت کے باوجود امریکا کی طرف سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان فلسطین کی عوام اور ان کی حقوق کے لیے ساتھ کھڑا ہے پاکستان نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے مسئلہ بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق منصفانہ طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
لیکن واشگاف سچ تو یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین تاریخ کا ایک خونیں باب ہے اور ایک ایسی سرفروشانہ غلیل بردار عوامی جدو جہد جس نے دنیا بھر کے انقلابی رہنماؤں ، سربراہان حکومت ، دانشوروں، سائنسدانوں ، فلسفیوں، سیاسی مدبرین اور حریت پسندوں کے قلب و ذہن کو عشروں تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا، آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ یہ دیکھ کر میرے لیے اس سے زیادہ صدمہ کی بات کوئی اور نہ ہوگی کہ فلسطینی عربوں کے ساتھ صہیونیت کے علمبردار وہی سلوک کریں جو نازیوں نے یہودیوں سے کیا تھا، تنظیم آزادی فلسطین کے سربراہ یاسر عرفات نے اقوام متحدہ میں عالمی ضمیر سے اپیل کی تھی کہ ان کے ہاتھ سے زیتون کی شاخ نہ گرنے دیں، وہ کہتے رہے کہ فلسطین عرب اتحاد کے لیے سیمنٹ اور اس کو ریزہ ریزہ کرنے والا بارود بھی ہوگا ۔
امریکا کے کتنے صدور مشرق وسطیٰ میں امن اور فلسطینی دو قومی ریاست کا وعدہ کر کے مکرتے رہے، آج فلسطینوں کی جدوجہد آزادی اپنوں کی بے وفائی، سپرپاورز کی منافقت اور عالمی برادری کی سنگدلی اور مصلحت اندیشی کا دردناک قتل نامہ ہے جس پر درجنوں فلسطین دشمنوں کے نام سر محضر لکھے ہوئے ہیں، مسلم دنیا ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ بازعقابوں کے نئے عزائم سے خبردار رہے، اسرائیل ، امریکا اب سعودی عرب کو بھی عرب و عجم تصادم کے قریب لانے کی گھناؤنی سازشوں کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف ہے، پہلے ایران جوہری معاہدہ کو تارپیڈو کیا گیا اور اب ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا جارحانہ مقصد مشرق وسطیٰ میں پیراڈائم شفٹ کی تیاریاں ہیں، بارک اوباما اسرائیل و فلسطین کے دو ریاستی حل کے قریب پہنچ چکے تھے، مگر اسرائیلی لابی نے ہمیشہ فلسطینی کاز کو سبوتاژ کیا ۔گزشتہ چند برسوں میں غزہ کے عوام پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ تاریخ کی اندوہ ناک بربریت ہے۔خدارا عالم اسلام فلسطینیوں کو تنہا نہ چھوڑے۔