طاہر محمود کو قائم مقام چیئرمین ایس ای سی پی بنانے کا فیصلہ

وزیراعظم نے سمری کی منظوری دیدی،طاقتور بروکرز لابی نوٹیفکیشن کے اجرا میں حائل

وزارت خزانہ حکام نے دباؤ قبول نہ کیا تو کل نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے، ذرائع فوٹو: فائل

KARACHI:
وزیراعظم نے ایس ای سی پی کے سینئر ترین کمشنر طاہر محمود کو نگران چیئرمین ایس ای سی پی لگانے کی سمری منظوری دیدی ہے جبکہ طاقتور لابی نے وزارت خزانہ سے نوٹیفکیشن رکوادیا جس کے باعث وزیراعظم کی منظوری کے باوجود تاحال وزارت خزانہ کی طرف سے ایس ای سی پے کے نگران چیئرمین کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کراچی اسٹاک مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے بروکرز کاگروپ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) میں اپنی مرضی کا چیئرمین لگوانے کے لیے متحرک ہیں اور وزیر اعظم کی منظوری کے باوجود وزارت خزانہ کی جانب سے نگران چیئرمین کی تعیناتی کے لیے نوٹیفیکیشن کو رکوانے کیلیے اثرورسوخ اور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین محمد علی کی برطرفی کے بعد وزارت خزانہ نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ایس ای سی پی کے سینئر ترین کمشنر طاہر محمود کو نگران چیئرمین لگانے کی سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی تھی جو وزیر اعظم کی منظوری کے بعد گزشتہ ہفتے ہی وزارت خزانہ کو ارسال کر دی گئی تاہم وزارت خزانہ پر بعض حلقوں کی جانب سے طاہر محمودکو نگران چیئرمین تعینات کرنے کے نوٹیفکیشن کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین محمد علی کی تعیناتی کو عدالت عظمی نے اس بنیاد پر منسوخ قرار دے دیا تھا کہ چئیرمین تعینات ہونے سے قبل وہ ایک مشہور بروکریج کمپنی میں ڈائریکٹر تھے اور چیئرمین تعینات ہونے کے بعد انھوں نے ایسے فیصلے کیے جس سے اسٹاک مارکیٹ کے بروکروں کو فائدہ پہنچا۔سابق چیئرمین محمد علی نے اپنے دور میں سال 2008 میں اسٹاک مارکیٹ کریش کی تحقیقات کا حکم بھی دیا۔

ذرائع کے مطابق محمد علی اسٹاک مارکیٹ کریش تحقیقات میں ایک مخصوض بروکریج کمپنی کو بچانا چاہتے تھے لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی انھیں سپریم کورٹ کے حکم سے فارغ کر دیا گیا، اسٹاک مارکیٹ کا وہی بروکرز مافیا دوبارہ سے نگران چیئرمین کا چارج اپنے من پسند کمشنرز کو دلوانا چاہتا ہے اور پریزیڈنٹ ہاؤس کے ذریعے اثر و رسوخ استعمال کیا جا رہا ہے۔




ذرائع کے مطابق بروکرز کا گروپ ایس ای سی پی کے چیئرمین کی پوزیشن اپنے ہاتھ میں رکھ کر اوگرا کیس اور اسٹاک مارکیٹ کریش کی تحقیقات پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق قانون اور میرٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے وزارت خزانہ نے قائم مقام چیئرمین ایس ای سی پی کیلیے طاہر محمود کا نام تجویز کیا اور سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی، طاہر محمود ایس ای سی پی کے سب سے سینئر کمشنر ہیں اور وہ ایس ای سی پی کے ان کمشنرز گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں ایس ای سی پی کے ملازمین میں سے تعینات کیا جاتا ہے۔

طاہر محمود ایس ای سی پی کے ریگولر افسر ہیں جنھوں نے 1989 میں فیڈرل سروس کمیشن کے ذریعے بطور گریڈ 18 افسر کے کمپنی لا اتھارٹی میں شمولیت اختیار کی اور وہ کمپنی لا اتھارٹی اور ایس ای سی پی میں کام کا 25 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔

ایسی ہی صورتحال میں جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو علی ارشد حکیم کی تعیناتی کو منسوخ قرار دے دیا تو وزارت خزانہ نے سینیارٹی اورمیرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو انصر جاوید کو چیئرمین تعینات کر دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وزارت خزانہ کے اعلی حکام بروکرز مافیا کے دباؤ میں نہ آئے تو پیر کو طاہر محمود کی چیئرمین ایس ای سی پی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
Load Next Story