صابن ساز صنعت کے تحفظات متنازع ایس آر اوز پر نظرثانی کا فیصلہ

نئے مالی سال کے بجٹ میں صابن ساز انڈسٹری کی تجاویز کو شامل کرنے پر بھی غور

سوپ مینوفیکچررز نے ایف بی آر سے درآمدی خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا، ذرائع فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے صابن ساز انڈسٹری کے تحفظات دور کرنے کے لیے تمام متنازع ایس آر اوز پر نظر ثانی کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں صابن ساز انڈسٹری کی تجاویز کو شامل کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی طرف سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے بذریعہ خط درخواست کی گئی ہے کہ صابن ساز انڈسٹری کو درپیش مسائل حل کیے جائیں اور صابن مینوفیکچررز و ایکسپورٹرز کے لیے خام مال کی درآمد پر عائد کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کیا جائے کیونکہ کمرشل امپورٹرز اور مینوفیکچررز و ایکسپورٹرز کے لیے خام مال کی درآمد پر 5 فیصد کی یکساں شرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ غیر منصفانہ ہے اور اس سے صابن مینوفیکچررز متاثر ہورہے ہیں۔

لیٹر میں کہا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں ڈیڑھ سو سے زائد صابن مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں جو ایک آرگنائزڈ سیکٹر کے طور پر کام کررہے ہیں اور صابن مینوفیکچرنگ انڈسٹری ٹیکسوں کی مد میں بھاری رقم قومی خزانے میں جمع کرارہی ہے، اس کے علاوہ صابن مینوفیکچرنگ انڈسٹری نے ڈھائی لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیٹرکے مطابق ایف بی آر کی طرف سے 31 دسمبر 2012 کے بعد سے جاری کردہ متنازع ایس آر اوز اس انڈسٹری کیلیے نقصان کا سبب بن رہے ہیں اور سوپ مینوفیکچررز کے لیے کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، سوپ مینوفیکچررز اپنا سرمایہ دوسرے ممالک میں منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔




ایف بی آر نے 14 فروری 2013 کو سیلز ٹیکس کے جاری کردہ متنازع ایس آر او نمبر 98(I)/2013 کے تحت اسپیشل پروسیجرز(ود ہولڈنگ) رولز 2007 میں ترمیم کرکے برآمد کنندگان کو بھی ود ہولڈنگ ایجنٹ قرار دیا، اس سے برآمد کنندگان کا پیپر ورک بڑھ گیا خاص طور پر ایس ایم ایزبرآمد پر فوکس کرنے کے بجائے اس پیپر ورک میں الجھ کر رہ گئی ہیں، اسی 26 فروری کو جاری کردہ متنازع ایس آر او140(I)/201کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 53 کی ذیلی سیکشن 2 میں ترامیم کی گئی جس کے تحت کمرشل امپورٹرز اور برآمد کنندگان و مینوفیکچررز کے لیے خام مال کی درآمد پر5 فیصد کی یکساں شرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل برآمد کنندگان و مینوفیکچررز کے لیے خام مال کی درآمد پر 3 فیصد اور کمرشل امپورٹرز کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد تھی۔

لیٹر میں کہا گیا کہ مذکورہ متنازع ایس آر اوز کے باعث صابن ساز انڈسٹری بری طرح متاثر ہورہی ہے لہٰذا چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ ہے کہ یہ متنازع ایس آر اوز فوری واپس لیے جائیں۔ اس بارے میں ایف بی آر حکام نے رابطہ کرنے پربتایا کہ وہ ان ایس آر اوز کو فوری طور پر واپس نہیں لے سکتے البتہ بجٹ سازی کا عمل جاری ہے اس میں ان ایس آر اوز کا جائزہ لیا جائیگا اور اگر ضروری ہوا توترامیم کردی جائیں گی، اس کے علاوہ سوپ مینوفیکچررز کی بجٹ تجاویز کابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
Load Next Story