سبزی منڈی میں قبضہ مافیا کی اجارہ داری تاجروں کی جان و مال کو خطرہ

چھپرا ہوٹلوں میں بیٹھے جرائم پیشہ افرادتاجروں کی ریکی کرکے ہراساں کرنے لگے،تاجروں کاآپریشن کا مطالبہ۔

منڈی کی خالی ارا ضی پر دکانیں قائم ،چھپرا ہوٹلوں میں بیٹھے جرائم پیشہ افرادتاجروں کی ریکی کرکے ہراساں کرنے لگے،تاجروں کاآپریشن کا مطالبہ. فوٹو: راشد اجمیری

سبزی منڈی میں قبضہ مافیا کی عمل داری قائم ہوگئی ،رینجرز کی سرگرمیاں محدود ہونے سے سرکاری رٹ کمزورہوگئی ۔

جس سے منڈی میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور، آڑھتی، ٹرانسپورٹرز اور شہر سے پھل سبزی خریدنے کے لیے منڈی کا رخ کرنے والے تاجروں کی جان و مال کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں، منڈی کے تاجروں نے قبضہ مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن اور رینجرز کی نفری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے،کراچی کی سبزی منڈی ایشیا کی سب سے بڑی منڈی مانی جاتی ہے۔

جہاں سے کراچی کے دو کروڑ سے زائد صارفین کے لیے پھل اور سبزیوں کی طلب پوری کرنے کے ساتھ 500ملین ڈالر کے پھل اور سبزیاں برآمد بھی کیے جاتے ہیں تاہم منڈی میں تعینات سرکاری عملے اور قبضہ مافیا کی ملی بھگت سے منڈی کے اہم راستوں اور سڑکوں پر تجاوزات کی بھرمار ہے اور روز بہ روز غیرقانونی تعمیرات اور قبضے میں شدت آرہی ہے۔

منڈی میں پولیس چوکی کے انچارج ریاض اعوان اورمارکیٹ کمیٹی کے اینٹی انکروچمنٹ سیل کے رکن اعظم کاکڑ اورمنڈی کے بعض نام نہاد تاجر رہنماؤں کی ملی بھگت سے منڈی کے خالی رقبے اور سڑکوں پر قبضہ جاری ہے،منڈی میں ہرقسم کی تعمیرات اور تعمیراتی میٹریل کے داخلے پر منڈی میں مارکیٹ کمیٹی کا اینٹی انکروچمنٹ عملہ اور چوکی انچارج غیرقانونی تعمیرات پر پابندی کے باوجود منڈی میں تعمیراتی میٹریل کے ٹرک رشوت لے کر چھوڑے جارہے ہیں اور تجاوزات کے ذریعے لاکھوں روپے ماہانہ رشوت کمارہا ہے۔




منڈی میں غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کرنے والے تاجر اپنی دکانوں کے سامنے مین روڈ پر شامیانے لگاکر سڑک بند کرکے کرایہ وصول کررہے ہیں اسی طرح منڈی کی خالی ارا ضی گھیر کر ناجائز دکانیں قائم کرکے لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ وصول کیا جارہا ہے،منڈی میں سیکیورٹی کی صورتحال بھی انتہائی مخدوش ہے جگہ جگہ بنائے گئے چھپر ہوٹل جرائم پیشہ افرادکی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں جہاں بیٹھ کر جرائم پیشہ افراد تاجروں کی ریکی کرتے اور شام ڈھلتے ہی انہیں نشانہ بناتے ہیں۔

منڈی کی حفاظت کے لیے تعینات کردہ رینجرز کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی آگئی ہے جس سے مسائل میں مزید اضافہ ہورہا ہے ،ذرائع نے بتایا کہ 2کروڑ کی آبادی کی ضرورت پوری کرنے والی ایشیاء کی سب سے بڑی منڈی کی حفاظت کے لیے 13پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں سے 8پولیس اہلکار منڈی میں قائم بینکوں کی حفاظت کررہے ہیں جس کے لیے چوکی انچارج بینکوں سے فی سپاہی 15سے 18ہزار روپے وصول کررہا ہے۔

منڈی کے حقیقی تاجروں نے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ منڈی کو سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں منڈی کی سیکیورٹی کے لیے تاجروں کے تجویز کردہ منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے منڈی کی سیکیورٹی کے امور منڈی کے تاجروں کی مشاورت سے طے کیے جائیں رینجرز کی نفری بڑھائی جائے اور قبضہ مافیا کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاؤن شروع کیا
Load Next Story