نوازشریف کی الزام تراشی قابل مذمت ہے صدارتی ترجمان

جھوٹے الزامات سے صدرکو سیاست میں الجھانا عدالتی احکام کے منافی ہے،فرحت اللہ

جھوٹے الزامات سے صدرکو سیاست میں الجھانا عدالتی احکام کے منافی ہے،فرحت اللہ. فوٹو : فائل

صدارتی ترجمان فرحت اﷲ بابر نے صدرمملکت کے خلاف نوازشریف کی الزام تراشی کی مذمت کی ہے اور واضح کیاہے کہ مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے صدر مملکت سیاسی سرگرمیوں یا سیاسی بیان بازی میں شامل نہیں ہوسکتے۔

اگرچہ میاں صاحب کے الزامات کامئوثر جواب دینے کیلیے کافی موادموجود ہے تاہم صدرمملکت اعلیٰ ترین منصب کے احترام کے پیش نظر الزام تراشی کابراہ راست جواب دینے سے گریزکرینگے۔ انھوں نے کہاکہ جھوٹے اور سیاسی مفاد پر مبنی الزامات کا مقصد صدرکو سیاست میں الجھانا ہے جو عدالتی احکام کے منافی ہے۔ صدرمملکت سیاسی سرگرمیوں میں الجھنے اورسیاسی بیان بازی سے گریز کریں گے۔ ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ اس کیساتھ ہی سیاسی رہنمائوںکوبھی صدر کو سیاسی مقابلہ میں الجھانے سے گریز اور عدالتی احکام کی روح کا احترام کرنا چاہیے۔

دوسری طرف بلاول ہائوس کے ترجمان نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلزپارٹی کی سابق جمہوری حکومت کا سب سے بڑا سماجی تحفظ فراہم کرنے کا ایک منفرد پروگرام ہے جس کے تحت ملک کے انتہائی غریب 70لاکھ خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔ اس پروگرام کی ساکھ شکوک و شبہات سے بالاتر ہے جس کی وجہ سے یو ایس ایڈ اور برطانوی ڈی آئی ایف ڈی نے اس پروگرام کیلیے بالترتیب 16کروڑ ڈالر اور 30کروڑ پاونڈ فراہم کیے ہیں ۔




انھوں نے ناقدین سے سوال کیا کہ اگر پروگرام احتساب اور تھرڈ پارٹی تصدیق کے معیار پر پورا نہ اترتا تو دوسرے ممالک اپنی عوام سے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کیلیے کیونکر فراہم کرتے ؟۔ پروگرام کے ناقدین سیاسی وجوہ کی بنا پر اسے ہدف تنقید بنا رہے ہیں جبکہ انھیں ان کروڑوں غریب لوگوں کا چنداں خیال نہیں ہے جو اس پروگرام کی بدولت دو وقت کی روٹی کے قابل ہورہے ہیں ۔ اگر یہ پروگرام بند ہوتا ہے تو کروڑوں لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔

علاوہ ازیں پروگرام کے تحت مالی امداد حاصل کرنے کیلیے شناختی کارڈ کی شرط ضروری تھی۔ اس لیے ڈھائی کروڑ خواتین نے ملک بھر سے اپنے شناختی کارڈ بنوائے ۔ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے سے آئندہ انتخابات میں ٹرن آئوٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
Load Next Story