فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری
بلاشبہ فاٹا اصلاحات بل پر جلد از جلد عملدرآمد وقت کا تقاضا ہے۔
بلاشبہ فاٹا اصلاحات بل پر جلد از جلد عملدرآمد وقت کا تقاضا ہے۔ فوٹو: فائل
وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحات بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری جمعرات کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔ بلاشبہ فاٹا اصلاحات بل پر جلد از جلد عملدرآمد وقت کا تقاضا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیے، فریقین سے مشاورت کے بعد اس سے متعلق ہوم ورک بھی مکمل کیا جاچکا ہے، ٹائم فریم پر تمام پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے قانونی ضروریات پوری اور قانون سازی جلد مکمل کی جانی چاہیے۔
یہ فاٹا اور پاکستان کے عوام کی ضرورت ہے لیکن ذرایع کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں یہ امکان معدوم ہوچکا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں فاٹا کے انضمام کا عمل مکمل ہوسکے۔ صائب ہوگا کہ اس عمل کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کیا جائے، نیز اس وسیع المقاصد اور قومی مفاد کے عمل کو کسی سیاسی چپقلش اور سیاسی مفاد کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کے لیے آئین کی 5 شقوں میں ترمیم کی تجویز قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں جمع کرا دی، جب کہ وزارت قانون کی طرف سے ایوان زیریں میں لائی گئی 30 ویں آئینی ترمیم میں صرف ایک شق 106 میں ترمیم تجویز کی گئی۔ 30 ویں آئینی ترمیم بل 2017 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں زیر بحث ہے۔
آرٹیکل 106 میں مجوزہ ترمیم سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں 23نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا جن میں 18جنرل، 4 خواتین کی مخصوص اور اقلیتوں کی ایک نشست شامل ہوگی۔ وزارت قانون کے مجوزہ فارمولے کے تحت فاٹا انضمام کے بعد صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 147 ہوجائے گی جن میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد 22 سے بڑھ کر 26 ہوجائے گی۔
جنرل نشستیں 124 سے بڑھ کر 147 ہوجائیں گی۔ دیکھا جائے تو سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کی منظوری کے بعد فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے لیکن سب سے اہم مرحلہ اس علاقے کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہوگا جس سے قبائلی علاقے بھی پاکستان کے آئین و قوانین کے تحت آجائیں گے۔
فاٹا اور خیبرپختونخوا میں تعمیر و ترقی اور سماجی تبدیلی کا عمل شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں جلد ضم کردیا جائے۔ قومی اسمبلی کو مذکورہ بل جلد منظور کرکے اس پر عمل درآمد شروع کرنا چاہیے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیے، فریقین سے مشاورت کے بعد اس سے متعلق ہوم ورک بھی مکمل کیا جاچکا ہے، ٹائم فریم پر تمام پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے قانونی ضروریات پوری اور قانون سازی جلد مکمل کی جانی چاہیے۔
یہ فاٹا اور پاکستان کے عوام کی ضرورت ہے لیکن ذرایع کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں یہ امکان معدوم ہوچکا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں فاٹا کے انضمام کا عمل مکمل ہوسکے۔ صائب ہوگا کہ اس عمل کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کیا جائے، نیز اس وسیع المقاصد اور قومی مفاد کے عمل کو کسی سیاسی چپقلش اور سیاسی مفاد کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کے لیے آئین کی 5 شقوں میں ترمیم کی تجویز قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں جمع کرا دی، جب کہ وزارت قانون کی طرف سے ایوان زیریں میں لائی گئی 30 ویں آئینی ترمیم میں صرف ایک شق 106 میں ترمیم تجویز کی گئی۔ 30 ویں آئینی ترمیم بل 2017 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں زیر بحث ہے۔
آرٹیکل 106 میں مجوزہ ترمیم سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں 23نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا جن میں 18جنرل، 4 خواتین کی مخصوص اور اقلیتوں کی ایک نشست شامل ہوگی۔ وزارت قانون کے مجوزہ فارمولے کے تحت فاٹا انضمام کے بعد صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 147 ہوجائے گی جن میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد 22 سے بڑھ کر 26 ہوجائے گی۔
جنرل نشستیں 124 سے بڑھ کر 147 ہوجائیں گی۔ دیکھا جائے تو سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کی منظوری کے بعد فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے لیکن سب سے اہم مرحلہ اس علاقے کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہوگا جس سے قبائلی علاقے بھی پاکستان کے آئین و قوانین کے تحت آجائیں گے۔
فاٹا اور خیبرپختونخوا میں تعمیر و ترقی اور سماجی تبدیلی کا عمل شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں جلد ضم کردیا جائے۔ قومی اسمبلی کو مذکورہ بل جلد منظور کرکے اس پر عمل درآمد شروع کرنا چاہیے۔