نوجوان پیسرز کو مختصر کیمپ سے فائدہ نہیں ہوگا عاقب

طویل المدتی منصوبہ درکار ہوگا، وسیم سے بہت سیکھا جاسکتا ہے، سابق کوچ۔

طویل المدتی منصوبہ درکار ہوگا، وسیم سے بہت سیکھا جاسکتا ہے، سابق کوچ. فوٹو: فائل

سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ نوجوان بولرز کو 10 روزہ کیمپ سے کچھ خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

نئے پیسرز کیلیے طویل المدتی بنیادوں پر تربیتی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے، وسیم اکرم کی رہنمائی سے فاسٹ بولرز بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے انٹرویو میں کیا۔ عاقب جاوید خود بھی پاکستان ٹیم کی بولنگ کوچ رہ چکے ان دنوں وہ متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں لگایا جانے والا کیمپ ان بولرز کے لیے ایک اچھا موقع ہے جنھیں اس میں مدعو کیا گیا ہے، انھیں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ اس طرح کے مواقع باربار نہیں ملتے، میں بولرز کو یہی مشورہ دوں گا کہ انھیں جو بتایا جارہا ہے وہ اسے احتیاط سے سنیں اور یاد رکھیں۔ عاقب جاوید نے کہا کہ ایک فاسٹ بولر کی فلاسفی اور کھیل کو صرف 10 روز میں تبدیل کردینا بہت مشکل ہے، یہ وسیم اکرم جیسے بولرز کے لیے بھی ممکن نہیں ہے، میں وسیم کے ساتھ اسی قسم کے کیمپ میں کام کرچکا جب میں بولنگ کوچ تھا۔


 



اس میں کوئی شک نہیں کہ وسیم بولرز کو ہر پہلوپر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں مگر سوال پھر بھی یہی ہے کہ ایک فاسٹ بولر کی حقیقی تربیت کے لیے کیا 10 روز کافی ہیں؟۔ انھوں نے کہا کہ وسیم اکرم کیمپ میں اچھی رہنمائی کرسکتے ہیں مگر بولرز کو حقیقت میں فائدہ اٹھانے کے لیے طویل المدتی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ان کی بنیادی چیزوں، رفتار، ایکوریسی اور گیند کو سوئنگ کرنے کی صلاحیت کو باقاعدگی سے جانچا جائے، اس کیمپ میں شریک وہ بولرز جو کہ پہلے سے ہی انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے انھیں فائدہ ہوسکتا ہے، انھیں کچھ تکنیکی مشورے مل جائیںگے۔
Load Next Story