حصص مارکیٹ میں زبردست تیزی 1096 پوائنٹس کا اضافہ
سیمنٹ، آٹو،کیمیکل، بینکنگ، انجینئرنگ، فرٹیلائزر، فوڈ، انشورنس سمیت بیشتر شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری
350میں سے280کمپنیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، مارکیٹ سرمائے میں 1کھرب76ارب روپے کا اضافہ، فوٹو: آن لائن/فائل
غیرملکیوں کی جانب سے سرمائے کے انخلا کا عمل رکنے اورانفرادی سرمایہ کاروں، انشورنس سیکٹر، انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے غیرمتوقع طور پر خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو مندی کا تسلسل ٹوٹ گیا اور تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی۔
جس سے انڈیکس کی42000 پوائنٹس سمیت کئی نفسیاتی حدیں بحال ہوگئیں، تیزی کے سبب80 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی1 کھرب76 ارب20کروڑ72لاکھ14 ہزار954 روپے کا اضافہ ہوگیا، ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ غیرملکیوں کی جانب سے بینکنگ سیکٹر میں ہونے والی فروخت کا تسلسل رکنے سے سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں نے کیپٹل مارکیٹ میں اپنی سرمایہ کاری دلچسپی بڑھادی خصوصاً انشورنس سیکٹر انسٹیٹیوشنز اور انفرادی سرمایہ کاروں نے خریداری سرگرمیاں بڑھادیں جبکہ کچھ دیگر شعبوں نے شارٹ سیلنگ کی کٹنگ بھی روک دی جسے سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن ہوا، سرمایہ کاروں نے سیمنٹ، آٹو،کیمیکل، بینکنگ، انجینئرنگ، فرٹیلائزر، فوڈ، انشورنس سمیت بیشتر شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کی جس سے ایک موقع پر 1122 پوائنٹس تک کی تیزی رونما ہوئی۔
لیکن اس دوران وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ اور حصص کی فروخت کے سبب تیزی کی مذکورہ شرح میں قدرے کمی ہوئی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس1096.17 پوائنٹس کے اضافے سے 42744.82 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 645.31 پوائنٹس بڑھ کر20980.69، کے ایم آئی30 انڈیکس 2336.05 پوائنٹس کے اضافے سے 72942.43 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 430.43 پوائنٹس بڑھ کر21354.49 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت59.22 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ8 لاکھ45 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار350 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں280 کے بھاؤ میں اضافہ، 58 کے داموں میں کمی اور12 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں پاکستان ٹوبیکو کے بھاؤ 70 روپے بڑھ کر2070 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ 39.04 روپے بڑھ کر 1501.04 روپے ہوگئے جبکہ سفائرٹیکسٹائل کے بھاؤ 72.03 روپے کم ہو کر 1550.91 روپے اور آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ54.99 روپے کم ہوکر1085 روپے ہو گئے۔
جس سے انڈیکس کی42000 پوائنٹس سمیت کئی نفسیاتی حدیں بحال ہوگئیں، تیزی کے سبب80 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی1 کھرب76 ارب20کروڑ72لاکھ14 ہزار954 روپے کا اضافہ ہوگیا، ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ غیرملکیوں کی جانب سے بینکنگ سیکٹر میں ہونے والی فروخت کا تسلسل رکنے سے سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں نے کیپٹل مارکیٹ میں اپنی سرمایہ کاری دلچسپی بڑھادی خصوصاً انشورنس سیکٹر انسٹیٹیوشنز اور انفرادی سرمایہ کاروں نے خریداری سرگرمیاں بڑھادیں جبکہ کچھ دیگر شعبوں نے شارٹ سیلنگ کی کٹنگ بھی روک دی جسے سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن ہوا، سرمایہ کاروں نے سیمنٹ، آٹو،کیمیکل، بینکنگ، انجینئرنگ، فرٹیلائزر، فوڈ، انشورنس سمیت بیشتر شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کی جس سے ایک موقع پر 1122 پوائنٹس تک کی تیزی رونما ہوئی۔
لیکن اس دوران وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ اور حصص کی فروخت کے سبب تیزی کی مذکورہ شرح میں قدرے کمی ہوئی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس1096.17 پوائنٹس کے اضافے سے 42744.82 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 645.31 پوائنٹس بڑھ کر20980.69، کے ایم آئی30 انڈیکس 2336.05 پوائنٹس کے اضافے سے 72942.43 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 430.43 پوائنٹس بڑھ کر21354.49 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت59.22 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ8 لاکھ45 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار350 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں280 کے بھاؤ میں اضافہ، 58 کے داموں میں کمی اور12 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں پاکستان ٹوبیکو کے بھاؤ 70 روپے بڑھ کر2070 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ 39.04 روپے بڑھ کر 1501.04 روپے ہوگئے جبکہ سفائرٹیکسٹائل کے بھاؤ 72.03 روپے کم ہو کر 1550.91 روپے اور آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ54.99 روپے کم ہوکر1085 روپے ہو گئے۔