جمود شکن فیصلوں کی گڑگڑاہٹ

ملکی تقدیر جمہوریت اور استبدادیت کے درمیاں تین سے زائد عشروں تک معلق رہی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ارشادات کو نئے تناظر میں قطعی سنجیدگی، سماجی و جمہوری معروضیت اور غیر جذباتی انداز میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدلیہ کسی کوغیرآئینی اورغیرجمہور ی اقدامات کی اجازت نہیں دے گی ،آج کی عدلیہ 2007ء والی عدلیہ نہیں جس نے عوامی حمایت سے غیرآئینی اقدامات کا راستہ روک دیا ہے،جج کسی شخص کو اس کے منصب کی وجہ سے رعایت نہیں دیتے، پاکستان ہرگز ترقی پذیر ملک نہیں، ہم ایٹمی طاقت ہیں ،صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے ذمے داری پوری کر نا سب کا فریضہ ہے۔

تین روزہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ منتخب حکومت کا اپنی آئینی مدت پوری کرنا خوش آئند اور یہ قوم کی بہت بڑی کامیابی ہے ، ملک میں عام انتخابات ہر حوالے سے صاف شفاف اور منصفانہ ہونے چاہئیں اور ہم سب کی ذمے داری ہے کہ اس ضمن میں اپنا فرض ادا کریں۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کانفرنس کا اعلامیہ جاری کیا اور کانفرنس میں شامل ملکی و غیر ملکی مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔

عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے منتخب حکومت کی آئینی میعاد کی جمہوری طریقے سے تکمیل، غیر آئینی اقدامات کے راستے بند کرنے اور آیندہ انتخابات کے شفاف ،اور منصفانہ ہونے کے حوالہ سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے کوئی بھی ذی شعور انسان جو جمہوریت اور آمریت کے بنیادی فرق سے واقف ہو اورملکی سیاسی تاریخ سے آگہی بھی رکھتا ہو وہ امر سے قطع نظرکہ سماجی ترقی کی فطری حرکیات کیا ہوتی ہیں جمہوریت کو اپنے دکھوں کا اصلی مداوا سمجھتا ہے اور یہ اس کا حق ہے کہ جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے آمریت کو مسترد کردے۔

چیف جسٹس نے پاکستان کے باشعورعوام کے اسی انداز نظر کی تائید کی ہے اور کسی طالع آزما کو برداشت نہ کرنے کا جو عندیہ دیا ہے وہ مستقبل کے مستحکم جمہوری اور عدالتی نظام کی نویدہے۔ جمہوری عمل کا تسلسل بلاشبہ ملک و قوم کے لیے ایک نعمت ہے اور آزاد عدلیہ، فعال اور احتساب پر مائل میڈیا اور عوام کو جوابدہ حکومت ملکی سیاست کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ قومی سیاست آج جس نازک موڑپر آپہنچی ہے اس میں قوم کو نہ صرف تبدیل ہوتا ہوا معاشرہ نظر آرہا ہے بلکہ اسٹیٹس کے دفن ہونے میں اب زیادہ دیر بھی نہیں لگنی چاہیے۔

یہ حقیقت تلخ سہی مگر ناقابل تردید ہے کہ ملکی تقدیر جمہوریت اور استبدادیت کے درمیاں تین سے زائد عشروں تک معلق رہی ہے اور جمہوریت پر شب خون مارنے اور منتخب حکومتوں کو پائے حقارت سے ٹھوکر مار کر وزرائے اعظم کو گھر بھجوانے کا عمل معمول بنالیا گیا تھا، گڈ گورننس کے فقدان کے حوالے سے عالمی برادری نے ہمیں ناکام ریاست اور کرپٹ ملک کے انڈیکس میں بار بار نمایاں کیا ۔ چنانچہ ایٹمی ملک ہونے کے باوجود عوام سماجی اور معاشی انحطاط سے دوچار رہے ۔تاہم اب عصری تقاضے کچھ اور ہوگئے ہیں ، سیاسی جماعتوں نے بھی بلوغت، وژن اور رواداری کے نئے انداز اپنا کر ملک کو نئے انتخابات کے دوارنیے میں پہنچا دیا ہے جس کا سہراعدلیہ، میڈیا ،الیکشن کمیشن اور پانچ سالہ میعاد پوری کرنے والی تاریخ کی پہلی منتخب جمہوری حکومت کو جاتا ہے ۔


چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ہمیں ایٹمی ملک کا درجہ حاصل ہے اس لیے اس کے غریب اور ترقی پذیر ہونے کے فرسودہ تاثر کو انھوں نے رد کیا ہے۔ اس ضمن میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ارشادات کو نئے تناظر میں قطعی سنجیدگی، سماجی و جمہوری معروضیت اور غیر جذباتی انداز میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برس میں عدلیہ نے آئین کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے لیکن معاشرے سے سماجی برائیوں کا خاتمہ ریاست کے دیگر اداروں کے سرگرم کردار کے بغیر ممکن نہیں،انصاف سے بڑھ کر کوئی خوبی نہیں یہی وہ خوبی ہے جو افراد اور اقوام کے درمیان امن اور ہم آہنگی کا ذریعہ ہے۔معاشرے سے ظلم اور جبر کے خاتمے میں آزاد عدلیہ کا کردار سب سے نمایا ں ہو تا ہے ۔

یہ حوالے ان تمام آزاد ، مہذب، جمہوری اور مستحکم حکمرانی کے آئینہ دار ملکوں کی یاد دلاتے ہیں جہاں انصاف اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔چیف جسٹس نے کہا اس میں دو رائے نہیں کہ قانون کی بالادستی قائم کرنے میں آزاد عدلیہ کا کردار سب سے نمایاں ہو تا ہے لیکن دوسری طرف انتظامیہ اور مقننہ پر لازم ہے کہ وہ آزاد عدلیہ کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ انتظامیہ اور مقننہ کے تعاون سے عدلیہ کو بنیاد انسانی حقوق کے اطلاق میں آسانی ہوتی ہے، آزاد عدلیہ آخری منزل نہیں یہ منزل کے حصول کے لیے ایک ذریعہ ہے ۔یہاںاپنے خطاب میں چیف جسٹس کی باتیں سیاسی مفکرین، تجزیہ کار اور آئینی امور پر دسترس رکھنے والوں کے لیے چشم کشا کا درجہ رکھتے ہیں۔ عدلیہ کی خود مختاری اور غیر جانبداری اصل منزل ہے۔

اسی منزل تک رسائی میں پاکستان کا عدالتی نظام جمہوریت کا پشت بانی کریگا تو کوئی طالع آزما عوام کی امنگوں کو مصلوب نہیں کرسکے گا۔یہ بھی درست ہے کہ عدلیہ کو عوام اور اداروں کا اعتماد حاصل ہے۔حالیہ برسوں میں سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں اور افراد کے جابرانہ اقدامات اور کرپشن، اغوا ، جبری گمشدگیوں ،ٹارگٹ کلنگ ،دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف سخت فیصلے دیئے ہیں لیکن جب تک ریاست کے دوسرے ادارے اپنا کردار ادا نہیں کریں گے ان خرابیوں کی بیخ کنی ممکن نہیں ہے ۔ اس میں عدلیہ کے سربراہ نے ادارہ جاتی خود مختاری اور آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی بجا آوری کا جو پیغام دیا ہے وہ خوش آئند ہے۔

وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ملکی معاملات اور جمہوری عمل کے حوالہ سے میڈیا اور عدلیہ کے کردار پرصحت مند تنقید ہو، مکالمہ کا کلچر فروغ پائے۔یوں بھی تعصبات ، ذات ، برادری، مسلک اور زبان کی بنیاد پر جذباتیت نے سیاست کو زود حس اور سیاست دانوں کو زود رنج بنادیا ہے۔ فروعی اختلافات پر دریدہ دہنی اور شعلہ نوائی سے سیاسی ماحول اکثر پراگندہ ہوجاتا ہے جب کہ قومی امور پر روادارانہ اسپرٹ کے ساتھ مناسب جمہوری فورمز پر بات کرنی چاہیے۔اس وقت عدلیہ کے بعض فیصلوں، ججز کے دوران سماعت چست اور بے ساختہ ریماکس،اور میڈیا میں موجودگی کے حوالے سے جن تحفظات کا ذکر کیا جاتا ہے وہ عبوری مگر منقلب دور کے لازمی مظاہر ہیں ۔

چونکہ ہم اس کے عادی نہیں تھے ، مگر آج عدلیہ نئے فیصلہ جاتی پیرہن کے ساتھ سامنے آئی ہے، عوام کے ساتھ اس کی کمٹمنٹ قوم کی خوش بختی ہے۔چیف جسٹس کی یہ خواہش کہ انصاف کے حصول کے نظام کو مزید آسان اور قابل رسائی بنایا جائے گااور تنازعات ڈسٹرکٹ کی سطح پر حل ہو سکیں گے حصول انصاف کے مراحل کو یقینا ً سہل کردیں گے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیںکرسکتا کہ ملکی سیاست، سماج اور معیشت عدالتی فیصلوں کے جمود شکن حصار میں ہے، قوم ایک مطیع و فرمانبردار اور آمریت نوازعدلیہ کے بجائے خود مختار، آزاد ،ذمہ دار اور قومی امنگوں سے ہم آہنگ ایک ایسے نظام عدل کے تجربات سے آشنا ہورہی ہے جو جمہوری عمل کے سنگ سنگ چل رہی ہے۔اس لیے جمہوریت کو آیندہ بھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔اسٹیٹس کو ٹوٹ رہا ہے یہ ساری جھنکار و گڑگڑاہٹ اسی کی ہے۔بزرگوں نے کہا ہے کہ نیت صاف تو منزل آسان!
Load Next Story