سیاست میں قحط الرجال کی صورتحال

ملکی سیاست میں زبان کے خنجر سے روز جسد سیاست پر ایک نیا زخم لگایا جاتا ہے۔

ملکی سیاست میں زبان کے خنجر سے روز جسد سیاست پر ایک نیا زخم لگایا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

قومی سیاست کے71سالہ تاریخی مدارج اور نشیب وفراز کے کیا کہنے۔ نظریاتی اور انقلابی سیاسی گھن گرج کا زمانہ تو بیت چکا، اب قوم ایک ایسے سیاسی منظرنامہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے، جسے بحرانوں، دھرنوں، احتجاجوں اور منافقانہ قلابازیوں نے بے چہرہ کردیا ہے، ہر چند ملک جمہوری استقامت ظاہر اور ثابت بھی کرچکا مگر تہہ در تہہ سیاسی کشیدگی، محاذ آرائی، برہمی اور عدم رواداری نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو دو پہلوانوں کی حیثیت دے دی ہے، جو سیاسی اکھاڑے میں روز نت نئے داؤ پیچ دکھاتے رہتے ہیں، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ اور میڈیا میں سیاست دان دل کے پھپھولے پھوڑنے اور جلی کٹی سنانے چلے آتے ہیں، قوم کا کسی کو غم نہیں۔

چنانچہ سیاست کے طالب علموں کا عمومی اعتراض اکثر یہی ہوتا ہے کہ ووٹرز نے تو جمہوریت سے کمٹمنٹ دکھانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا، وہ ہر بار پولنگ سٹیشن تک چلے آئے مگر سیاسی رہنماؤں اور حکمرانوں نے انداز حکمرانی میں نشاۃ ثانیہ جیسی تبدیلی میں ہزیمت کیوں اٹھائی، ملک آج ایک نگراں وزیراعظم کی تلاش میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان عدم اتفاق کے گھناؤنے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن شخصیات میں سے کسی ایک کو وزیراعظم چننا ہے تو کیا ان میں قابل اعتبار سارے نہیں؟ اس قرعہ اندازی کی ضرورت کیوں پیش آئی، کسی ایک نام پر ایک دو میٹنگوں میں اتفاق کیوں نہیں ہوسکا، اس مسلسل گریز کا مطلب تو یہی ہوسکتا ہے کہ ملک میں کسی قسم کا قحط الرجال ہے؟ یعنی گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ انتخابات میں تاخیر ممکن نہیں، کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم کا فیصلہ ہو، مگر کب ہوگا؟ بظاہر نگراں وزیراعظم کے معاملے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے درمیان پانچویں ملاقات بھی بے نتیجہ ختم ہوگئی، ملاقات 35 منٹ جاری رہی، ملاقات میں خورشید شاہ نے نگراں وزیراعظم کے لیے ذکاء اشرف، عبداللہ حسین ہارون اور جلیل عباس جیلانی کے نام پیش کیے تاہم کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا جب کہ نگران وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے پارلیمنٹ کے پاس 6 جون تک کی مہلت ہے۔

ق لیگ کے صدر وسابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نگراں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ غیر متنازع ہونے چاہئیں۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن وقت کی اہمیت اور نزاکت کو مدنظر رکھیں اور جلد فیصلہ ہو، کام بہت سارے ہیں، وقت کم ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا آئینی ترمیمی مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو ہدایت کی ہے کہ قومی اسمبلی میں ارکان کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی موجودگی یقینی بنائیں تاکہ آئینی ترمیم منظور کرائی جاسکے لیکن حکومت کو اپنے دو بڑے اتحادی مولانا فضل الرحمن اور محمودخان اچکزئی کو قائل کرنے کا دریا بھی عبور کرنا ہے، ن لیگی قیادت دلیرانہ فیصلہ کرے۔

اگر اتحادی گریز پا ہیں تو حکومت فاٹا عوام کے صبر کو مزید نہ آزمائے۔ یہ خوش آیند پیش رفت ہے کہ قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے مالیاتی بل 2018-19 پر دستخط کر دیے ہیں جس سے فنانس بل اب فنانس ایکٹ بن گیا ہے، وفاقی حکومت نے ملک کے اہم سیاسی ومذہبی رہنماؤں اور بڑی جماعتوں کے سربراہان کو انتخابی مہم کے دوران فول پروف سیکیورٹی دینے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔


دریں اثنا سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ماضی کی غلط بیانی کا مستقبل پر بھی اطلاق ہوگا، اگر کسی شخص نے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کی تو وہ بند باب تصور نہیں ہوگا۔ ادھر سیاسی پرندوں کی اڑانیں جاری ہیں، جون تک ہجرتی سیاسی رہنماؤں کے ٹھکانے بدلنے کا منظر دیدنی ہونے کی توقع ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے لوڈشیڈنگ پر کہرام برپا کردیا۔

ادھر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر مملکت برائے نجکاری دانیال عزیز کو تھپڑ دے مارا۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں پیش آیا، دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، یوں سیاست میں تشدد اور ''دلیل ختم ہو تو تھپڑ لگاؤ'' کی نئی روایت مشکل پیدا کردے گی، سیاست دان ملک و قوم کے رول ماڈل ہوتے ہیں، انھیں حسن بیان اور انداز تکلم کا مثالی مظاہرہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے کورگروپ کے اجلاس میں پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں لفظی جھڑپ اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، شنید ہے کہ عمران خان نے معاملہ رفع دفع کردیا ہے۔ عمران خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا دھرنے کے پیچھے جنرل ظہیر کا کوئی کردار نہیں تھا، نواز شریف کے پاس کوئی ٹیپ ہے تو سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا الیکشن میں پی پی سے اتحاد ممکن نہیں، عمران کے مطابق پاناما کیس نے ثابت کر دیا ملک کے سارے ادارے مفلوج ہیں۔

یہ اعتراف بھی سیاست دانوں کے لیے تحریک انصاف کی طرف سے بڑا سوالیہ نشان ہے جس نے اپنی مجوزہ حکومت کے سو دن کا جامع پروگرام پیش کیا جب کہ حکومتی حلقوں نے اسے شیخ چلی کا خواب اور مزاحیہ پروگرام قراردے دیا، حالانکہ جمہوری ملکوں میں شیڈو کابینہ اور منشور و بجٹ جاری ہوتے ہیں جن پر سنجیدہ بحثیں ہوتی ہیں، کسی کی تحقیر نہیں کی جاتی، لب ولہجہ قابو میں رکھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست میں زبان کے خنجر سے روز جسد سیاست پر ایک نیا زخم لگایا جاتا ہے، دلیل کی کوئی قدر وقیمت نہیں، میڈیا ٹاک اکثر اسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

ادھر ایک ایسی ہی خبر پر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود کا شدید ردعمل سامنے آیا، انھوں نے کہا ہے کہ جینا مرنا پیپلز پارٹی کے سنگ ہے، بلاول بھٹو زرداری جیسا لیڈر اور پیپلز پارٹی جیسی پارٹی کوئی نہیں۔

میڈیا ہاؤس سے جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ پارٹی کو چھوڑنے کی باتیں مخالفین پھیلا رہے ہیں جس کی انھوں نے مذمت کی، منظور وٹو کے بارے میں بھی قیاس آرائی تھی مگر دوسری طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ اسی نوعیت کا ردعمل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دیا، وہ سندھ اسمبلی سے بجٹ کی منظوری پر خطاب کررہے تھے اور ان کا اشارہ متحدہ پاکستان کی طرف سے نئے صوبہ کے مطالبہ کے حوالہ سے تھا، وزیراعلیٰ نے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبہ کے مطالبہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ سندھ ایک ہی رہے گا، جب کہ سرائیکستان صوبہ محاذ نے جنوبی پنجاب صوبہ کے نام پر 11 یا 13اضلاع پر مشتمل مجوزہ صوبے کی تجویز کو مسترد کردیا.

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سرائیکی پرامن قوم ہیں، ہماری عشروں کی جدوجہد پر امن آئینی اور جمہوری رہی، انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ نسل پرستی، قبائلیت اور عدم رواداری کو شکست دے کر نوع انسانی ظالم ومظلوم سے دنیا کو آزاد کراسکتی ہے۔
Load Next Story