پاکستان آبی بحران سے خبردار رہے
طاقتور عالمی آبی لابی نے پاکستان کی تشویش اور جائز اعتراضات تسلیم بھی کیے لیکن پاکستان کو انصاف نہیں ملا۔
طاقتور عالمی آبی لابی نے پاکستان کی تشویش اور جائز اعتراضات تسلیم بھی کیے لیکن پاکستان کو انصاف نہیں ملا۔ فوٹو: فائل
عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کردیا۔ خبر اگرچہ اپنے متن کے اعتبار سے سرسری اور اختصار کی حامل ہے مگر اس میں گنجینۂ معنی کا طلسم چھپا ہوا ہے، اسی عالمی بینک کے سامنے ایک نہیں کئی بار پاکستان بھارتی ڈیموں کی مسلسل غیر قانونی اور یک طرفہ دھونس کے ساتھ تعمیر کے خلاف اپنی تشویش، احتجاج اور مطالبات پیش کرتا آرہا ہے مگر پاکستان کو درپیش قلت آب سمیت بھارتی آبی جارحیت سے پیدا شدہ خطرات کا دوسری طرف سے صائب رسپانس نہیں ملتا۔
اس بار بھی عالمی بینک نے ڈوڈا ہائیڈرو پاور پلانٹ اور بگلیہارڈیم کی تعمیر کے طویل عرصہ بعد اب کشن گنگا ڈیم سے متعلق پاکستانی وفد سے ہونے والی ملاقات کا رسمی اعلامیہ جاری کردیا ہے جس میں عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم سے متعلق پاکستان کی شکایات اور تحفظات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک کا کردار نہایت محدود ہے جس کی وجہ سے پاکستان سے تنازع کے حل کے لیے ہونے والی ملاقات بغیر اتفاق رائے کے اختتام پذیر ہوگئی ہے۔
یاد رہے اسی انداز نظرسے غالباً پچھلے دوتین سال میں عالمی بینک کے پاک بھارت آبی تنازع کا کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آیا اور دو ملکوں کے مابین سندھ طاس معاہدہ کی مضبوط ترین بنیاد کے ہوتے ہوئے غیر قانونی ڈیمز کا پائیدار حل نہیں ڈھونڈا جاسکا۔
مکمل ثالثی سے معذرت بھی عالمی بینک حکام کے میکنزم کا حصہ رہا جب کہ بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ثالثی کے بجائے غیر جانبدار ماہر کا سہارا تلاش کیا جائے، یوں پاکستانی وفود کے گزشتہ کئی عشروں پر محیط اجلاسوں اور مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، فیصلے بھارت کے حق میں ہوتے رہے جب کہ بھارت اپنے مذموم آبی عزائم کی تکمیل میں ڈیم پر ڈیم بنانے کے منصوبوں پر عملدرآمد کرتا رہا۔
ترجمان عالمی بینک کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد نے 21 اور 22مئی کو عالمی بینک کی سی ای او کرسٹینا جورجیوا سے ملاقات کی اور بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے متعلق تحفظات سے آگاہ کیا تاہم تنازعات اور اختلافات کے حل کے لیے عالمی بینک کا کردار نہایت مختصر ہے مگر عالمی بینک پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا اور اپنی ذمے داریاں نہایت شفاف اور غیرجانبدار طریقے سے نبھاتا رہے گا۔
قبل ازیں پاکستان کی جانب سے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی قیادت میں 4 رکنی وفد نے عالمی بینک کے صدر اور دیگر حکام سے ملاقات میں انھیں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ پاکستان نے موجودہ صورت حال پر معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ قلت آب عالمی مسئلہ ہے، ماہرین 2025 سے برصغیر سمیت دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کو پانی کے بحران اور حصول آب کے لیے جنگوں کے خطرات سے آگاہ کررہے ہیں، مگر کیا کبھی ارباب اختیار نے ملک کی زراعت ، اس کی معیشت اور عوام کے لیے پینے کے صاف پانی کے وسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا، بھارت کو جو کرنا تھا اس نے دھڑلے سے کیا اورکرتا رہے گا مگر سیاسی خلفشار میں الجھے حکمرانوں ، سیاست دانوں، ہمارے ماہرین آب اور وزارتوں نے ڈیم بنانے کے تکنیکی معاملات پر ترجیحی بنیادوں پر کوئی پیش رفت نہیں کی، نہ آبی ذخائر بنائے، کروڑوں کیوسک پانی سیلابی ریلوںکی شکل میں سمندر برد ہوتا رہا مگر لاکھوں ایکڑ اراضی پر جگہ جگہ چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے ملک کی بیروزگار افرادی طاقت کو استعمال نہیں کیا گیا، شہروں میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے۔
ایکولوجیکل ڈزاسٹرز کے خطرات روز افزوں ہیں، دریائے نیلم میں پانی کم ہورہا ہے، موسم گرما میں دریائے سندھ خشک ہوجاتا ہے، جب کہ خود مختار زرعی ملک ہونے کے ناطے سندھ طاس معاہدہ کی 1960سے مضبوط ترین تاریخی بنیاد پر ہمیں حاصل دریاؤں کا پانی بلاروک ٹوک ملناچاہیے، یہ معاہدہ اپنی استقامت ثابت کرچکا۔
سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم کا ٹھوس دوطرفہ فریم ورک مہیا کرتا ہے، بھارت یا نام نہاد آبی ماہرین کا یہ کہنا غلط اور گمراہ کن ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محدود ہے ، اس کی جگہ نئے کسی معاہدہ کی ضرورت ہے جو پاک بھارت دریاؤں میں بہاؤ کی کیفیت اور مستقبل کی آبی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے۔
بھارت سندھ طاس معاہدہ کی تنسیخ کی دھمکی دے چکا ہے، پاکستان بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن، عمودی و افقی تعمیراتی خلاف ورزیوں پر قانونی ذرایع بھی استعمال کرچکا ہے مگر طاقتور عالمی آبی لابی نے پاکستان کی تشویش اور جائز اعتراضات تسلیم بھی کیے لیکن پاکستان کو انصاف نہیں ملا، مودی نے ستمبر 2016 کو اڑی ایئر بیس پر حملہ کے پس منظر میں ہرزہ سرائی کی تھی کہ پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے۔
اب بھی وقت ہے کہ پاکستانی ماہرین آب اور ارباب حل و عقد ملکی آبی ضروریات اور زرعی مفادات و قومی خوشحالی کے لیے بھارتی ڈیم پالیسیوں کے خطے پر منفی اثرات و مضمرات سے چشم پوشی نہ کریں، بیداری کا ثبوت دیں۔
اس بار بھی عالمی بینک نے ڈوڈا ہائیڈرو پاور پلانٹ اور بگلیہارڈیم کی تعمیر کے طویل عرصہ بعد اب کشن گنگا ڈیم سے متعلق پاکستانی وفد سے ہونے والی ملاقات کا رسمی اعلامیہ جاری کردیا ہے جس میں عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم سے متعلق پاکستان کی شکایات اور تحفظات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک کا کردار نہایت محدود ہے جس کی وجہ سے پاکستان سے تنازع کے حل کے لیے ہونے والی ملاقات بغیر اتفاق رائے کے اختتام پذیر ہوگئی ہے۔
یاد رہے اسی انداز نظرسے غالباً پچھلے دوتین سال میں عالمی بینک کے پاک بھارت آبی تنازع کا کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آیا اور دو ملکوں کے مابین سندھ طاس معاہدہ کی مضبوط ترین بنیاد کے ہوتے ہوئے غیر قانونی ڈیمز کا پائیدار حل نہیں ڈھونڈا جاسکا۔
مکمل ثالثی سے معذرت بھی عالمی بینک حکام کے میکنزم کا حصہ رہا جب کہ بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ثالثی کے بجائے غیر جانبدار ماہر کا سہارا تلاش کیا جائے، یوں پاکستانی وفود کے گزشتہ کئی عشروں پر محیط اجلاسوں اور مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، فیصلے بھارت کے حق میں ہوتے رہے جب کہ بھارت اپنے مذموم آبی عزائم کی تکمیل میں ڈیم پر ڈیم بنانے کے منصوبوں پر عملدرآمد کرتا رہا۔
ترجمان عالمی بینک کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد نے 21 اور 22مئی کو عالمی بینک کی سی ای او کرسٹینا جورجیوا سے ملاقات کی اور بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے متعلق تحفظات سے آگاہ کیا تاہم تنازعات اور اختلافات کے حل کے لیے عالمی بینک کا کردار نہایت مختصر ہے مگر عالمی بینک پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا اور اپنی ذمے داریاں نہایت شفاف اور غیرجانبدار طریقے سے نبھاتا رہے گا۔
قبل ازیں پاکستان کی جانب سے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی قیادت میں 4 رکنی وفد نے عالمی بینک کے صدر اور دیگر حکام سے ملاقات میں انھیں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ پاکستان نے موجودہ صورت حال پر معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ قلت آب عالمی مسئلہ ہے، ماہرین 2025 سے برصغیر سمیت دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کو پانی کے بحران اور حصول آب کے لیے جنگوں کے خطرات سے آگاہ کررہے ہیں، مگر کیا کبھی ارباب اختیار نے ملک کی زراعت ، اس کی معیشت اور عوام کے لیے پینے کے صاف پانی کے وسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا، بھارت کو جو کرنا تھا اس نے دھڑلے سے کیا اورکرتا رہے گا مگر سیاسی خلفشار میں الجھے حکمرانوں ، سیاست دانوں، ہمارے ماہرین آب اور وزارتوں نے ڈیم بنانے کے تکنیکی معاملات پر ترجیحی بنیادوں پر کوئی پیش رفت نہیں کی، نہ آبی ذخائر بنائے، کروڑوں کیوسک پانی سیلابی ریلوںکی شکل میں سمندر برد ہوتا رہا مگر لاکھوں ایکڑ اراضی پر جگہ جگہ چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے ملک کی بیروزگار افرادی طاقت کو استعمال نہیں کیا گیا، شہروں میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے۔
ایکولوجیکل ڈزاسٹرز کے خطرات روز افزوں ہیں، دریائے نیلم میں پانی کم ہورہا ہے، موسم گرما میں دریائے سندھ خشک ہوجاتا ہے، جب کہ خود مختار زرعی ملک ہونے کے ناطے سندھ طاس معاہدہ کی 1960سے مضبوط ترین تاریخی بنیاد پر ہمیں حاصل دریاؤں کا پانی بلاروک ٹوک ملناچاہیے، یہ معاہدہ اپنی استقامت ثابت کرچکا۔
سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم کا ٹھوس دوطرفہ فریم ورک مہیا کرتا ہے، بھارت یا نام نہاد آبی ماہرین کا یہ کہنا غلط اور گمراہ کن ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محدود ہے ، اس کی جگہ نئے کسی معاہدہ کی ضرورت ہے جو پاک بھارت دریاؤں میں بہاؤ کی کیفیت اور مستقبل کی آبی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے۔
بھارت سندھ طاس معاہدہ کی تنسیخ کی دھمکی دے چکا ہے، پاکستان بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن، عمودی و افقی تعمیراتی خلاف ورزیوں پر قانونی ذرایع بھی استعمال کرچکا ہے مگر طاقتور عالمی آبی لابی نے پاکستان کی تشویش اور جائز اعتراضات تسلیم بھی کیے لیکن پاکستان کو انصاف نہیں ملا، مودی نے ستمبر 2016 کو اڑی ایئر بیس پر حملہ کے پس منظر میں ہرزہ سرائی کی تھی کہ پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے۔
اب بھی وقت ہے کہ پاکستانی ماہرین آب اور ارباب حل و عقد ملکی آبی ضروریات اور زرعی مفادات و قومی خوشحالی کے لیے بھارتی ڈیم پالیسیوں کے خطے پر منفی اثرات و مضمرات سے چشم پوشی نہ کریں، بیداری کا ثبوت دیں۔