موسمیاتی تبدیلیاں ہیٹ ویوز احتیاطی تدابیر لازم

موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں لائحہ عمل مرتب کیا جائے، پاکستان بھر میں شجرکاری مہم چلائی جائے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں لائحہ عمل مرتب کیا جائے، پاکستان بھر میں شجرکاری مہم چلائی جائے۔ فوٹو : فائل

CHARLOTTE:
موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اور جنگلات کی کمی کے باعث شہر قائد کو ایک بار پھر گرمی کی شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، ہیٹ ویوز کے باعث کئی قیمتی انسانی جانیں ضایع ہوئی ہیں، چند روز کی شدید ریکارڈ گرمی کے باعث امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے کے دوران سمندری ہوائیں مکمل طور پر بحال ہونے کے باعث درجہ حرارت میں کمی آئے گی۔ بدھ کو مجموعی طور پر گرمی کا پارہ بلند رہا اور شہر میں گرم اور خشک موسم ریکارڈ کیا گیا۔

جمعرات کو درجہ حرارت میں گزشتہ چند روز کے مقابلے میں کمی ہوئی۔ بلاشبہ دنیا بھر میں کلائمیٹ چینج کے باعث موسموں کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے، انسان کی غلطیوں کے باعث ہونے والے اس عظیم نقصان کی شدت میں صرف احتیاطی تدابیر سے ہی کمی لائی جاسکتی ہے۔

دو سال قبل پاکستان میں آنے والے ہیٹ سٹروک نے سیکڑوں قیمتی انسانی جانوں کو نگل لیا تھا، لیکن امسال شدید گرمی کی لہر سے متعلق آگہی ہونے کے باعث شہریوں نے احتیاطی اقدامات کے تحت شدید گرمی میں کام کرنے اور باہر نکلنے سے گریز کیا، جس کے سبب نقصانات کی شدت میں کمی آئی ہے۔ بدھ کو شدید گرمی سے معمولات زندگی متاثر رہے، شہریوں نے دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا ۔


جس سے سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہا، بدھ کو شہر کی سڑکوں پر رضاکاروں اور شہریوں نے جگہ جگہ شہریوں کو سر پر رکھنے کے لیے گیلے تولیے پیش کیے اور سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنے کا اہتمام کیا تھا جس سے گرمی سے پریشان ہزاروں شہریوں کی طبیعت بحال ہوگئی۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے مئی میں گرمی کی شدید لہر چلنے سے متعلق گزشتہ ماہ تمام صوبوں کو باضابطہ مراسلے جاری کردیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ مئی کے مہینے میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے اور اس دوران ہیٹ ویوز چل سکتی ہیں، لہٰذا کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت انتظامات کیے جائیں۔

ماہرین نے سفارش کی تھی کہ لوگوں کو ہیٹ ویوز سے نمٹنے کے لیے تربیت فراہم کی جائے، تعلیمی اداروں کے نصاب میں قدرتی آفات اور اس سے نمٹنے سے متعلق مضامین شامل کریں، عوامی مقامات پر کول سینٹر قائم کیا جائے۔ صائب ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں لائحہ عمل مرتب کیا جائے، پاکستان بھر میں شجرکاری مہم چلائی جائے، بڑے شہروں میں گرین بیلٹ اور گرین ہاؤسز کے احیاء کے ساتھ انسان دوست ماحول کا قیام عمل میں لایا جائے۔ نقصانات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھا جائے۔
Load Next Story