نظریات کی اے پی سی ’’ کرسی ‘‘

جمہوریت بھی ہو سکتے ہیں، اسلام بھی ہو سکتے ہیں، روٹی کپڑا دکان بھی ہو سکتے ہیں اور تبدیلی یا انصاف بھی ہو سکتے ہیں۔

barq@email.com

یہ تو آپ کو بھی لگ پتہ گیا ہوگا کہ

لہلائے آب و رنگ کا ڈیرا قریب ہے

تارے لرز رہے ہیں سویرا قریب ہے

جب ہر طرف دیکھئے پرندے اڑانیں بھر رہے ہیں کبھی اس ڈال کبھی اس پات ، '' انڈوں '' کا موسم آرہا ہے آشیانے بنائے جارہے ہیں پیڑ دیکھے جا رہے ہیں ۔لیکن اس میں یہ بات ہمیں بالکل پسند نہیں آرہی ہے کہ لوگ ایسے '' پرندوں '' کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ آخر کیوں ؟بر ا تو تب ہوتا جب یہاں وہاں بلکہ ''ہیاں ہوآں '' میں کوئی فرق ہوتا جب ہر جگہ ایک جیسی ہے ہر مقام

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

تو پھر کیا ہیاں؟ کیا ہواں

شاید مجھے نکال کے کچھ کھا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں


ہاں ایک زمانے میں یہ کام برا سمجھا جاتا تھا وہ بہت پہلے کی بات ہے شاید صدیوں پہلے کی ہزاروں سال پہلے کی جب انسانوں میں '' ضمیر '' اور پارٹیوں میں '' نظریات '' ہوا کرتے تھے، وہ اصل میں جاہلیت دور سیاست میں خوار ہونے کا زمانہ تھا بلکہ کہئے تو جاہلیت کا زمانہ تھا لوگ جنھیں اپنا بزرگ کہتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے اتنے بیوقوف تھے کہ زبان و ایمان کے لیے جان تک دے دیتے تھے یعنی پران جائیں پر وچن نہ جائے ۔ارے بیوقوفو ، احمقو جاہلو ۔ الفاظ کا کیا ہے آج یہ تو کل وہ، لغت میں الفاظ کی کال تو نہیں پڑی ہوئی ہے ایک ڈھونڈو ہزار مل جاتے ہیں، آج ہاں ہے تو کل نہیں، اس میں کسی کے باپ کا نہ تو '' ہاں '' ہے اور نہ '' نہیں ''۔آپ کا تو پتہ نہیں لیکن ہمیں یاد ہے کہ وہ بزرگ جو اب نہیں ہیں اچھا ہوا کہ نہیں ہیں اور اس سے پہلے کہ آندھیاں ان کے کپڑے تک اتار کر لے جاتیں خود دفع دور ہو گئے ۔

احمق کہیں کے ۔یہ کیا بات ہوئی کہ وعدہ کیا ہے تو نبھائیں گے ضرور، آپ کے ساتھ ہوئے ہیں تو ساتھ رہیں گے ضرور، دوست کہا ہے تو دوستی کریں گے ضرور ۔ہمیں تو بڑی خوشی ہوئی ہے اچھا ہوا کہ دفعان ہو گئے اگر آج ہوتے تو نہ جانے کیا یکا گل کھلاتے ایمان ضمیر نظر ہے خلوص وفا جیسے برے برے لفظ منہ سے نکالتے، ہمیں بھی بور کرتے اور خود بھی مایوس ہوتے ۔اب آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی بلکہ ممکن ہے کہ حیرت کے مارے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھری سے کیک کے بجائے اپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں کہ اس زمانے میں سیاسی پارٹیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔

ون مین شو یا ون میں مقتدر قوت کے بجائے پارٹیاں ؟ ہے نا حیرت کی بات ؟ لیکن زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آگے اور بھی حیران کن باتیں ہم آپ کوسنانے والے ہیں مثلاً وہ یہ کہ وہ واقعی پارٹیاں ہوتی تھیں گینگ نہیں ہوتے تھے اور پھر سب سے بڑی حیرت کی بات کہ ان پارٹیوں میں نظریہ اور لیڈروں میں ایمان نام کی چیزیں بھی ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن ابھی سب سے بڑا دھماکا تو ہم نے کیا نہیں ہے کہ آدمی پیڑوں کی طرح ہوتے تھے کہ جہاں جم گئے سوجم گئے کوئی خزاں کوئی طوفان ان کو اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے تھے اور بڑے نقصان والی بات تھی کہ آندھی طوفان کا مقابلہ کرتے کرتے شاخیں ٹوٹ جاتی تھیں پتے اڑ جاتے تھے بلکہ خود بھی گرتے پڑتے تھے، آج کی طرح موبائل نہیں تھے کہ ادھر سے لڑھکے تو ادھر اور ادھر سے لڑھکے تو ادھر ۔ اور اس میں یہ فائدہ ہے کہ پہئے تو لگے ہوئے ہیں مجال ہے جو '' گاڑی '' کو ذرا بھی نقصان پہنچے۔ بہرحال خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ اولڈ ماڈل کے لوگ انڈر گراؤنڈ ہو گئے اور ایک بہت یہ کمفرٹ ایبل زندگی شروع ہو گئی بلکہ

بہشت آں جا کہ آزارے نہ باشد

کے را با کے کارے نہ باشد

دنیا کے تمام اگلے پچھلے چھوٹے بڑے لمبے ٹھینگے کالے سفید جائز نا جائز ٹیڑھے سیدھے نظریات کا عطر مجموعہ ''نظریہ کرسی '' نام اس کے کچھ بھی ہو سکتے ہیں، جمہوریت بھی ہو سکتے ہیں، اسلام بھی ہو سکتے ہیں، روٹی کپڑا دکان بھی ہو سکتے ہیں اور تبدیلی یا انصاف بھی ہو سکتے ہیں لیکن شے وہی ایک ہے جو تھی ، جوہے اور جو رہے گی کرسی کرسی اور پھر کرسی ۔ بلکہ ایک اور مرتبہ کرسی

'' کرسی '' تو میندیش زغو غائے لیڈراں

آواز سگاں کم نہ کند '' کرسی مارا ''

یہ وہی طلسماتی کہانیوں کا طلسم ہوشربا ہے کہ ایک بار دیکھا ہے اور بار بار دیکھنے کی ہوس ہو ۔ اور جب نظریہ ہی ایک ہو تو پارٹی بدلنے سے فرق کیا پڑتا ہے۔ ایک پشتو گیت کے مطابق '' منزل '' سب کی ایک ہے لیکن راستے سفر کے جدا جدا ہیں اور فرق نہ تو راستوں سے پڑتا ہے اور نہ سواریوں سے کوئی گدھے پر سوار ہو کر جائے یا گھوڑے پر ، موٹر میں جائے یا لاری پر ۔ بلکہ پیدل جانے میں بھی کوئی حرج نہیں اور گدھا گدھے پر سوار ہو کر جانے میں بھی ابن بطوطہ ، بغل میں جوتا ۔ان تمام اقسام کے بے وضو الفاظ کا نکتہ القاب ایک ایسا شخص تھا جو پانچویں بار ایک پارٹی میں شامل ہوا تھا ۔اس کے تمام ملفوظات کا خاتمہ صرف ایک جملے پر ہوتا تھا کہ اس کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی حالانکہ مجھے صرف سن کر اتنی شرم آئی کہ اگر بیوی نہ روکتی تو میں چائے کی پیالی میں ڈوب کر مرجاتا۔ہم نے اسے سمجھایا کہ تم بزرگوں کی باتوں کو کیوں بھول جاتے ہوتے ہو ۔کہ جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم
Load Next Story