اسٹیٹ بینک آج 2 ماہ کیلیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا
مہنگائی،ریکارڈکرنٹ اکاؤنٹ خسارے،کم ریزروکے باعث سود میں 0.25 فیصد اضافہ متوقع
مہنگائی،ریکارڈکرنٹ اکاؤنٹ خسارے،کم ریزروکے باعث سود میں 0.25 فیصد اضافہ متوقع۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمعہ کو2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔
ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کی شرح میں اضافہ، جاری کھاتے کے بلند ترین خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 25بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے، مئی 2018میں افراط زر کی شرح اپریل کے مقابلے میں 0.4فیصد اضافے سے 4.1فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
11ماہ کا اوسط افراط زر 3.8فیصد کے آس پاس رہنے کی توقع ہے جو اسٹیٹ بینک کے مالی سال 2017-18 کے 4.5سے 5.5فیصد کے تخمینہ سے کافی کم ہے تاہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات آنے والے دنوں میں افراط زر میں اضافے کی شکل میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ 2 ماہ کیلیے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے وقت مارچ 2018سے اب تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 18فیصد اضافے سے 77ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ رمضان میں طلب بڑھنے کے اثرات بھی افراط زر کی شکل میں ظاہر ہوں گے، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران برآمدات کی مالیت میں 13فیصد جبکہ درآمدات میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ بلند درآمدات کی وجہ سے 25ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔
ترسیلات کی آمد میں معمولی اضافہ ہوا ہے، 10ماہ کے دوران 16.3ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی ہیں جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ بھی 14ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کی شرح میں اضافہ، جاری کھاتے کے بلند ترین خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 25بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے، مئی 2018میں افراط زر کی شرح اپریل کے مقابلے میں 0.4فیصد اضافے سے 4.1فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
11ماہ کا اوسط افراط زر 3.8فیصد کے آس پاس رہنے کی توقع ہے جو اسٹیٹ بینک کے مالی سال 2017-18 کے 4.5سے 5.5فیصد کے تخمینہ سے کافی کم ہے تاہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات آنے والے دنوں میں افراط زر میں اضافے کی شکل میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ 2 ماہ کیلیے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے وقت مارچ 2018سے اب تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 18فیصد اضافے سے 77ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ رمضان میں طلب بڑھنے کے اثرات بھی افراط زر کی شکل میں ظاہر ہوں گے، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران برآمدات کی مالیت میں 13فیصد جبکہ درآمدات میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ بلند درآمدات کی وجہ سے 25ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔
ترسیلات کی آمد میں معمولی اضافہ ہوا ہے، 10ماہ کے دوران 16.3ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی ہیں جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ بھی 14ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔