بلوچستان دادا سے پوتے تک

سردار اکبر بگٹی کو ’’شرپسند‘ اور ’غدار‘ کہہ کر قتل کرانے والا آج کٹہرے میں ہے

zahedahina@gmail.com

اس مرحلے پر شہید اکبر بگٹی یاد آتے ہیں۔ اگست 2006 میں وہ جب ہلاک کیے گئے اور اس قتل پر جب ملک بھر میں احتجاج ہوا تو یہ بات اس وقت کے حکمران کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اسے حیرت تھی کہ ایک ملک دشمن کی ہلاکت پر اس قدر شوروغوغا کیوں ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق جنرل پرویزمشرف سے اس حملے کی اجازت لی گئی تھی، اس آپریشن کی 'کامیابی' کے بعد انھوں نے 79 برس کے ایک بوڑھے کو صفحۂ ہستی سے مٹانے والوں کو ان کی 'کارکردگی' پر داد دی اور اسے ' فتح' قرار دیا۔ یہ بھی کہا کہ حکومت کی 'حاکمیت' سختی سے نافذ کی جائے گی اور شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ سرکاری مورخین ان کے یہ ارشادات گرامی سنہرے حروف سے لکھیں گے اور انھیں یقین دلائیں گے کہ ان کا ''یہ کارنامہ'' رہتی دنیا تک یاد گار رہے گا۔

بات اتنی سی ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ہزار برس کے دوران ہمارے سلاطین اور شاہان باتمکین نے ایسے ایسے درباری مورخ پیدا کیے جن کی تحریروں سے آج تک خوشامد کی خوشبو آتی ہے۔ تاریخ کے ان صفحوں کو ہاتھ لگائیے تو انگلیاں مکھن اور شہد جیسے جملوں سے لتھڑنے لگتی ہیں۔ ان عالم پناہ اور جم جاہ بادشاہوں نے اپنے اپنے دور میں جتنے قتل کیے، جتنی بستیاں تاراج کیں، خلق خدا پر جس قدر ظلم کیا، اس پر ان کے درباری مورخین صل علا اور سبحان اللہ کی صدا بلند کرتے رہے، داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہے اور اسے ان کی فتوحات قرار دیتے رہے۔

ایسے ہی باکمال اور بے مثال مورخوں نے یہ لکھا کہ بنگالی نہایت فسادی اور غدار تھے، اور جب ان کی 'غداری' پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی تو رات کے اندھیرے میں آرمی ایکشن کے ذریعے ان تمام ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں کا ستھرائو وقت کی ضرورت تھا جو اپنا حق مانگتے تھے۔ یہ درباری مورخ ہمیشہ یہ لکھتے رہے کہ حقوق طلب کرنے والے عظیم پختون رہنما خان عبدالغفار 'غدار' تھے۔ نہ ہوتے تو ''سرخ پوش'' کیوں کہلاتے۔اگر باچاخان، ولی خان، جی ایم سید، غوث بخش بزنجو، فیض احمد فیض، سبط حسن، جام ساقی اور سیکڑوں دوسرے جیلوں میں بند کیے گئے تو کیوں نہ بند کیے جاتے کہ وطن دشمنوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھنا چاہیے ۔ حسن ناصر شاہی قلعے میں اگر تشدد کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے تو کون سی خاص بات ہے۔ ایک 'سرخے' کے ساتھ اور کیا سلوک کیا جاتا؟

26 اگست 2006 کو تاریخ نے ایک مرتبہ پھر خود کو دہرایا۔ 79 سالہ بزرگ سیاستدان اکبر خان بگٹی کو شرپسند کہہ کر فوجی آپریشن کے ذریعے ہلاک کردیا گیا۔ یہ وہ شرپسند اور پاکستان دشمن تھا جس نے 1947 میں بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کے لیے ووٹ ڈالا، یقیناً یہ ایک بہت بڑی سازش کا آغاز تھا۔ اس سازشی نے کراچی کے گرامر اسکول میں تعلیم حاصل کی، لاہور کے ایچی سن کالج سے پڑھ کر نکلا تو دہشت گردی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی چلاگیا۔

اس کے پاس تاریخ، ادب اور فلسفے کی کتابوں کا بڑا ذخیرہ تھا تو ا س لیے کہ ان کتابوں سے وہ بم بنانے کے نسخے حاصل کرسکے، غالب اگر اسے پسند تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے دیوان سے میزائل مارنے کی تاریخ جاننے کے لیے فال نکالنا آسان تھا۔ انگریزی زبان و ادب کا شناور تھا تو اس کا سبب بھی یہی تھا کہ اسے شیکسپیئر سے لے کر ٹی ایس ایلیٹ تک، سب ہی کی کتابوں سے غداری اور شرپسندی کے کچھ نئے رموز و نکات حاصل ہوجاتے تھے۔

وقت بھی کیا تماشے دکھاتا ہے۔ سردار اکبر بگٹی کو ''شرپسند' اور 'غدار' کہہ کر قتل کرانے والا آج کٹہرے میں ہے۔ جن محترم اور معزز ججوں کو اس نے محصور، محبوس اور معزول کیا تھا آج ان ہی سے عدل کا طلبگار ہے اور آج اسی کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ درج ہے۔ وہ شرپسند تھا کیونکہ اس نے 1958 کے مارشل لاء کو تسلیم نہیں کیا تھا اور جنرل ایوب خان نے اسے ایبڈو کے تحت سیاست میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ ملک کا حامی اور خیرخواہ ہوتا تو جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کی حمایت کرتا اور 1956 کے آئین کی منسوخی پر فوجی آمر کو داد دیتا اور وزارت قبول کرتا۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کے باشندے غریب ترین اور اس کی دھرتی امیر ترین ہے۔ گیس' تیل اور قیمتی معدنیات اس خطے کے چپے چپے پر پھیلی ہوئی ہیں لیکن گیس کے سوا دوسری معدنیات کو نکالنے کے لیے تدبیر نہیں کی جاتی۔ کی جائے تو کیسے کہ اس کے بعد بلوچستان ہمارے ملک کا امیر ترین صوبہ اور خطے کا اہم ترین علاقہ ہوگا۔پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی تقریباً ہر دور میں یہ کوشش رہی ہے کہ بلوچ نوجوانوں کے سینوں میں اشتعال کی وہ آگ بھڑکائی جائے جو انھیںبغاوت پر اکسائے تاکہ انھیں ''غدار'' اور ''باغی'' قرار دے کر فوجی قوت سے کچل دیا جائے اور پھر اس کے وسائل پر مکمل قبضہ کیا جاسکے۔


بلوچستان کے ساتھ کیا کیا ستم نہیں ہوئے، یہ بھی اسی کے ساتھ ہواکہ بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کا جواں سال بیٹا اسد اللہ مینگل اٹھایا گیا اور جب بزنجو صاحب نے اس ظلم پر فریاد کی تو بھٹو صاحب کی موجودگی میں ایک اعلیٰ فوجی افسر نے بھٹو صاحب اور بزنجو صاحب کو یقین دلایا کہ وہ سرکار کی تحویل میں ہے اور بالکل 'محفوظ' ہے۔ وہ 'محفوظ' ایسا 'لاپتہ' ہوا کہ اخترمینگل کو آج تک نہیں معلوم کہ ان کا بھائی کب اور کہاں مارا گیا اور اس کی ہڈیاں کس خاک کا حصہ بنیں۔یہ وہی جمہوری دور تھا جب بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام کی مخلوط حکومت برطرف کی گئی۔ نیشنل عوامی پارٹی (موجودہ اے این پی) پر پابندی عائد کی گئی اور اس کے تمام قائدین پابند سلاسل کردیے گئے۔

پھر وہ وقت آیا کہ یہ سب کروانے والوں نے خود وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا۔ وہ اخترمینگل جو میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے اور اسی دور میں ان کی حکومت ختم کی گئی۔ بعد ازاں جن قوتوں کے دبائو پر یہ کیا گیا انھوں نے میاں نواز شریف کو معزول کیا، انھیں کال کوٹھری میں ڈالا ،بکتر بند گاڑیوں میں گھمایا ، ہوائی جہاز میں زنجیروں سے جکڑا اور عمر قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کرنے کی اپیل دائر کی اور پھر انھیں جبراً جلا وطن کردیا ۔انھیں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں عدالت میں لایا جاتا تو وہ ایک آہنی پنجرے میں ہوتے۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ عدالت سے فرار ہوجائیں گے، معاملہ دنیا کو دکھانا تھا کہ ہم اپنے مخالفین کی کس حد تک توہین کرسکتے ہیں۔

اختر مینگل، ثناء اللہ زہری اور ایسے متعدد سیاست دان جنہوں نے تمام ستم رانیوں کے باوجود ابھی تک پاکستان کا دامن نہیں چھوڑا، جو آج بھی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہوکر اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، ان کے حوصلے کی کس طرح داد دی جائے۔ ان میں سے کسی کا بھائی لاپتہ ہوا، کسی کے باپ کو لیزر گائیڈیڈ میزائل سے اڑا دیا گیا، کسی کے دادا اور چچا قرآن کا حوالہ دے کر بندی خانے میں ڈال دیے گئے، پھانسی چڑھا دیے گئے اور یہ لوگ اب بھی غداری کے مرتکب نہیں ہوئے۔

سردار ثناء اللہ زہری ان بلوچ سرداروں میں سے ایک ہیں جو پاکستانی سیاست کے مرکزی دھارے میں شریک ہوئے۔ بعض دوسرے بلوچ سرداروں کی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کے گہرے روابط ہیں، وہ بلوچستان میں پی ایم ایل (این) کے صوبائی صدر ہیں۔ ان کے بیٹے، بھائی اور بھتیجے کی ہلاکتوں کی ذمے داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے جو بلوچستان میں اپنے قومی حقوق طلب کرنے والوں کو طاقت سے کچلنے کو جائز عمل تصور کرتے ہیں اور جس کے نتیجے میں بلوچ نوجوان وفاقِ پاکستان سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔

ہماری کم عمری میں نوروز خان ایک سچے اور کھرے سیاستدان تھے جن کے کردار کا اجلا پن ہمیں آمریت کی سیاہ رات میں روشن سیاست کا راستہ دکھاتا تھا۔ تاہم نصف صدی بعد ثابت یہ ہورہا ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا۔ جنرل ایوب خان نے قرآن پاک کے تقدس کا پاس نہیں کیا اور جنرل مشرف نے اپنے حلف کو پامال کیا؟ ایک نے نوروز خان کے بیٹوں کو تختہ دار پر چڑھایا اور دوسرے نے اکبر خان بگٹی کو ایک آپریشن کے ذریعے ہلاک کیا۔ نصف صدی پہلے شروع ہونے والا جبر، ناانصافی اور ظلم کا یہ سلسلہ دادا سے پوتوں تک آج بھی جاری ہے۔

کیا ملک ایسے چلائے جاتے ہیں؟

کیا ملک ایسے بچائے جاتے ہیں؟

(ختم شد)
Load Next Story