درآمدی چھالیہ کی ری شپمنٹ کی اجازت کا عندیہ

کریانہ مرچنٹس کی سیکریٹری تجارت سے ملاقات، املی کے درآمدی پرمٹ اجرا پر بھی آمادہ۔

ٹیسٹ ایس جی ایس سے کرانے کی بات بھی مان لی،دیگرمسائل کا جائزہ لینے کی بھی یقین دہانی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

وزارت تجارت نے درآمدہ چھالیہ کے کنسائمنٹس کی دوبارہ شپمنٹ کی اجازت دینے کا عندیہ دیتے ہوئے املی کی درآمدی پرمٹ کے اجرا پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

پاکستان کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وسیم الرحمن نے سیکریٹری تجارت کو بتایا کہ چھالیہ کی ری شپمنٹ کے مسئلے پر ایسوسی ایشن کے وفد نے کراچی میں چیف کلکٹر سے ملاقات کی اور چھالیہ کے کنسائمنٹس کی ری شپمنٹ کی اجازت دینے کی درخواست کی، چیف کلکٹر نے کہاکہ وہ وزارت تجارت سے اس حوالے سے اجازت حاصل کریں گے۔

سیکریٹری تجارت یونس ڈاگھانے کہا کہ جب قانون موجود ہے تو پھر اس کی اجازت کیوں نہیں دی گئی، وہ اس ضمن میں بات کریں گے اور ان کو ہدایت کریں گے کہ مذکورہ اشیا کو ان کے ممالک میں واپس بھیجنے کی اجازت دی جائے تاکہ لاکھوں پاکستانیوں کے زرمبادلہ کو بچایا جاسکے۔

سیکریٹری تجارت نے کہاکہ کسی بھی قابل اعتبار لیبارٹری کی کلیئرنس کے بغیر درآمدکنندگان کوئی بھی کنسائمنٹ ریلیز کرانے کے مجاز نہیں ہوں گے جس پر وسیم الرحمن نے بتایا کہ پی سی ایس آئی آر کے بجائے ایس جی ایس لیبارٹری کی رپورٹ کو لازمی قرار دیا جائے کیونکہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن پی سی ایس آئی آر میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتا ہے۔


سیکریٹری تجارت کو چھالیہ کے کنسائمنٹس کی مختلف رپورٹس بھی دکھائی گئیں جو پی سی ایس آئی آر اور ایس جی ایس کو ٹیسٹ کے لیے ایک ہی دن نمونے ارسال کیے گئے جن میں یہ فرق واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پی سی ایس آئی آر کی رپورٹ میں ایفلاٹوکسن لیول 106 ظاہرکیا گیا اس کے برعکس ایس جی ایس کی رپورٹ میں یہ لیول صرف 6 تھا۔

سیکریٹری تجارت نے رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر وسیم کو ہدایت کی کہ وہ نمونے ٹیسٹ کیلیے ایس جی ایس کو بھیجیں۔ ڈاکٹر وسیم نے مزاحمت کی کہ ایس جی ایس کو نمونے کیوں ارسال کیے جائیں تو سیکریٹری تجارت نے کہا کہ ایس جی ایس کیوں نہیں،کیا وہ درآمدکنندگان سے پیسے لیتے ہیں یا پھر وہ ٹیسٹ مناسب طریقے سے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ڈاکٹر وسیم نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جس پر وزارت تجارت نے ایس جی ایس کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ چھالیہ کے نمونے ٹیسٹ کیلیے صرف ایس جی ایس کو ہی بھیجے جائیں گے۔

وسیم الرحمن نے سیکریٹری تجارت کو بتایا کہ امپورٹ پرمٹ اور ریلیز آرڈر کے حصول کیلیے حال ہی میں آن لائن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے،محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی سست روی کی وجہ سے ریلیز آرڈر کے اجرا میں 3سے 4دن لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے درآمدی مال کی کلیئرنس تاخیر کا شکار ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں درآمد کنندگان کو غیر ضروری ڈی ٹینشن اور ڈیمرج کی مد میں اضافی ادائیگی کرنا پڑتی ہے جس سے درآمد کنندگان کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا ریلیز آرڈر کے اجرا جلد ازجلد ممکن بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔

سیکریٹری تجارت کو کین میں پیک اشیا کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ غیرضروری طور پر دنیا کے مشہور برانڈز کو دوبارہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے حالانکہ یہ برانڈ دنیا بھر میں برآمد کیے جاتے ہیں اور صحت عامہ سے متعلق مختلف سرٹفیکیٹس بھی رکھتے ہیں جس پر سیکریٹری تجارت نے کہاکہ وہ اس مسئلے کا جائزہ لیں گے کہ وہ اس پر کیا کرسکتے ہیں۔
Load Next Story