اسمارٹ گھڑی کی خراب ٹائمنگ
آئی سی سی نے پریس ریلیز کر کے بتایا کہ ’’ کرکٹ فیلڈ میں اسمارٹ واچز کے استعمال کی اجازت نہیں ہے‘‘۔
آئی سی سی نے پریس ریلیز کر کے بتایا کہ ’’ کرکٹ فیلڈ میں اسمارٹ واچز کے استعمال کی اجازت نہیں ہے‘‘۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پہلے دن کا کھیل ختم ہو گیا، مہمان ٹیم نے بہتر کارکردگی دکھائی، پاکستانی صحافی خوشی خوشی میڈیا کانفرنس میں گئے جہاں الیسٹر کک کے بعد حسن علی سے بات چیت کرائی گئی، یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ حسن سے ایک انگریزصحافی نے ''اسمارٹ واچ'' کے بارے میں سوال کیا ، ان کا جواب تھا کہ '' ہمارے بعض کرکٹرز نے ایسی گھڑیاں پہنی ہوئی تھیں آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ آفیشل نے منع کر دیا،آئندہ ہم ایسا نہیں کریں گے'' یہ سنتے ہی ہم سب الرٹ ہو گئے۔
ہمیں اندازہ ہو گیا کہ برطانوی میڈیا اب اسے بڑا ایشو بنانے والا ہے اور یہی ہوا چند ہی منٹ میں یہ اسٹوری آن لائن ایڈیشنز میں تہلکہ مچا چکی تھی،ہم نے مزید معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ اسد شفیق اور بابر اعظم نے ایپل کمپنی کی اسمارٹ واچز پہن رکھی تھیں۔ ان کے ذریعے کال وصول اور کرنے کے ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی بھی ممکن ہوتی ہے۔
بعض مقامی اخبارات نے مذکورہ کھلاڑیوں کی یہ گھڑیاں پہنے ہوئے تصاویر بھی شائع کیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کا مسئلہ یہ تھا اور رہے گا کہ وہ اپنے میڈیا کو کبھی اعتماد میں نہیں لیتا، اس بار بھی ایسا ہی ہوا ، لارڈز میں موجود صحافیوں کو بھی بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی کہ ایسا معاملہ ہے اور کھلاڑیوں سے لاعلمی میں غلطی ہوئی،پہلے دن انگلش ٹیم کے خراب کھیل کا غصہ مقامی میڈیا نے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کے بیان کرکے نکالا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل آئرش اور بعض بھارتی کرکٹرز بھی ایسی گھڑیاں پہن کر میچز کھیل چکے تھے۔
پی ایس ایل سمیت نجی لیگز میں بھی یہ عام بات ہے مگر کسی نے نوٹس نہ لیا، اب میڈیا نے ہی آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ آفیشل کی توجہ اس جانب مرکوز کرائی تواس نے پاکستانی کرکٹرز کو گھڑیاں اتارنے کا کہا، حالانکہ یہ اسی کا کام تھا کہ خود ہی دیکھ کر کرکٹرز کوپہلے ہی ہدایات جاری کرتا ، اب ایک دن بعد آج آئی سی سی نے پریس ریلیز کر کے بتایا کہ '' کرکٹ فیلڈ میں اسمارٹ واچز کے استعمال کی اجازت نہیں ہے''۔
میں نے بعض کھلاڑیوں سے معلوم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ '' میچ سے قبل بریفنگ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاتا، بس ہنی ٹریپ اور بکیز سے بچنے، موبائل فونز جمع کرانے جیسی باتیں بتائی جاتی ہیں، دوران میچ صرف ٹیم منیجر کا موبائل ہی ہر وقت آن رہ سکتا ہے، میڈیا منیجر، فزیو اور سیکیورٹی منیجر کو موبائل ساتھ رکھنے کی اجازت مگر ڈریسنگ روم میں سائلنٹ پر رکھنا پڑتا ہے۔ کسی ہنگامی حالت کی صورت میں فزیو یا سیکیورٹی منیجر استعمال کر بھی سکتا ہے۔
حالیہ واقعے کے تناظر میں یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو کون سا بچوں کو اسکول سے لینے جانا تھا یا ڈاکٹر سے ملاقات طے تھی جو وقت دیکھنا لازمی تھا، لارڈز میں ویسے ہی اتنی بڑی گھڑی لگی ہے اس میں ٹائم دیکھ لیتے، اگر فٹنس معاملات کا ریکارڈ رکھنے کیلیے اسمارٹ واچ ضروری تھی تو ایسی گھڑیاں بھی آتی ہیں جو کمیونیکیشن ڈیوائس کا کام نہیں کرتیں مگر آپ نے کتنی کیلوریز برن کیں وغیرہ کا ریکارڈ رکھتی ہیں،وہ استعمال کرنی چاہیے تھیں، ایپل کی جدید گھڑیاں فیلڈ میں پہنچ کر خوامخواہ کا تنازع کھڑا کیا گیا، مجھے ایک کھلاڑی نے بتایا کہ ٹیم میں ان واچز کااستعمال اسٹیٹس سمبل کے طور پر بھی ہوتا ہے۔
بعض کھلاڑیوں کے پاس تو 6،7 مختلف رنگوں کی گھڑیاں ہیں جو وہ لباس کی میچنگ سے پہنتے ہیں، لارڈز کا یہی گرائونڈ ہے جہاں مشہور زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا تھا،ذرا سوچیں اگر عامر نے بھی گھڑی پہنی ہوتی تو کیا ہوتا، برطانوی میڈیا تو ویسے ہی پاکستان کے حوالے سے تنازعات کی تلاش میں رہتا ہے ایسے میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔
ٹیم کے سیکیورٹی منیجر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر چیز پر نظر رکھیں اور اپنے کام پر زیادہ توجہ دیں، منیجر طلعت علی تو نظر ہی نہیں آتے، ماضی کے منیجرز کبھی کبھی میڈیا سے ملاقات کر لیتے تھے، موصوف کو شاید ڈریسنگ روم سے باہر کی جگہ پسند نہیں ہے، اسمارٹ واچ کا معاملہ سامنے آنے کی ٹائمنگ کافی خراب ہے، ٹیم لارڈز ٹیسٹ میں اب تک اچھا کھیل پیش کر رہی ہے ایسے میں منفی باتیں کارکردگی کو پس پشت ڈال دیں گی۔
اب کچھ دیگر باتیں بھی کر لیتے ہیں، انگلینڈ میں کئی کرکٹرزکے ساتھ فیملیز بھی آئی ہوئی ہیں، عامر کی اہلیہ پہلے ہی برطانوی شہریت کی حامل اور اب اپنے شوہر کو بھی پاسپورٹ دلانے میں مدد کر رہی ہیں، بولنگ کوچ اظہر محمود اہلیہ کے ساتھ پہلے ہی برطانیہ میں رہتے ہیں۔
منیجر طلعت علی بھی برطانوی شہریت کے حامل ہیں، جب ہم اسٹیڈیم سے واپس جا رہے تھے تو سڑک پر بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کو بھی کسی دوست کے ساتھ پیدل چلتے دیکھا،ان کے بھائی اینڈی فلاور،اینڈریو اسٹروس کے چھٹیوں پر جانے کی وجہ سے ان دنوں انگلینڈ کے قائم مقام کرکٹ ڈائریکٹر ہیں،اینڈی کی گذشتہ دنوں اپنی اہلیہ سے علیحدگی ہوئی ہے، حال ہی میں پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کو بھی یہی صدمہ جھیلنا پڑا،کرکٹ کوچنگ یا دیگر اہم ذمہ داریوں میں مصروف اہم شخصیات کو اکثر نجی زندگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لارڈز کے میڈیا سینٹر میں وہی بھرپور ماحول برقرار ہے، فارغ وقت میں وسیم اکرم، وقار یونس اور رمیز راجہ پاکستانی صحافیوں سے گپ شپ کرتے ہیں، خصوصاً وسیم بھائی کے دلچسپ واقعات سب کو قہقہے لگانے کا موقع دیتے ہیں، اسٹیڈیم آج بھی تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہے، ایک باکس میں ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ہارون رشید بھی موجود ہیں، شاید وہ یہاں مستقبل کے ''منصوبوں'' کا جائزہ لینے آئے ہیں، انگلینڈ کے دورے میں ویسے بھی چیف سلیکٹر اور بورڈ کے ڈائریکٹرز جانا فرض سمجھتے ہیں، حالانکہ انھیں ڈومیسٹک میچز میں ہونا چاہیے۔
جیسے گذشتہ دنوں پاکستان کپ کے دوران لاہور سے 192 کلومیٹر دور فیصل آباد جانے کا ہارون نہ ہی انضمام کو وقت ملا مگر 6285 میل کے فاصلے پرواقع لندن ڈائریکٹر صاحب خوشی خوشی آ گئے، انضمام الحق نے بھی یہی کیا اور وہ آئرلینڈ گئے تھے، ہمیں یہ سوچ تبدیل اور ایسے تفریحی دورے بند کرنا ہوں گے، یہ رقم نوجوان کرکٹرز پر خرچ کریں تو کچھ فائدہ بھی ہو گا،خیر ہم جو بھی کہیں فرق پڑنے والا نہیں ہے ، بس ابھی یہی سوچ ہے کہ ٹیم لارڈز ٹیسٹ جیت جائے تاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ترقی کی جانب سفر شروع ہو۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
ہمیں اندازہ ہو گیا کہ برطانوی میڈیا اب اسے بڑا ایشو بنانے والا ہے اور یہی ہوا چند ہی منٹ میں یہ اسٹوری آن لائن ایڈیشنز میں تہلکہ مچا چکی تھی،ہم نے مزید معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ اسد شفیق اور بابر اعظم نے ایپل کمپنی کی اسمارٹ واچز پہن رکھی تھیں۔ ان کے ذریعے کال وصول اور کرنے کے ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی بھی ممکن ہوتی ہے۔
بعض مقامی اخبارات نے مذکورہ کھلاڑیوں کی یہ گھڑیاں پہنے ہوئے تصاویر بھی شائع کیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کا مسئلہ یہ تھا اور رہے گا کہ وہ اپنے میڈیا کو کبھی اعتماد میں نہیں لیتا، اس بار بھی ایسا ہی ہوا ، لارڈز میں موجود صحافیوں کو بھی بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی کہ ایسا معاملہ ہے اور کھلاڑیوں سے لاعلمی میں غلطی ہوئی،پہلے دن انگلش ٹیم کے خراب کھیل کا غصہ مقامی میڈیا نے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کے بیان کرکے نکالا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل آئرش اور بعض بھارتی کرکٹرز بھی ایسی گھڑیاں پہن کر میچز کھیل چکے تھے۔
پی ایس ایل سمیت نجی لیگز میں بھی یہ عام بات ہے مگر کسی نے نوٹس نہ لیا، اب میڈیا نے ہی آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ آفیشل کی توجہ اس جانب مرکوز کرائی تواس نے پاکستانی کرکٹرز کو گھڑیاں اتارنے کا کہا، حالانکہ یہ اسی کا کام تھا کہ خود ہی دیکھ کر کرکٹرز کوپہلے ہی ہدایات جاری کرتا ، اب ایک دن بعد آج آئی سی سی نے پریس ریلیز کر کے بتایا کہ '' کرکٹ فیلڈ میں اسمارٹ واچز کے استعمال کی اجازت نہیں ہے''۔
میں نے بعض کھلاڑیوں سے معلوم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ '' میچ سے قبل بریفنگ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاتا، بس ہنی ٹریپ اور بکیز سے بچنے، موبائل فونز جمع کرانے جیسی باتیں بتائی جاتی ہیں، دوران میچ صرف ٹیم منیجر کا موبائل ہی ہر وقت آن رہ سکتا ہے، میڈیا منیجر، فزیو اور سیکیورٹی منیجر کو موبائل ساتھ رکھنے کی اجازت مگر ڈریسنگ روم میں سائلنٹ پر رکھنا پڑتا ہے۔ کسی ہنگامی حالت کی صورت میں فزیو یا سیکیورٹی منیجر استعمال کر بھی سکتا ہے۔
حالیہ واقعے کے تناظر میں یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو کون سا بچوں کو اسکول سے لینے جانا تھا یا ڈاکٹر سے ملاقات طے تھی جو وقت دیکھنا لازمی تھا، لارڈز میں ویسے ہی اتنی بڑی گھڑی لگی ہے اس میں ٹائم دیکھ لیتے، اگر فٹنس معاملات کا ریکارڈ رکھنے کیلیے اسمارٹ واچ ضروری تھی تو ایسی گھڑیاں بھی آتی ہیں جو کمیونیکیشن ڈیوائس کا کام نہیں کرتیں مگر آپ نے کتنی کیلوریز برن کیں وغیرہ کا ریکارڈ رکھتی ہیں،وہ استعمال کرنی چاہیے تھیں، ایپل کی جدید گھڑیاں فیلڈ میں پہنچ کر خوامخواہ کا تنازع کھڑا کیا گیا، مجھے ایک کھلاڑی نے بتایا کہ ٹیم میں ان واچز کااستعمال اسٹیٹس سمبل کے طور پر بھی ہوتا ہے۔
بعض کھلاڑیوں کے پاس تو 6،7 مختلف رنگوں کی گھڑیاں ہیں جو وہ لباس کی میچنگ سے پہنتے ہیں، لارڈز کا یہی گرائونڈ ہے جہاں مشہور زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا تھا،ذرا سوچیں اگر عامر نے بھی گھڑی پہنی ہوتی تو کیا ہوتا، برطانوی میڈیا تو ویسے ہی پاکستان کے حوالے سے تنازعات کی تلاش میں رہتا ہے ایسے میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔
ٹیم کے سیکیورٹی منیجر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر چیز پر نظر رکھیں اور اپنے کام پر زیادہ توجہ دیں، منیجر طلعت علی تو نظر ہی نہیں آتے، ماضی کے منیجرز کبھی کبھی میڈیا سے ملاقات کر لیتے تھے، موصوف کو شاید ڈریسنگ روم سے باہر کی جگہ پسند نہیں ہے، اسمارٹ واچ کا معاملہ سامنے آنے کی ٹائمنگ کافی خراب ہے، ٹیم لارڈز ٹیسٹ میں اب تک اچھا کھیل پیش کر رہی ہے ایسے میں منفی باتیں کارکردگی کو پس پشت ڈال دیں گی۔
اب کچھ دیگر باتیں بھی کر لیتے ہیں، انگلینڈ میں کئی کرکٹرزکے ساتھ فیملیز بھی آئی ہوئی ہیں، عامر کی اہلیہ پہلے ہی برطانوی شہریت کی حامل اور اب اپنے شوہر کو بھی پاسپورٹ دلانے میں مدد کر رہی ہیں، بولنگ کوچ اظہر محمود اہلیہ کے ساتھ پہلے ہی برطانیہ میں رہتے ہیں۔
منیجر طلعت علی بھی برطانوی شہریت کے حامل ہیں، جب ہم اسٹیڈیم سے واپس جا رہے تھے تو سڑک پر بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کو بھی کسی دوست کے ساتھ پیدل چلتے دیکھا،ان کے بھائی اینڈی فلاور،اینڈریو اسٹروس کے چھٹیوں پر جانے کی وجہ سے ان دنوں انگلینڈ کے قائم مقام کرکٹ ڈائریکٹر ہیں،اینڈی کی گذشتہ دنوں اپنی اہلیہ سے علیحدگی ہوئی ہے، حال ہی میں پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کو بھی یہی صدمہ جھیلنا پڑا،کرکٹ کوچنگ یا دیگر اہم ذمہ داریوں میں مصروف اہم شخصیات کو اکثر نجی زندگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لارڈز کے میڈیا سینٹر میں وہی بھرپور ماحول برقرار ہے، فارغ وقت میں وسیم اکرم، وقار یونس اور رمیز راجہ پاکستانی صحافیوں سے گپ شپ کرتے ہیں، خصوصاً وسیم بھائی کے دلچسپ واقعات سب کو قہقہے لگانے کا موقع دیتے ہیں، اسٹیڈیم آج بھی تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہے، ایک باکس میں ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ہارون رشید بھی موجود ہیں، شاید وہ یہاں مستقبل کے ''منصوبوں'' کا جائزہ لینے آئے ہیں، انگلینڈ کے دورے میں ویسے بھی چیف سلیکٹر اور بورڈ کے ڈائریکٹرز جانا فرض سمجھتے ہیں، حالانکہ انھیں ڈومیسٹک میچز میں ہونا چاہیے۔
جیسے گذشتہ دنوں پاکستان کپ کے دوران لاہور سے 192 کلومیٹر دور فیصل آباد جانے کا ہارون نہ ہی انضمام کو وقت ملا مگر 6285 میل کے فاصلے پرواقع لندن ڈائریکٹر صاحب خوشی خوشی آ گئے، انضمام الحق نے بھی یہی کیا اور وہ آئرلینڈ گئے تھے، ہمیں یہ سوچ تبدیل اور ایسے تفریحی دورے بند کرنا ہوں گے، یہ رقم نوجوان کرکٹرز پر خرچ کریں تو کچھ فائدہ بھی ہو گا،خیر ہم جو بھی کہیں فرق پڑنے والا نہیں ہے ، بس ابھی یہی سوچ ہے کہ ٹیم لارڈز ٹیسٹ جیت جائے تاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ترقی کی جانب سفر شروع ہو۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)