اسٹیٹ بینک نے شرح سود 6 فیصد سے بڑھاکر 65 فیصد کردی
مالی سال 18-2017 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 5.8 فیصد رہے گی جو 13 سال کی بلند ترین سطح ہے، اسٹیٹ بینک
مالی سال 18-2017 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 5.8 فیصد رہے گی جو 13 سال کی بلند ترین سطح ہے، اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2 ماہ کیلیے مانیٹری پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں نصف فیصد اضافہ کردیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے روہے کی گرتی ہوئی قدر اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے افراط زر کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ 6 فیصد سے بڑھاکر 6.5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کیا ، مانیٹری پالیسی میں معیشت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 18-2017 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 5.8 فیصد رہے گی جو 13 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق عمومی مہنگائی معتدل ہے جو 6 فیصد کے سالانہ ہدف سے کافی کم رہے گی، اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 18 مئی تک 5.8ارب ڈالر کمی ہوئی جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر رواں مالی سال کے دوران 9.3 فیصد تک گرچکی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ائندہ مالی سال گرانی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر 6.2 فیصد حقیقی معاشی شرح نمو کا ہدف کو بھی دشوار قرار دیا، اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی بھی 6 فیصد کے ہدف سے زائد رہے گی
اسٹیٹ بینک نے روہے کی گرتی ہوئی قدر اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے افراط زر کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ 6 فیصد سے بڑھاکر 6.5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کیا ، مانیٹری پالیسی میں معیشت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 18-2017 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 5.8 فیصد رہے گی جو 13 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق عمومی مہنگائی معتدل ہے جو 6 فیصد کے سالانہ ہدف سے کافی کم رہے گی، اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 18 مئی تک 5.8ارب ڈالر کمی ہوئی جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر رواں مالی سال کے دوران 9.3 فیصد تک گرچکی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ائندہ مالی سال گرانی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر 6.2 فیصد حقیقی معاشی شرح نمو کا ہدف کو بھی دشوار قرار دیا، اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی بھی 6 فیصد کے ہدف سے زائد رہے گی