بارش کے بعد سڑکوں پر گڑھے پڑگئے موٹر سائیکل سوار پریشان

گڑھوں کے باعث حادثات میں اضافہ ہوگیا،ماضی میں بارشوں کے فوری بعدسڑکوں کی استرکاری اور پیوندکاری شروع ہوجاتی تھی۔

اتنی سنگین صورتحال کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کے ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ محکمے کے سربراہ کی تقرری کا حتمی فیصلہ نہ ہونا ہے، ذرائع فوٹو: اے ایف پی

PESHAWAR:
حالیہ بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں جو کہ شہریوں خصوصاًً موٹر سائیکل سواروں کے لیے موت کا کنواں بنتے جارہے ہیں۔

جبکہ حیرت انگیز طور پر اتنی سنگین صورتحال کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کے ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں جس کی اہم وجہ محکمہ کے سربراہ کی تقرری کا حتمی فیصلہ نہ ہونا ہے، تفصیلات کے مطابق رواں ماہ میں ہونے والی بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہوگئی ہے، ان سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں جو کہ سڑک کو استعمال کرنے والوں خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کے لیے موت کا کنواں بن گئے ہیں، ان گڑھوں کے باعث کراچی میں ٹریفک حادثات کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

ماضی میں بارشوں کے فوری بعدسڑکوں کی استرکاری اور پیوندکاری کا کام شروع ہوجاتا تھا تاہم اس مرتبہ استرکاری اورپیوندکاری کرنا تو بہت دور کی بات ہے کہ اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کا محکمہ انجینئرنگ آج کل کس حد تک فعال اور متحرک ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکوں کی حالت بگڑگئی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ ان سڑکوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔




اس صورتحال سے شہریوں میں بھی شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے کہ ان کا کہنا کہ ہمارا کراچی کی سڑکوں پر گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلانا مشکل ہوگیا ہے، دوسری طرف بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ انجینئرنگ کے ذرائع نے بتایا کہ ہے اصل معاملہ یہ ہے کہ اس وقت محکمہ انجینئرنگ عضو معطل بنا ہوا ہے،3 امیدوار محکمے کے سربراہ ہونے کے دعویدار ہیں اگرچہ بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر کے حکمنامے کے تحت ڈائریکٹر جنرل بننے والے نیاز سومرو کا ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کے دفتر پر قبضہ ہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے مقرر کیے جانے والے ڈائریکٹرجنرل ٹیکنیکل سروسز ابراہیم بلوچ اور محکمہ بلدیات کی طرف سے مقرر کیے جانے والے اسداﷲشاہ کے حکمنامے منسوخ ہوجائیں۔

تاہم وہ ابھی اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے،ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث محکمے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہورہی ہے کیونکہ نیاز سومرو دن بھر دفتری معاملات سنبھالنے کے بجائے اپنے کرسی بچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں، ان کی کوششوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسران کو بلاکر پوچھتے ہیں کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس عہدے پر برقرار رہونگا یا پھر ابراہیم بلوچ یا اسداﷲ شاہ آنے میں کامیاب ہوجائیں گے، محکمے کے افسران نے بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر ہاشم رضا زیدی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں تاکہ کنفیوژن کی فضا ختم ہوسکے کیونکہ محکمے کی خراب صورتحال کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔
Load Next Story