وسیم نے بیٹنگ کے گُر بھی سکھانے شروع کردیے
اب بولر کا کام صرف بولنگ ہی نہیں بلکہ بیٹ سے عمدہ کھیل کی ذمہ داری بھی ادا کرنا ہے، فاسٹ بولرز کیمپ کے چوتھے۔۔۔
وسیم اکرم سے زیادہ خطرناک بولر بننا چاہتا ہوں، اگر سلیکٹرز نے بھروسہ کرتے ہوئے منتخب کیا تو چیمپئنز ٹرافی میں عمر گل کی کمی پوری کر دوں گا، احسان عادل۔ فوٹو: فائل
پی سی بی کے تحت نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں جاری تربیتی کیمپ کے نگراں عظیم آل راؤنڈر وسیم اکرم نے اُبھرتے ہوئے بولرز کو فاسٹ بولنگ کے رموز بتانے کے ساتھ بیٹنگ کے گُر بھی سکھانے شروع کردیے۔
انھوں نے کیمپ کے چوتھے روز پیسرزکوباؤنسی اور فلیٹ وکٹوں پر بیٹسمینوں کو زیر کرنے کے طریقے بتائے،نئے قوانین کی روشنی میں مشکلات سے نبٹنے اور کامیابی کے لیے بولنگ کے مختلف زاویوں سے آگاہی بھی فراہم کی،بعد ازاں وسیم اکرم نے ان بولرز کو بیٹ پکڑاتے ہوئے کہا کہ اب بولر کا کام صرف بولنگ کرنا ہی نہیں بلکہ بیٹنگ کی ذمہ داری بھی ادا کرنا ہے،ٹیم کوآل راؤنڈرزکی ضرورت ہوتی ہے،بولر کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد بیٹنگ سے بھی تہلکہ مچانے والے وسیم اکرم نے پلیئرزکو کریز پراعتماد سے رکنے، بولنگ کا سامنا کرنے اورضرورت پڑنے پرجارحانہ انداز بھی اختیار کرنے کے طریقے بتائے،دریں اثناء کیمپ میں روزانہ ہونے والے 2،2 گھنٹوں پر مشتمل دو سیشن ختم کر دیے گئے، اب بولرز مسلسل 4 گھنٹے کے ایک سیشن میں شریک ہوں گے۔
علاوہ ازیں پی سی بی کے تحت یو فون کے تعاون سے کنگ آف اسپیڈکی مہم میں وائلڈ کارڈ انٹری کے ذریعے منتخب ہونے والے 3 فاسٹ بولرز نے قومی بولنگ کیمپ جوائن کر لیا، ان میں کراچی سے محمدعمران اور عبدالامیر جبکہ فیصل آباد سے فیصل یاسین بھی شامل ہیں، اس طرح کیمپ کے شرکاء کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی، قبل ازیں ملک کے دس شہروں ملتان، فیصل آباد، گڑھی خدا بخش، اسلام آباد،کراچی، کوئٹہ، ایبٹ آباد، میر پور آزاد کشمیراور لاہور میں فاسٹ بولرز کے انتخاب کے لیے ٹرائلز منعقد ہوئے تھے، ٹیسٹ آل راؤنڈر سہیل تنویر نے گذشتہ روز کیمپ کا رخ نہیںکیا۔
وسیم اکرم کی معاونت کرنے والے قومی بولنگ کوچ محمد اکرم کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی کو آنے سے نہیں روکا ، سابق کپتان کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے لیے کوئی بھی آسکتا ہے۔ دریں اثنا پاکستان کی جانب سے واحد ٹیسٹ کھیلنے والے 20 سالہ رائٹ آرم فاسٹ بولر احسان عادل نے کہا ہے کہ وسیم اکر کی صلاحیتوں کی پوری دنیا معترف ہے، پی سی بی کے تحت قومی تربیتی کیمپ میں اپنے دور کے عظیم آل راؤنڈر سے تربیت کا حصول مستقبل میںکار آمد رہے گا، احسان نے گزشتہ برس فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کرنے کے بعد حالیہ دورئہ جنوبی افریقہ میں سنچورین میں پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے 2 وکٹیں لیں۔
انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کے پہلے اوور کی تیسری گیند پر گریم اسمتھ کی وکٹ اپنے نام کی تھی، احسان عادل نے کہا کہ اگر سلیکٹرز نے بھروسہ کرتے ہوئے منتخب کیا تو چیمپئنز ٹرافی میں عمر گل کی کمی پوری کرنے کی کوشش کروںگا،ٹی ٹوئنٹی کے 9 میچوں میں22 وکٹیں حاصل کرنے والے پیسر نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ وسیم اکرم سے زیادہ خطرناک بولر بن جاؤں جس کے لیے بھر پور محنت کر رہا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ وسیم اکرم کیمپ میں بھر پورتوجہ دے رہے ہیں، وہ سوئنگ، ریورس سوئنگ کے علاوہ یارکر کی مہارتوں سے آگاہ کر رہے ہیں جو ہماری کارکر دگی پر مثبت اثر ڈالے گی، شریک ایک اور فاسٹ بولر ضیاء الحق کا کہنا ہے کہ کیمپ میں وسیم اکرم مفید اور سود مندمشورے دے رہے ہیں ، انھوں نے بولرز کوپٹائی کی صورت میں ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کرنے پر زور دیا۔
انھوں نے کیمپ کے چوتھے روز پیسرزکوباؤنسی اور فلیٹ وکٹوں پر بیٹسمینوں کو زیر کرنے کے طریقے بتائے،نئے قوانین کی روشنی میں مشکلات سے نبٹنے اور کامیابی کے لیے بولنگ کے مختلف زاویوں سے آگاہی بھی فراہم کی،بعد ازاں وسیم اکرم نے ان بولرز کو بیٹ پکڑاتے ہوئے کہا کہ اب بولر کا کام صرف بولنگ کرنا ہی نہیں بلکہ بیٹنگ کی ذمہ داری بھی ادا کرنا ہے،ٹیم کوآل راؤنڈرزکی ضرورت ہوتی ہے،بولر کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد بیٹنگ سے بھی تہلکہ مچانے والے وسیم اکرم نے پلیئرزکو کریز پراعتماد سے رکنے، بولنگ کا سامنا کرنے اورضرورت پڑنے پرجارحانہ انداز بھی اختیار کرنے کے طریقے بتائے،دریں اثناء کیمپ میں روزانہ ہونے والے 2،2 گھنٹوں پر مشتمل دو سیشن ختم کر دیے گئے، اب بولرز مسلسل 4 گھنٹے کے ایک سیشن میں شریک ہوں گے۔
علاوہ ازیں پی سی بی کے تحت یو فون کے تعاون سے کنگ آف اسپیڈکی مہم میں وائلڈ کارڈ انٹری کے ذریعے منتخب ہونے والے 3 فاسٹ بولرز نے قومی بولنگ کیمپ جوائن کر لیا، ان میں کراچی سے محمدعمران اور عبدالامیر جبکہ فیصل آباد سے فیصل یاسین بھی شامل ہیں، اس طرح کیمپ کے شرکاء کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی، قبل ازیں ملک کے دس شہروں ملتان، فیصل آباد، گڑھی خدا بخش، اسلام آباد،کراچی، کوئٹہ، ایبٹ آباد، میر پور آزاد کشمیراور لاہور میں فاسٹ بولرز کے انتخاب کے لیے ٹرائلز منعقد ہوئے تھے، ٹیسٹ آل راؤنڈر سہیل تنویر نے گذشتہ روز کیمپ کا رخ نہیںکیا۔
وسیم اکرم کی معاونت کرنے والے قومی بولنگ کوچ محمد اکرم کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی کو آنے سے نہیں روکا ، سابق کپتان کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے لیے کوئی بھی آسکتا ہے۔ دریں اثنا پاکستان کی جانب سے واحد ٹیسٹ کھیلنے والے 20 سالہ رائٹ آرم فاسٹ بولر احسان عادل نے کہا ہے کہ وسیم اکر کی صلاحیتوں کی پوری دنیا معترف ہے، پی سی بی کے تحت قومی تربیتی کیمپ میں اپنے دور کے عظیم آل راؤنڈر سے تربیت کا حصول مستقبل میںکار آمد رہے گا، احسان نے گزشتہ برس فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کرنے کے بعد حالیہ دورئہ جنوبی افریقہ میں سنچورین میں پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے 2 وکٹیں لیں۔
انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کے پہلے اوور کی تیسری گیند پر گریم اسمتھ کی وکٹ اپنے نام کی تھی، احسان عادل نے کہا کہ اگر سلیکٹرز نے بھروسہ کرتے ہوئے منتخب کیا تو چیمپئنز ٹرافی میں عمر گل کی کمی پوری کرنے کی کوشش کروںگا،ٹی ٹوئنٹی کے 9 میچوں میں22 وکٹیں حاصل کرنے والے پیسر نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ وسیم اکرم سے زیادہ خطرناک بولر بن جاؤں جس کے لیے بھر پور محنت کر رہا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ وسیم اکرم کیمپ میں بھر پورتوجہ دے رہے ہیں، وہ سوئنگ، ریورس سوئنگ کے علاوہ یارکر کی مہارتوں سے آگاہ کر رہے ہیں جو ہماری کارکر دگی پر مثبت اثر ڈالے گی، شریک ایک اور فاسٹ بولر ضیاء الحق کا کہنا ہے کہ کیمپ میں وسیم اکرم مفید اور سود مندمشورے دے رہے ہیں ، انھوں نے بولرز کوپٹائی کی صورت میں ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کرنے پر زور دیا۔