اسپائی ماسٹرز کی کتاب کا مسئلہ

کتاب کی غیر متوقع اشاعت نے سیاسی و عسکری حلقوں، میڈیا کے دفاعی تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

کتاب کی غیر متوقع اشاعت نے سیاسی و عسکری حلقوں، میڈیا کے دفاعی تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ فوٹو: فائل

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو 28 مئی کو جی ایچ کیو میں طلب کیا گیا ہے جن سے استفسار کیا جائے گا کہ وہ سابق ''را''چیف امر سنگھ دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب میں بیان کردہ واقعات پر وضاحت کریں۔ ان سے کتاب ''دی کرونیکلز'' میں ان سے منسوب بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لیے کہا جائے گا، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کتاب میں ان سے منسوب باتوں کو ملٹری کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر محمول کیا گیا ہے، یہ کوڈ آف کنڈیکٹ تمام حاضر اور ریٹائرڈ فوجی افسران پر لاگو ہوتا ہے۔

بلاشبہ برصغیر کی دو اسپائی ماسٹرز کی اس مشترکہ کتاب کی غیر متوقع اشاعت نے سیاسی و عسکری حلقوں، میڈیا کے دفاعی تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کو حیرت میں ڈال دیا ہے، کتاب پر فوج کو تحفظات ہیں، اس لیے مذکورہ کتاب پر کسی قسم کی غیر محتاط خیال آرائی سے اس وقت تک اجتناب بہتر ہے جب تک جنرل (ر) اسد درانی اس ضمن میں جی ایچ کیو کو اپنی وضاحت نہ پیش کردیں، کیونکہ کتاب حساس موضوعات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کے مندرجات منظرعام پر آچکے ہیں۔

بعض سیاسی مبصرین کا استدلال یہی ہوگا کہ اس انفارمیشن ایکسپلوژن کے عہد میں کسی متنازعہ کتاب کا ناقدانہ جائزہ نہ لینا قرین مصلحت نہیں ہے، تاہم ملکی سلامتی، جنوبی ایشیا کے غیر معمولی حالات اور خطے میں کثیر جہتی مسائل اور ایشوز کی نزاکت اور حساسیت کے پیش نظر کچھ انتظار کیا جائے تو صائب بات ہوگی، جنرل اسد کی وضاحتوں سے پتا چلے گا کہ کن ناگزیر و ناگفتہ حالات اور محرکات کے باعث وہ اس مشترکہ کتاب کی اشاعت پر راضی ہوئے، کیا انھوں نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عسکری حفظ مراتب سے پیشگی اجازت لی تھی؟

جب کہ تحقیقاتی رپورٹرز کے ملکی ذرائع بھی یہ نہ بتا سکے کہ ایسی کوئی کتاب آرہی ہے جو پاک بھارت خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہان کی فکری، عسکری اور سراغ رسانی کے انتہائی حساس معاملات پر گفتگو کا نچوڑ ہوگی اور پاک بھارت تنازعات اور خطے کے دیگر ایشوز پر باہم متحارب و حریف سابق اسپائی ماسٹرز اپنے ملک سے دور استنبول، کھٹمنڈو اور بنکاک میں ملاقاتوں اور بات چیت کو ضبط تحریر میں لاکر پاک بھارت سیاسی و عسکری حلقوں کے لیے خود کتاب کو ایک سوالیہ نشان بنادیں گے۔

عجیب بات ہے کہ اسد درانی کو بھارت نے ویزہ دینے سے معذرت کی جس کی وجہ سے وہ تقریب رونمائی میں شرکت نہ کرسکے تاہم ایک رپورٹ کے مطابق اسد درانی نے ویزہ نہ ملنے کے بعد بھارتی ہم منصب کو ایک ریکارڈ شدہ پیغام پہنچایا جس میں بھارتی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس طرح انہیں پاکستانی عقابوں کے غیظ وغضب سے بچا لیا گیا۔ یہ کتاب بلائے ناگہانی کے طور پر سامنے لائی گئی ہے جس کے بارے میں محض زیب داستاں کے لیے حتمی رائے نہیں دی جانی چاہیے، جنرل اسد ہی حقیقت بتا سکیں گے۔


واضح رہے اس کتاب کی بھارت میں تقریب رونمائی بھی ہوچکی ہے۔ کتاب اس لیے بھی زیر بحث ہے کہ عام طور پر دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ یا ہائی پروفائل جاسوس ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی یادداشتوں کو کتابی شکل میں شائع کرادیتے ہیں اور وہ ہاٹ کیک کی طرح بک جاتی ہیں۔ جہاں تک پاک بھارت تعلقات کا معاملہ ہے وہ تاریخ کی انتہائی نچلی اور تہلکہ خیز سطح پر ہیں، بھارت نے جنگ جیسی صورتحال پیدا کی ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر، جامع مذاکرات کی راہ میں حائل دشواریوں، بلوچستان، کلبھوشن یادیو، دہشتگردی، بھارت میں دہشتگردانہ حملوں اور جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتحال کتاب کے اہم موضوع ہیں، یوں دو ستیزہ کار پڑوسی ملکوں کی پریمیئر خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی مذکورہ کتاب دو طرفہ تعلقات کی انتہائی سنگین تناظر میں منظر عام پر آئی ہے۔

ادھر سول اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اور قانون سے بالاتر نہیں، آرمی چیف کی طرف سے ایک زبردست اور بروقت اقدام کیا گیا ہے، عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے سابق سربراہ کی مشترکہ کتاب میں انکشاف پر قومی کمیشن بنایا جائے، ان انکشافات پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بھی پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہوں کی کتاب ''دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژنز آف پیس'' کی اشاعت پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ کتاب کسی سویلین یا سیاستدان نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو اس پر 'غدار' کا فتویٰ لگا دیا جاتا۔

وفاقی وزیر قانون انصاف بشیر محمود ورک نے کہا اس بارے میں انھیں کچھ علم نہیں، بہتر یہی ہوگا کہ وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کرلی جائے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کرلی۔ امید ہے فہمیدہ حلقے صورتحال کے منطقی نتیجہ کا تحمل سے انتظار کریں گے۔

 
Load Next Story