الیکشن میں ایک ووٹ پر100روپے لاگت آئے گی
انتخابی نوعیت تبدیل اور مہنگائی سے لاگت بڑھ گئی، بیلٹ پیپر کی چھپائی شروع، 50 فیصد ووٹ کاسٹ نہیں ہوتے
گزشتہ لاگت 70 روپے تھی،انتخابی نوعیت تبدیل اور مہنگائی سے لاگت بڑھ گئی، بیلٹ پیپر کی چھپائی شروع، 50 فیصد ووٹ کاسٹ نہیں ہوتے. فوٹو: فائل
آئندہ الیکشن میں ایک ووٹر کیلیے انتخابی مواد کی تیاری،انتخابی عملے کے اعزازیے اوردیگر اخراجات پر 100روپے سے زائد لاگت آرہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گزشتہ عام انتخابات اور ضمنی انتخابات میں ایک ووٹر پر تقریباً 70روپے تک لاگت آئی تھی تاہم اس بار الیکشن کی نوعیت کافی حساس ہے اس لیے سیکیورٹی، عملے کی تربیت، انتخابی مواد، ریٹرننگ افسران کے اخراجات، بیلٹ پیپرز سمیت دیگر اہم اقدامات پر اخراجات زیادہ آئے ہیں، مہنگائی سے بھی اخراجات بڑھے،ذرائع کے مطابق پاکستان میں 50 فیصد سے زائد ووٹرز ووٹ ہی کاسٹ نہیں کرتے۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن کے مطابق بیلٹ پیپرز کی چھپائی 30اپریل تک مکمل کرلی جائیگی، پرنٹنگ پریس کارپوریشن آف پاکستان میں سندھ و بلوچستان کیلیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع پرنٹنگ پریس کارپویشن میں پنجاب کے 3 ڈویژنز کیلیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع کی جاچکی ہے، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلیے6 کروڑ روپے اخراجات آرہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گزشتہ عام انتخابات اور ضمنی انتخابات میں ایک ووٹر پر تقریباً 70روپے تک لاگت آئی تھی تاہم اس بار الیکشن کی نوعیت کافی حساس ہے اس لیے سیکیورٹی، عملے کی تربیت، انتخابی مواد، ریٹرننگ افسران کے اخراجات، بیلٹ پیپرز سمیت دیگر اہم اقدامات پر اخراجات زیادہ آئے ہیں، مہنگائی سے بھی اخراجات بڑھے،ذرائع کے مطابق پاکستان میں 50 فیصد سے زائد ووٹرز ووٹ ہی کاسٹ نہیں کرتے۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن کے مطابق بیلٹ پیپرز کی چھپائی 30اپریل تک مکمل کرلی جائیگی، پرنٹنگ پریس کارپوریشن آف پاکستان میں سندھ و بلوچستان کیلیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع پرنٹنگ پریس کارپویشن میں پنجاب کے 3 ڈویژنز کیلیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع کی جاچکی ہے، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلیے6 کروڑ روپے اخراجات آرہے ہیں۔