وال چاکنگ کیس سیاسی جماعتوں کو جواب داخل کرنے کیلیے دوبارہ نوٹس

جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی.

گورنر سندھ نے شہری انتظامیہ کووال چاکنگ ختم کرنیکا حکم دیا تھا، درخواست گزارا. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے شہر کی دیواروں پروال چاکنگ اور سیاسی نعرے درج کرنے کے خلاف درخواست پرالیکشن کمیشن،تمام سیاسی جماعتوں ،محکمہ قانون اور کے ایم سی سے 30اپریل تک جواب طلب کرلیا ہے۔

فاضل بینچ نے منگل کو رانا فیض الحسن کی شہر میں بیریئرزکی تنصیب اور وال چاکنگ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی،اس موقع پرجماعت اسلامی کے وکیل اکرم شہباز اور پیپلز پارٹی کے رہنما نجمی عالم پیش ہوئے اورجواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی،عدالت نے دیگر سیاسی جماعتوں کو دوبارہ نوٹس جاری کردیا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ 16اپریل 2013 کو سپریم کورٹ میں کراچی میں بیریئرز کی تنصیب کے حوالے سے مفصل اور جامع رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔




یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں چیف سیکریٹری، وزیر بلدیات، سیکریٹری داخلہ ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اور کمشنر کراچی کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کراچی میں اہم شاہراہوں اور گلیوں میں بیریئرز لگادیے ہیں جن سے ہنگامی صورتحال میں بھی نکلنے کا راستہ نہیں ملتا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر کی اہم دیواروں کو چاکنگ سے گندا کردیا گیا ہے، گورنر سندھ نے 3اکتوبر2011کو شہری انتظامیہ کو وال چاکنگ ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
Load Next Story