لیاریپولیس رینجرز اور گینسٹرز میں جھڑپ3اغوا کار اور خاتون ہلاک

ملزمان نے گارڈن سے عرفان کو اغوا کیا،ایک روز قبل پولیس ورینجرز شدید مزاحمت پر واپس آگئی تھی جس پر مغوی کو قتل کردیا

ملزمان نے گارڈن سے عرفان کو اغوا کیا،ایک روز قبل پولیس ورینجرز شدید مزاحمت پر واپس آگئی تھی جس پر مغوی کو قتل کردیا فوٹو: فائل

لیاری میں اغوا کے بعد مغوی کو قتل کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے جانے والی پولیس اور رینجرز پر لیاری گینگ وار کے ملزمان نے فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ میں 3 اغوا کار ہلاک جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر خاتون بھی ہلاک ہوگئی ۔

مقابلے میں رینجرز کے افسر سمیت 3 جوان زخمی ہوگئے جبکہ رینجرز نے زخمی ملزم سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا ، ملزمان نے مغوی ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نیاز کھوسو کے مطابق لیاقت آباد میں رہائش پذیر دودھ کے بیوپاری کے بیٹے عرفان کو نامعلوم ملزمان گارڈن چڑیا گھر کے قریب سے اغوا کر کے لے گئے اور اس کی رہائی کے عوض اہلخانہ سے 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ تھا عرفان کے اغوا کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس نے مغوی کا سراغ لگایا تو انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مغوی کو لیاری کے علاقے میں رکھا ہوا ہے جس پر سی پی ایل سی ، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے پیر کو لیاری افشانی گلی میں کارروائی کرنا چاہی۔

تاہم صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس واپس آگئی انھوں نے بتایا کہ پولیس اور رینجرز نے منگل کو دوبارہ لیاری افشانی گلی میں ملزمان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تو وہاں موجود ملزمان نے پولیس اور رینجرز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ڈی ایس آر محمد حنیف کمر پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا جبکہ 2 جوان بھی زخمی ہوگئے ۔




فائرنگ کے تبادلے میں گینگ وار کے ملزمان کی فائرنگ سے ایک راہ گیر خاتون شانتی زوجہ موہن لعل ہلاک ہوگئی جس کی لاش سول اسپتال لے جائی گئی انھوں نے بتایا کہ رینجرز کی جوابی فائرنگ میں 3 اغوا کار ہلاک ہوگئے جن کے قبضے سے ایک کلاشنکوف اور 3 پستول برآمد ہوئے ہیں جن کی فوری شناخت نہیں ہو سکی جبکہ زخمی ملزم سمیت پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا اور انھوں نے دوران تفتیش بتایا کہ ان کے دیگر ساتھیوں نے پیر کی شب جب پولیس علاقے میں آئی تھی اور کوئی کارروائی نہیں کر سکی تو انھوں نے مغوی عرفان کو قتل کر کے اس کی لاش لیمارکیٹ کے قریب پھینک دی تھی، پولیس ذرائع کے مطابق رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں نور شاہ بروہی ، فراز بلوچ اور عبداﷲ کچھی شامل ہیں۔

جبکہ ایک گرفتار زخمی ملزم کا نام پرویز بتایا جاتا ہے اور ان کا تعلق لیاری گینگ وار کے انتہائی مطلوب ملزم ملا نثار گروپ سے بتایا جاتا ہے جبکہ مقابلے کے دوران شاہد مکس پتی ، استاد تاجو ، ملا نثار اور نعیم لاہوتی سمیت دیگر ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ، علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں افراد کو رینجرز نے مبینہ طور پر گرفتار کرنے کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے جس پر لیاری کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی اور لوگ احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ، 3 افراد کی ہلاکت کے بعد لیاری کے مختلف علاقوں میں نامعلوم ملزمان نے شدید فائرنگ کر کے دکانیں و کاروبار بند کرا دیا جبکہ علاقہ مکین گھروں میں محصور ہوگئے ۔
Load Next Story