عام انتخابات اور سیاسی قیادت کی ذمے داری
انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے عمل سے غیرجانبداری ثابت کرے۔
انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے عمل سے غیرجانبداری ثابت کرے۔ فوٹو: فائل
صدر مملکت ممنون حسین نے گزشتہ روز عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔ اس سمری کے مطابق عام انتخابات25 جولائی2018ء کو ہوں گے اور ملک بھر میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے پولنگ ایک ہی دن ہو گی۔ یوں اب ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے جاری قیاس آرائیاں اور چہ مگوئیاں اختتام پذیر ہو گئیں۔ گو نگران حکومتوں کے معاملات تاحال مکمل نہیں ہوئے لیکن یہ بھی آئین و قانون کے مطابق طے پا جائیں گے۔
پاکستان میں بعض حلقے بڑے تواتر سے ایسے شوشے چھوڑ رہے تھے جن سے یہ تاثر پیدا کیا جا رہا تھا کہ شاید الیکشن اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔ ویسے تو جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا اور اس کے ایک برس بعد ہی دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی ایسی باتیں شروع ہو گئیں جن سے یہ تاثر دیا گیا کہ مڈٹرم الیکشن ہونے والے ہیں۔
معاملات آگے بڑھے تو پھر مڈٹرم کے ساتھ ساتھ نئے سیٹ اپ کی افواہیں منظرعام پر آ گئیں' کہیں ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات ہوتی تو کبھی قومی حکومت کی افواہ سامنے آجاتی' یوں ملک کا سیاسی منظرنامہ افواہوں اور قیاس آرائیوں سے بھرا رہا۔ اب جب کہ صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی سمری کی منظوری دے دی ہے اور یہ طے پا گیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات 25 جولائی 2018ء کو ہوں گے تو ساری قیاس آرائیاں اور افواہیں دم توڑ گئیں ہیں۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اب عام انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریاں کرنی چاہئیں۔ پاکستان کی سیاست کا یہ المیہ ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت ایک دوسرے کی کردار کشی کو ہی سیاست سمجھتی ہیں حالانکہ ایک سیاسی جماعت کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کو یہ بتائے کہ ان کے پاس ملک کی ترقی اور خوشحالی کا کیا پروگرام ہے' ویسے تو ساری سیاسی جماعتیں الیکشن سے پہلے اپنا اپنا منشور بھی جاری کرتی ہیں اور اپنے منشور میں بڑے خوشنما دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں لیکن جب کوئی سیاسی جماعت برسراقتدار آجاتی ہے تو وہ ان دعوؤں اور وعدوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتیں منشور تیار کرتے وقت حقائق کو سامنے رکھیں' ان کا مقصد صرف ووٹرز کو لبھانا ہوتا ہے تاکہ وہ انھیں ووٹ ڈال سکے۔ اب چونکہ الیکشن مہم کا سلسلہ شروع ہونے والاہے' الیکشن مہم میں ہر سیاسی جماعت جلسے جلوس اور ریلیاں نکالتی ہے ملک بھر میں کارنرز میٹنگز کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جہاں ٹاپ سیاسی قیادت سے لے کر ایم این اے اور ایم پی ایز کے امیدوار تقاریر بھی کرتے ہیں' عوام میں جوش و خروش بڑھ جاتا ہے' اس قسم کے حالات میں ملک کی سیاسی قیادت کو میچور سیاسی رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سب کو یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ہے اور یہاں دہشتگرد تنظیمیں مواقع کی تلاش میں رہتی ہیں' اس لیے سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ کوئی بھی جلسہ و جلوس سے پہلے انتظامیہ کو اعتماد میں لیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی جماعتیں پوائنٹ اسکورنگ کے لیے انتظامیہ کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہیں' اس رویے کی بھی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
جلسے جلوسوں میں جذباتی تقاریر سے گریز کیا جانا چاہیے خصوصاً مذہبی مسلکی' نسلی اور لسانی تعصبات کو ابھارنے سے پرہیز کیا جائے۔ سیاسی مفادات کے لیے اپنے مدمقابل امیدوار یا سیاسی لیڈر شپ کے ذاتی کردار کو ہدف تنقید بنانا اور لوگوں کو تشدد پر ابھارنا حالات کو خرابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ الیکشن مہم مکمل طور پر ایک سیاسی عمل ہوتا ہے اور اس سیاسی عمل کو پرامن رکھنا سیاسی کارکنوں اور لیڈر شپ کی اولین ذمے داری ہونی چاہیے۔
انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے عمل سے غیرجانبداری ثابت کرے' اگر کوئی انتظامی عہدیدار یا الیکشن کمیشن کا کوئی رکن جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس سے بھی سیاست میں تلخی آ سکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی یہ کلچر فروغ پذیر ہے کہ الیکشن ہارنے والی سیاسی جماعت اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کا نعرہ بلند کرتی ہے اور اس کو بنیاد بنا کر جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔
اس غیر جمہوری کلچر کی حوصلہ شکنی اسی وقت ہو سکتی ہے جب انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کا عملہ مکمل طور پر غیرجانبداری ثابت کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی قیادت بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کو اپنانے کا عملی ثبوت دے۔ الیکشن مہم کے دوران صبر و تحمل اور شائستگی کا مظاہرہ کر کے ہی ملک کے جمہوری کلچر کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں بعض حلقے بڑے تواتر سے ایسے شوشے چھوڑ رہے تھے جن سے یہ تاثر پیدا کیا جا رہا تھا کہ شاید الیکشن اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔ ویسے تو جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا اور اس کے ایک برس بعد ہی دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی ایسی باتیں شروع ہو گئیں جن سے یہ تاثر دیا گیا کہ مڈٹرم الیکشن ہونے والے ہیں۔
معاملات آگے بڑھے تو پھر مڈٹرم کے ساتھ ساتھ نئے سیٹ اپ کی افواہیں منظرعام پر آ گئیں' کہیں ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات ہوتی تو کبھی قومی حکومت کی افواہ سامنے آجاتی' یوں ملک کا سیاسی منظرنامہ افواہوں اور قیاس آرائیوں سے بھرا رہا۔ اب جب کہ صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی سمری کی منظوری دے دی ہے اور یہ طے پا گیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات 25 جولائی 2018ء کو ہوں گے تو ساری قیاس آرائیاں اور افواہیں دم توڑ گئیں ہیں۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اب عام انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریاں کرنی چاہئیں۔ پاکستان کی سیاست کا یہ المیہ ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت ایک دوسرے کی کردار کشی کو ہی سیاست سمجھتی ہیں حالانکہ ایک سیاسی جماعت کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کو یہ بتائے کہ ان کے پاس ملک کی ترقی اور خوشحالی کا کیا پروگرام ہے' ویسے تو ساری سیاسی جماعتیں الیکشن سے پہلے اپنا اپنا منشور بھی جاری کرتی ہیں اور اپنے منشور میں بڑے خوشنما دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں لیکن جب کوئی سیاسی جماعت برسراقتدار آجاتی ہے تو وہ ان دعوؤں اور وعدوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتیں منشور تیار کرتے وقت حقائق کو سامنے رکھیں' ان کا مقصد صرف ووٹرز کو لبھانا ہوتا ہے تاکہ وہ انھیں ووٹ ڈال سکے۔ اب چونکہ الیکشن مہم کا سلسلہ شروع ہونے والاہے' الیکشن مہم میں ہر سیاسی جماعت جلسے جلوس اور ریلیاں نکالتی ہے ملک بھر میں کارنرز میٹنگز کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جہاں ٹاپ سیاسی قیادت سے لے کر ایم این اے اور ایم پی ایز کے امیدوار تقاریر بھی کرتے ہیں' عوام میں جوش و خروش بڑھ جاتا ہے' اس قسم کے حالات میں ملک کی سیاسی قیادت کو میچور سیاسی رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سب کو یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ہے اور یہاں دہشتگرد تنظیمیں مواقع کی تلاش میں رہتی ہیں' اس لیے سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ کوئی بھی جلسہ و جلوس سے پہلے انتظامیہ کو اعتماد میں لیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی جماعتیں پوائنٹ اسکورنگ کے لیے انتظامیہ کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہیں' اس رویے کی بھی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
جلسے جلوسوں میں جذباتی تقاریر سے گریز کیا جانا چاہیے خصوصاً مذہبی مسلکی' نسلی اور لسانی تعصبات کو ابھارنے سے پرہیز کیا جائے۔ سیاسی مفادات کے لیے اپنے مدمقابل امیدوار یا سیاسی لیڈر شپ کے ذاتی کردار کو ہدف تنقید بنانا اور لوگوں کو تشدد پر ابھارنا حالات کو خرابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ الیکشن مہم مکمل طور پر ایک سیاسی عمل ہوتا ہے اور اس سیاسی عمل کو پرامن رکھنا سیاسی کارکنوں اور لیڈر شپ کی اولین ذمے داری ہونی چاہیے۔
انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے عمل سے غیرجانبداری ثابت کرے' اگر کوئی انتظامی عہدیدار یا الیکشن کمیشن کا کوئی رکن جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس سے بھی سیاست میں تلخی آ سکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی یہ کلچر فروغ پذیر ہے کہ الیکشن ہارنے والی سیاسی جماعت اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کا نعرہ بلند کرتی ہے اور اس کو بنیاد بنا کر جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔
اس غیر جمہوری کلچر کی حوصلہ شکنی اسی وقت ہو سکتی ہے جب انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کا عملہ مکمل طور پر غیرجانبداری ثابت کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی قیادت بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کو اپنانے کا عملی ثبوت دے۔ الیکشن مہم کے دوران صبر و تحمل اور شائستگی کا مظاہرہ کر کے ہی ملک کے جمہوری کلچر کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔