دہشت گردی کا خطرہ ہے عوام افواہوں پر کان نہ دھریں وزیر داخلہ
کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کیلیے مربوط پلان ترتیب دیا جائیگا، ملک حبیب
کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کیلیے مربوط پلان ترتیب دیا جائیگا، ملک حبیب فوٹو : فائل
نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے کہا ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں، انتخابات کے پرامن انعقاد کیلیے ہر ممکن سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے ۔
وہ منگل کو کراچی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ عام انتخابات کے موقع پر دہشت گردی کے خطرات ہیں تاہم نگراں حکومت چاروں صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انتخابات کے پرامن انعقاد کیلیے ہر ممکن سیکیورٹی اقدامات کرے گی ۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی عرصے سے خراب ہے، کراچی میں حالات کی بہتری کیلیے مربوط سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا ۔ ملک حبیب نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں تمام سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں ۔عام انتخابات 11مئی کو ہی ہوں گے ۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کے وسائل کو بڑھانے کیلیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے ۔
قبل ازیں نگراں وفاقی وزیر داخلہ جب پاکستان کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر پہنچے تو اعلیٰ حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔قائم مقام ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ کرنل طارق نواز نے نگراں وفاقی وزیر داخلہ کو پاکستان کوسٹ گارڈ کی آپریشنل صلاحیتوں اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے پاکستان رینجرز سندھ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا ۔ ڈی جی رینجرزمیجرجنرل رضوان اختر نے وفاقی وزیر داخلہ کا استقبال کیا اور کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال اور انتخابات کے حوالے سے سیکیورٹی پلان پر بریفنگ دی ۔ ڈی جی رینجرز نے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن نگراں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے گورنر ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر عام انتخابات میں سیکیورٹی اقدامات ، امن و امان کی صورت حال سمیت مختلف اہم امور پر بات چیت ہوئی ۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ صوبے بھر میں انتخابات اور انتخابی مہم کے دوران امن و امان کی صورت حال ساز گار رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں ۔ سیکیورٹی کے حوالے سے ممکنہ خدشات کو دور کرنے کے لیے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیے جائیں گے ۔ نگراں وزیر داخلہ نے وفاق کی جانب سے امن و امان کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا ۔
دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری،آئی جی سندھ سمیت اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔ اجلاس میں عام انتخابات کے حوالے سے امن وامان کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نگران وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عام انتخابات 2013ء پر امن ماحول میں کرانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے، امیدواروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو ختم کیا گیا ہے۔ نگراں وفاقی وزیر داخلہ نے امیدواروں اور شہریوں کے حوالے سے خطرات کا جائزہ لیا اور چیف سیکریٹری اور آئی جی کی بریفنگ پر اظہار اطمینان کیا۔
علاوہ ازیں ملک حبیب سے منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے بھی وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کی، وفد میں رضا ہارون، عادل صدیقی اور ڈاکٹر صغیر احمد شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے وزیر داخلہ کو کراچی میں امن وامان کی صورتحال، انتخابی امیدواروں کے لیے سیکیورٹی سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا ۔ نگراںوفاقی وزیر داخلہ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائیگا۔
وہ منگل کو کراچی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ عام انتخابات کے موقع پر دہشت گردی کے خطرات ہیں تاہم نگراں حکومت چاروں صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انتخابات کے پرامن انعقاد کیلیے ہر ممکن سیکیورٹی اقدامات کرے گی ۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی عرصے سے خراب ہے، کراچی میں حالات کی بہتری کیلیے مربوط سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا ۔ ملک حبیب نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں تمام سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں ۔عام انتخابات 11مئی کو ہی ہوں گے ۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کے وسائل کو بڑھانے کیلیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے ۔
قبل ازیں نگراں وفاقی وزیر داخلہ جب پاکستان کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر پہنچے تو اعلیٰ حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔قائم مقام ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ کرنل طارق نواز نے نگراں وفاقی وزیر داخلہ کو پاکستان کوسٹ گارڈ کی آپریشنل صلاحیتوں اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے پاکستان رینجرز سندھ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا ۔ ڈی جی رینجرزمیجرجنرل رضوان اختر نے وفاقی وزیر داخلہ کا استقبال کیا اور کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال اور انتخابات کے حوالے سے سیکیورٹی پلان پر بریفنگ دی ۔ ڈی جی رینجرز نے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن نگراں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے گورنر ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر عام انتخابات میں سیکیورٹی اقدامات ، امن و امان کی صورت حال سمیت مختلف اہم امور پر بات چیت ہوئی ۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ صوبے بھر میں انتخابات اور انتخابی مہم کے دوران امن و امان کی صورت حال ساز گار رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں ۔ سیکیورٹی کے حوالے سے ممکنہ خدشات کو دور کرنے کے لیے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیے جائیں گے ۔ نگراں وزیر داخلہ نے وفاق کی جانب سے امن و امان کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا ۔
دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری،آئی جی سندھ سمیت اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔ اجلاس میں عام انتخابات کے حوالے سے امن وامان کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نگران وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عام انتخابات 2013ء پر امن ماحول میں کرانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے، امیدواروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو ختم کیا گیا ہے۔ نگراں وفاقی وزیر داخلہ نے امیدواروں اور شہریوں کے حوالے سے خطرات کا جائزہ لیا اور چیف سیکریٹری اور آئی جی کی بریفنگ پر اظہار اطمینان کیا۔
علاوہ ازیں ملک حبیب سے منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے بھی وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کی، وفد میں رضا ہارون، عادل صدیقی اور ڈاکٹر صغیر احمد شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے وزیر داخلہ کو کراچی میں امن وامان کی صورتحال، انتخابی امیدواروں کے لیے سیکیورٹی سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا ۔ نگراںوفاقی وزیر داخلہ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائیگا۔