جسٹس ناصرالملک۔۔۔ نگراں وزیراعظم
قسمت کی خوبی دیکھئے کہ کہیں کمند نہیں ٹوٹی اور مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہوگیا۔
قسمت کی خوبی دیکھئے کہ کہیں کمند نہیں ٹوٹی اور مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہوگیا۔ فوٹو: فائل
CHASKA:
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نگراں وزیراعظم کے لیے جسٹس ناصرالملک کے نام کا اعلان کردیا ہے۔صدر مملکت اس کی منظوری دیں گے۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں جس میں خورشید شاہ کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر مملکت مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں میڈیا کے نمایندوں کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین جسٹس ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔
قسمت کی خوبی دیکھئے کہ کہیں کمند نہیں ٹوٹی اور مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہوگیا جسے بجا طور پر جمہوریت کی استقامت اور سیاست دانوں کی بالغ نظری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ سیاست میں مکالمہ کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوسکتی کیونکہ جمہوریت میں کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے کے لیے تحمل، تدبر اور عملیت پسندی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ بلاشبہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق اس مرحلہ پر نہ ہوتا تو ڈیڈلاک کا خاتمہ بھی ممکن نہ تھا جب کہ پچھلے کئی روز سے میڈیا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات مسلسل جاری تھے۔
صورتحال اعصاب شکن تھی اور خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب زیر غور ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کا فیصلہ شاید پارلیمانی کمیٹی یا پھر الیکشن کمیشن کے توسط سے ہو ، تاہم بہت اچھی اور قابل قدر پیش رفت ہوئی ، فہم و فراست کا برملا مظاہرہ ہوا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق کے لیے خورشید شاہ سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، دونوں جانب سے اپنی قیادتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل بھی جاری رہا اور آخر میں اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا، خورشید شاہ نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق سب کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، انھوں نے جسٹس ناصرالملک کے نام پر اتفاق کے حوالہ سے کہا کہ یہ نام ہمارے لیے بے حد قابل احترام ہے۔
جہاں تک نگراں وزیراعظم جسٹس ناصرالملک کے عدالتی کیرئیر ، شعبہ قانون اور مقدمات کی باریکیوں پر عبور اور انتظامی صلاحیتوں کا تعلق ہے وہ ملک کے ممتاز و معتبر قانون دان اور سپریم کورٹ کے واجب الاحترام منصف اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔
جسٹس ناصرالملک نے 17 اگست 1950 میں سوات میں جنم لیا، وہ پراچہ خاندان کے انتہائی متمول اور ممتاز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، 1970 میں انھوں نے جہانزیب کالج سے فائن آرٹس میں بے اے کیا، بعد ازاں پشاور یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں داخلہ لیا اور 1972 میں اسی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلے گئے، 1976 میں برطانیہ کے انر ٹمپل نامی ادارہ سے ایل ایل ایم کی سند لی اور بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی،انھوں نے 6 جولائی تا16 اگست2014 سپریم کورٹ کی مسند اعلیٰ سنبھالی۔
قبل ازیں جسٹس ناصر الملک2013 سے جولائی 2014 تک قائممقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دیتے رہے، وہ پشاور ہائیکورت کے چیف جسٹس اور پشاور ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں، 2005 میں انھیں سینئر جج کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی، سپریم کورٹ سے منسلک ہونے کے بعد انھوں نے بنیادی حقوق اور امتیازی سلوک کے ایشوز پر مبنی مقدمات کے غیر معمولی فیصلے کیے۔
وطن واپسی پر پشاور ہائیکورٹ میں پریکٹس شروع کی، بطور پروفیسر قانون کی تدریس کے فرائض انجام دیے، پاکستان اسٹاف ایڈمنسٹریٹیوکالج میں وزیٹنگ اسکالرکی حیثیت میں خدمات انجام دیں، ان کے ہمعصر استاد اور شاگرد ان کے شاندار انداز تدریس کے حوالہ دیتے تھے، 1993-94کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل رہتے ہوئے صوبائی حکومت کی قانونی مشاورت کرتے رہے،31جولائی 2004 کو انھیں پشاور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا جب کہ 2005 میں وہ سپریم کورٹ سے بحیثیت جج منسلک ہوگئے، ان کے ہائی پروفائل اور رجحان ساز کیسز میں مختاراں مائی کا تاریخی کیس قابل ذکر ہے جس کی شہرت دنیا بھر میں ہوئی۔
جسٹس ناصر الملک نے ایک بار کہا تھا کہ اگر پاکستان کے ریاستی ادارے آئین پر عملدرآمد میں اختلاف رکھتے ہیں تو سپریم کورٹ کو اس معاملہ میں مداخلت کا اختیار ہے۔جسٹس صاحب کے بارے میں ان کے ہم عصر ججز کی رائے یہ رہی کہ وہ اصولوں کے پابند اور پروایکٹو جج ہیں۔
اب جب کہ2018 کے انتخابات کی دھند صاف ہوچکی، کوئی ابہام باقی نہیں رہا ،صدر مملکت نے ایک ہی دن الیکشن کے انعقاد کا اعلان بھی کردیا ہے اور اب نگراں وزیراعظم کا مسئلہ بھی حل ہوگیا ہے ، لہذا آئینی تسلسل کے کامیاب سفر کی روشنی میں سیاسی جماعتیں اب اپنا اپنا انتخابی روڈ میپ تیار کریں، ملک میں جمہوریت کے پنپنے کے ارتقائی مراحل کا ایک خوش آیند منظر نامہ اجاگر ہوچکا ہے۔
ووٹرز کے ضمیر کی آزمائش کا وقت قریب ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کو انتخابی مہم کے دوران ضرور مد نظر رکھنا چاہیے، اور تمام سیاسی جماعتیں انتخابی ضابطہ اخلاق کی پاسداری کریں، الزامات اور کردار کشی کی مذموم روایتوں کو دفن کرکے ہی ملک جمہوریت کی باقی ماندہ منزلیں با آسانی طے کرسکتا ہے، خدا کرے جسٹس ناصرالملک کے مبارک ہاتھوں سے قوم ایک شفاف ترین الیکشن کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نگراں وزیراعظم کے لیے جسٹس ناصرالملک کے نام کا اعلان کردیا ہے۔صدر مملکت اس کی منظوری دیں گے۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں جس میں خورشید شاہ کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر مملکت مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں میڈیا کے نمایندوں کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین جسٹس ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔
قسمت کی خوبی دیکھئے کہ کہیں کمند نہیں ٹوٹی اور مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہوگیا جسے بجا طور پر جمہوریت کی استقامت اور سیاست دانوں کی بالغ نظری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ سیاست میں مکالمہ کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوسکتی کیونکہ جمہوریت میں کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے کے لیے تحمل، تدبر اور عملیت پسندی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ بلاشبہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق اس مرحلہ پر نہ ہوتا تو ڈیڈلاک کا خاتمہ بھی ممکن نہ تھا جب کہ پچھلے کئی روز سے میڈیا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات مسلسل جاری تھے۔
صورتحال اعصاب شکن تھی اور خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب زیر غور ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کا فیصلہ شاید پارلیمانی کمیٹی یا پھر الیکشن کمیشن کے توسط سے ہو ، تاہم بہت اچھی اور قابل قدر پیش رفت ہوئی ، فہم و فراست کا برملا مظاہرہ ہوا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق کے لیے خورشید شاہ سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، دونوں جانب سے اپنی قیادتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل بھی جاری رہا اور آخر میں اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا، خورشید شاہ نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق سب کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، انھوں نے جسٹس ناصرالملک کے نام پر اتفاق کے حوالہ سے کہا کہ یہ نام ہمارے لیے بے حد قابل احترام ہے۔
جہاں تک نگراں وزیراعظم جسٹس ناصرالملک کے عدالتی کیرئیر ، شعبہ قانون اور مقدمات کی باریکیوں پر عبور اور انتظامی صلاحیتوں کا تعلق ہے وہ ملک کے ممتاز و معتبر قانون دان اور سپریم کورٹ کے واجب الاحترام منصف اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔
جسٹس ناصرالملک نے 17 اگست 1950 میں سوات میں جنم لیا، وہ پراچہ خاندان کے انتہائی متمول اور ممتاز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، 1970 میں انھوں نے جہانزیب کالج سے فائن آرٹس میں بے اے کیا، بعد ازاں پشاور یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں داخلہ لیا اور 1972 میں اسی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلے گئے، 1976 میں برطانیہ کے انر ٹمپل نامی ادارہ سے ایل ایل ایم کی سند لی اور بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی،انھوں نے 6 جولائی تا16 اگست2014 سپریم کورٹ کی مسند اعلیٰ سنبھالی۔
قبل ازیں جسٹس ناصر الملک2013 سے جولائی 2014 تک قائممقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دیتے رہے، وہ پشاور ہائیکورت کے چیف جسٹس اور پشاور ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں، 2005 میں انھیں سینئر جج کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی، سپریم کورٹ سے منسلک ہونے کے بعد انھوں نے بنیادی حقوق اور امتیازی سلوک کے ایشوز پر مبنی مقدمات کے غیر معمولی فیصلے کیے۔
وطن واپسی پر پشاور ہائیکورٹ میں پریکٹس شروع کی، بطور پروفیسر قانون کی تدریس کے فرائض انجام دیے، پاکستان اسٹاف ایڈمنسٹریٹیوکالج میں وزیٹنگ اسکالرکی حیثیت میں خدمات انجام دیں، ان کے ہمعصر استاد اور شاگرد ان کے شاندار انداز تدریس کے حوالہ دیتے تھے، 1993-94کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل رہتے ہوئے صوبائی حکومت کی قانونی مشاورت کرتے رہے،31جولائی 2004 کو انھیں پشاور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا جب کہ 2005 میں وہ سپریم کورٹ سے بحیثیت جج منسلک ہوگئے، ان کے ہائی پروفائل اور رجحان ساز کیسز میں مختاراں مائی کا تاریخی کیس قابل ذکر ہے جس کی شہرت دنیا بھر میں ہوئی۔
جسٹس ناصر الملک نے ایک بار کہا تھا کہ اگر پاکستان کے ریاستی ادارے آئین پر عملدرآمد میں اختلاف رکھتے ہیں تو سپریم کورٹ کو اس معاملہ میں مداخلت کا اختیار ہے۔جسٹس صاحب کے بارے میں ان کے ہم عصر ججز کی رائے یہ رہی کہ وہ اصولوں کے پابند اور پروایکٹو جج ہیں۔
اب جب کہ2018 کے انتخابات کی دھند صاف ہوچکی، کوئی ابہام باقی نہیں رہا ،صدر مملکت نے ایک ہی دن الیکشن کے انعقاد کا اعلان بھی کردیا ہے اور اب نگراں وزیراعظم کا مسئلہ بھی حل ہوگیا ہے ، لہذا آئینی تسلسل کے کامیاب سفر کی روشنی میں سیاسی جماعتیں اب اپنا اپنا انتخابی روڈ میپ تیار کریں، ملک میں جمہوریت کے پنپنے کے ارتقائی مراحل کا ایک خوش آیند منظر نامہ اجاگر ہوچکا ہے۔
ووٹرز کے ضمیر کی آزمائش کا وقت قریب ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کو انتخابی مہم کے دوران ضرور مد نظر رکھنا چاہیے، اور تمام سیاسی جماعتیں انتخابی ضابطہ اخلاق کی پاسداری کریں، الزامات اور کردار کشی کی مذموم روایتوں کو دفن کرکے ہی ملک جمہوریت کی باقی ماندہ منزلیں با آسانی طے کرسکتا ہے، خدا کرے جسٹس ناصرالملک کے مبارک ہاتھوں سے قوم ایک شفاف ترین الیکشن کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں۔