مضر صحت درآمدی چھالیہ کے کنٹینر واپس بھیجنے کا حکم
درآمد کردہ چھالیہ انسانی جانوں کیلیے خطرناک ہے، کسی صورت مارکیٹ میں فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے، عدالت
درآمد کردہ چھالیہ انسانی جانوں کیلیے خطرناک ہے، کسی صورت مارکیٹ میں فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے، عدالت۔ فوٹو: سوشل میڈیا
لاہور:
سندھ ہائی کورٹ نے غیر معیاری چھالیہ کے کنسائنمنٹس واپس بھیجنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے افلا ٹوکسینز کی مطلوبہ مقدار کے بعد کنسائنمنٹس واپس بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چھالیہ کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے مناسب قانون سازی کرے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ غیر معیاری چھالیہ کے 100 سے زائد کنٹینرز پورٹ پر پڑے ہیں، درآمد کردہ چھالیہ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں، درآمد کردہ چھالیہ کینسر اور دیگر موذی امراض کا باعث بن رہی ہے, وفاقی حکومت نے خطرناک چھالیہ کی درآمدگی پر پابندی عائد کر رکھی ہے،درآمد کردہ چھالیہ کو کسی صورت مارکیٹ میں فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ درآمد کردہ چھالیہ تلف یا ری شپمنٹ کردی جائے، مضر صحت چھالیہ کی درآمدگی سے متعلق دنیا بھر میں قانون سازی موجود ہے۔
امپورٹرز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں ری کنسائنمنٹس کی اجازت دی جائے، چھالیہ میں افلا ٹوکسینز کی مقدار سے متعلق پاکستان میں کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں،عدالت نے چھالیہ میں افلا ٹوکسینز کی مقدار سے متعلق نوٹی فیکیشن طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کر دی۔
سندھ ہائی کورٹ نے غیر معیاری چھالیہ کے کنسائنمنٹس واپس بھیجنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے افلا ٹوکسینز کی مطلوبہ مقدار کے بعد کنسائنمنٹس واپس بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چھالیہ کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے مناسب قانون سازی کرے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ غیر معیاری چھالیہ کے 100 سے زائد کنٹینرز پورٹ پر پڑے ہیں، درآمد کردہ چھالیہ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں، درآمد کردہ چھالیہ کینسر اور دیگر موذی امراض کا باعث بن رہی ہے, وفاقی حکومت نے خطرناک چھالیہ کی درآمدگی پر پابندی عائد کر رکھی ہے،درآمد کردہ چھالیہ کو کسی صورت مارکیٹ میں فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ درآمد کردہ چھالیہ تلف یا ری شپمنٹ کردی جائے، مضر صحت چھالیہ کی درآمدگی سے متعلق دنیا بھر میں قانون سازی موجود ہے۔
امپورٹرز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں ری کنسائنمنٹس کی اجازت دی جائے، چھالیہ میں افلا ٹوکسینز کی مقدار سے متعلق پاکستان میں کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں،عدالت نے چھالیہ میں افلا ٹوکسینز کی مقدار سے متعلق نوٹی فیکیشن طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کر دی۔