بفرزون سے لارڈز تک سرفراز
چند برس قبل بفرزون سے ہی ایک ایسا کھلاڑی منظرعام پر آیا جو اب دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلندکر رہا ہے۔
چند برس قبل بفرزون سے ہی ایک ایسا کھلاڑی منظرعام پر آیا جو اب دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلندکر رہا ہے۔ فوٹو فائل
مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا، بچپن میں اپنے گھر کے سامنے واقع غوث الاعظم مسجد کے گراؤنڈ میں کئی میچز کھیلے مگر ٹیلنٹ نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہ بڑھ پایا، اس وقت ریحان سعید، سراج اور کئی دیگر اچھے بیٹسمین بفرزون میں کھیلتے تھے مگر کسی کو ملک تو دور شہر کی بھی زیادہ نمائندگی کا موقع نہ مل سکا۔
ریحان نے شاید کراچی کیلیے ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مینجمنٹ میں شامل نبیل ہاشمی اچھے کھلاڑی ہیں مگر اب وہ دوسری فیلڈ میں نام کما رہے ہیں، مگر چند برس قبل بفرزون سے ہی ایک ایسا کھلاڑی منظرعام پر آیا جو اب دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلندکر رہا ہے، یقیناً میرا اشارہ سرفراز احمد کی جانب ہی ہے۔
میرا چھوٹا بھائی فرحان ان کے ساتھ کھیل چکا اور اسی نے مجھے بتایا تھا کہ ایک زبردست وکٹ کیپر بیٹسمین ہے جو آگے جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا، کراچی میں کرکٹ کے ہیروں کو تراشنے والا ایک گمنام جوہری اعظم خان ہے، انھوں نے سرفراز کے ٹیلنٹ کو بھانپ کر اپنی زیرسرپرستی لے لیا یہیں سے سرفراز کی کامیابی کے سفر کا آغاز ہوا، پاکستان کرکٹ کلب کی جانب سے انھوں نے عمدہ کھیل سے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرائی، پھرکراچی اور جونیئر لیول پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ندیم عمر کی سپورٹ سے سرفراز کا کھیل مزید نکھرتا گیا اور وہ آج پاکستان کے کامیاب کپتانوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔
گزشتہ برس چیمپئنز ٹرافی سے قبل کوئی گرین شرٹس کو کسی گنتی میں نہیں لا رہا تھا مگر سرفراز کی زیرقیادت ٹیم نے شاندار فتح سے سب کو حیران کر دیا، ایسا ہی حالیہ لارڈز ٹیسٹ میں ہوا، میں نے وسیم اکرم اور وقار یونس سے پوچھا کہ آپ کو سرفراز کی سب سے خاص بات کیا لگتی ہے، دونوں کا یہی جواب تھا کہ وہ '' ٹیم کو بے خوف ہوکر کھیلنے کی تحریک دلاتا ہے جس سے فتوحات ملتی ہیں''۔
حقیقت میں یہی سرفراز کی خوبی ہے، انھوں نے نئے کھلاڑیوں کو اسٹارز بنادیا، اس ٹیم میں کوئی کھلاڑی کسی دوسرے سے نہیں ڈرتا کہ یہ میری جگہ نہ چھین لے، سب ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں، لارڈز ٹیسٹ میں بھی آپ سب نے یہی دیکھا ہوگا کہ اچھی فیلڈنگ پر بھی دور دور سے کھلاڑی بھاگ کر ایک دوسرے کو داد دینے کیلیے آتے تھے، کوئی کسی سے حسد نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ سب ٹیم کیلیے کھیل رہے ہوتے ہیں اور اس کا کریڈٹ سرفراز کو ہی دینا چاہیے۔
حالیہ میچ سے قبل بعض کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ ہم پہلی بار لارڈز میں کھیل رہے ہیں نجانے کیا ہو، مگر کپتان نے انھیں سمجھایا کہ ''زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ہم ہار جائیں گے اس لیے بغیر کسی خدشے کے اپنا بہترین کھیل پیش کرو''، پھر یہی ہوا پلیئرز دلیری سے کھیلے اور ٹیم نے انگلینڈ کو چوتھے ہی روز یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے دی۔ سرفراز کی کامیابیوں میں چیئرمین بورڈ نجم سیٹھی کی سپورٹ کا بھی اہم کردار ہے، ان سے قبل شہریارخان نے بھی ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی،کپتان کی اہم خوبی محاذ آرائی سے گریز ہے۔
ان میں انا نہیں لہذا کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے، اختلاف رائے ہو جاتا ہے مگر ایسے میں مشاورت سے معاملہ حل کرتے ہیں، عموماً کپتانوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ میں اتنا بڑا کھلاڑی ہوں کوچ کو کیا پتا، وہ اس کی اتھارٹی ماننے سے انکار کرتا اور پھر اختلافات شروع ہو جاتے ہیں، مگر سرفراز ایسا نہیں کرتے، ٹیم جب ناکامیوں کا شکار ہوئی، کسی کھلاڑی کو نہ کھلانے پر تنازع ہوا تو کبھی سرفراز نے اس کا ملبہ دوسروں پر نہیں ڈالا بلکہ خود ذمہ داری قبول کی۔
یہ بڑی بات ہے ورنہ ہمارے ملک میں کامیابی پر تو سب سامنے آ کر کریڈٹ لیتے ہیں مگر ناکامی کا ملبہ کوئی سنبھالنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرفراز کا دماغ کامیابی نے خراب نہیں کیا، میں نے کئی کپتانوں کو قریب سے دیکھا مگر شاہد آفریدی کے بعد سرفراز احمد کو ہی ایسا پایا جو کامیابیوں کے بعد بھی اپنے قدم زمین پر برقرار رکھ پائے، اس کا اندازہ مجھے گذشتہ برس چیمپئنز ٹرافی کی فتح کے بعد ہوگیا تھا۔
اب بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کوئی بھی پرستارسیلفی یا آٹوگراف کی فرمائش کرے اسے کبھی مایوس نہیں کرتے، اگر کوئی کرکٹ سے تعلق نہ رکھتا ہو اور ان سے ملے تو پہچان نہیں سکتا کہ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان ہے، وہ اب بھی بفرزون کے عام سے نوجوان لگتے ہیں اور غرور نام کی کوئی چیز ان میں نہیں آئی۔ ابھی پاکستان ٹیم کے سخت امتحانات آنے ہیں، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے سیریز اہم ہوں گی، جنوبی افریقہ کا ٹور بھی ہے، ہمیں اس دوران کپتان اور نوجوان کھلاڑیوں کو مکمل سپورٹ کرنا ہوگی، کوئی بھی ٹیم ہمیشہ نہیں جیت سکتی، درمیان میں اگر کبھی نتائج توقعات کے برخلاف رہیں تو انھیں برداشت کرنا پڑے گا،آئندہ سال ورلڈکپ انگلینڈ میں ہی ہونا ہے۔
یہاں کے گراؤنڈز پاکستان کیلیے خوش قسمتی کی علامت بنتے جا رہے ہیں، گذشتہ سال چیمپئنز ٹرافی میں بھی فتح نصیب ہوئی تھی، بورڈ کو چاہیے کہ ابھی سے واضح اعلان کر دے کہ ورلڈکپ تک سرفراز ہی تینوں طرز میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے، اس دوران انھیں فیصلوں کا مکمل اختیار دے دینا چاہیے، موجودہ ٹیم میں جو اتحاد میں دیکھ رہا ہوں میں نے برسوں میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، اکثر سینئر کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہی پایا۔
دنیا حیران ہے کہ یہ ٹیم جس میں بڑے نام شامل نہیں وہ کیسے فتوحات کے جھنڈے گاڑتی جا رہی ہے، ہمیں یہ سلسلہ برقرار رکھنا ہوگا، کھلاڑیوں کو بھی چاہیے کہ وہ کامیابیوں کو دماغ پر سوار نہیں کریں اور اپنے قدم زمین پر ہی رکھیں، ابھی لارڈز ٹیسٹ جیتا ہے، لیڈز میں بھی فتح حاصل کرکے سیریز اپنے نام کریں، پھر مستقبل کے ایونٹس میں بھی عمدہ کھیل پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ بہتری کا یہ سفر جو شروع ہوا ہے وہ رکنا نہیں چاہیے، اس کے لیے تسلسل سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور قومی ٹیم اس کی اہل ہے۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
ریحان نے شاید کراچی کیلیے ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مینجمنٹ میں شامل نبیل ہاشمی اچھے کھلاڑی ہیں مگر اب وہ دوسری فیلڈ میں نام کما رہے ہیں، مگر چند برس قبل بفرزون سے ہی ایک ایسا کھلاڑی منظرعام پر آیا جو اب دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلندکر رہا ہے، یقیناً میرا اشارہ سرفراز احمد کی جانب ہی ہے۔
میرا چھوٹا بھائی فرحان ان کے ساتھ کھیل چکا اور اسی نے مجھے بتایا تھا کہ ایک زبردست وکٹ کیپر بیٹسمین ہے جو آگے جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا، کراچی میں کرکٹ کے ہیروں کو تراشنے والا ایک گمنام جوہری اعظم خان ہے، انھوں نے سرفراز کے ٹیلنٹ کو بھانپ کر اپنی زیرسرپرستی لے لیا یہیں سے سرفراز کی کامیابی کے سفر کا آغاز ہوا، پاکستان کرکٹ کلب کی جانب سے انھوں نے عمدہ کھیل سے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرائی، پھرکراچی اور جونیئر لیول پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ندیم عمر کی سپورٹ سے سرفراز کا کھیل مزید نکھرتا گیا اور وہ آج پاکستان کے کامیاب کپتانوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔
گزشتہ برس چیمپئنز ٹرافی سے قبل کوئی گرین شرٹس کو کسی گنتی میں نہیں لا رہا تھا مگر سرفراز کی زیرقیادت ٹیم نے شاندار فتح سے سب کو حیران کر دیا، ایسا ہی حالیہ لارڈز ٹیسٹ میں ہوا، میں نے وسیم اکرم اور وقار یونس سے پوچھا کہ آپ کو سرفراز کی سب سے خاص بات کیا لگتی ہے، دونوں کا یہی جواب تھا کہ وہ '' ٹیم کو بے خوف ہوکر کھیلنے کی تحریک دلاتا ہے جس سے فتوحات ملتی ہیں''۔
حقیقت میں یہی سرفراز کی خوبی ہے، انھوں نے نئے کھلاڑیوں کو اسٹارز بنادیا، اس ٹیم میں کوئی کھلاڑی کسی دوسرے سے نہیں ڈرتا کہ یہ میری جگہ نہ چھین لے، سب ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں، لارڈز ٹیسٹ میں بھی آپ سب نے یہی دیکھا ہوگا کہ اچھی فیلڈنگ پر بھی دور دور سے کھلاڑی بھاگ کر ایک دوسرے کو داد دینے کیلیے آتے تھے، کوئی کسی سے حسد نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ سب ٹیم کیلیے کھیل رہے ہوتے ہیں اور اس کا کریڈٹ سرفراز کو ہی دینا چاہیے۔
حالیہ میچ سے قبل بعض کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ ہم پہلی بار لارڈز میں کھیل رہے ہیں نجانے کیا ہو، مگر کپتان نے انھیں سمجھایا کہ ''زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ہم ہار جائیں گے اس لیے بغیر کسی خدشے کے اپنا بہترین کھیل پیش کرو''، پھر یہی ہوا پلیئرز دلیری سے کھیلے اور ٹیم نے انگلینڈ کو چوتھے ہی روز یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے دی۔ سرفراز کی کامیابیوں میں چیئرمین بورڈ نجم سیٹھی کی سپورٹ کا بھی اہم کردار ہے، ان سے قبل شہریارخان نے بھی ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی،کپتان کی اہم خوبی محاذ آرائی سے گریز ہے۔
ان میں انا نہیں لہذا کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے، اختلاف رائے ہو جاتا ہے مگر ایسے میں مشاورت سے معاملہ حل کرتے ہیں، عموماً کپتانوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ میں اتنا بڑا کھلاڑی ہوں کوچ کو کیا پتا، وہ اس کی اتھارٹی ماننے سے انکار کرتا اور پھر اختلافات شروع ہو جاتے ہیں، مگر سرفراز ایسا نہیں کرتے، ٹیم جب ناکامیوں کا شکار ہوئی، کسی کھلاڑی کو نہ کھلانے پر تنازع ہوا تو کبھی سرفراز نے اس کا ملبہ دوسروں پر نہیں ڈالا بلکہ خود ذمہ داری قبول کی۔
یہ بڑی بات ہے ورنہ ہمارے ملک میں کامیابی پر تو سب سامنے آ کر کریڈٹ لیتے ہیں مگر ناکامی کا ملبہ کوئی سنبھالنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرفراز کا دماغ کامیابی نے خراب نہیں کیا، میں نے کئی کپتانوں کو قریب سے دیکھا مگر شاہد آفریدی کے بعد سرفراز احمد کو ہی ایسا پایا جو کامیابیوں کے بعد بھی اپنے قدم زمین پر برقرار رکھ پائے، اس کا اندازہ مجھے گذشتہ برس چیمپئنز ٹرافی کی فتح کے بعد ہوگیا تھا۔
اب بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کوئی بھی پرستارسیلفی یا آٹوگراف کی فرمائش کرے اسے کبھی مایوس نہیں کرتے، اگر کوئی کرکٹ سے تعلق نہ رکھتا ہو اور ان سے ملے تو پہچان نہیں سکتا کہ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان ہے، وہ اب بھی بفرزون کے عام سے نوجوان لگتے ہیں اور غرور نام کی کوئی چیز ان میں نہیں آئی۔ ابھی پاکستان ٹیم کے سخت امتحانات آنے ہیں، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے سیریز اہم ہوں گی، جنوبی افریقہ کا ٹور بھی ہے، ہمیں اس دوران کپتان اور نوجوان کھلاڑیوں کو مکمل سپورٹ کرنا ہوگی، کوئی بھی ٹیم ہمیشہ نہیں جیت سکتی، درمیان میں اگر کبھی نتائج توقعات کے برخلاف رہیں تو انھیں برداشت کرنا پڑے گا،آئندہ سال ورلڈکپ انگلینڈ میں ہی ہونا ہے۔
یہاں کے گراؤنڈز پاکستان کیلیے خوش قسمتی کی علامت بنتے جا رہے ہیں، گذشتہ سال چیمپئنز ٹرافی میں بھی فتح نصیب ہوئی تھی، بورڈ کو چاہیے کہ ابھی سے واضح اعلان کر دے کہ ورلڈکپ تک سرفراز ہی تینوں طرز میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے، اس دوران انھیں فیصلوں کا مکمل اختیار دے دینا چاہیے، موجودہ ٹیم میں جو اتحاد میں دیکھ رہا ہوں میں نے برسوں میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، اکثر سینئر کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہی پایا۔
دنیا حیران ہے کہ یہ ٹیم جس میں بڑے نام شامل نہیں وہ کیسے فتوحات کے جھنڈے گاڑتی جا رہی ہے، ہمیں یہ سلسلہ برقرار رکھنا ہوگا، کھلاڑیوں کو بھی چاہیے کہ وہ کامیابیوں کو دماغ پر سوار نہیں کریں اور اپنے قدم زمین پر ہی رکھیں، ابھی لارڈز ٹیسٹ جیتا ہے، لیڈز میں بھی فتح حاصل کرکے سیریز اپنے نام کریں، پھر مستقبل کے ایونٹس میں بھی عمدہ کھیل پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ بہتری کا یہ سفر جو شروع ہوا ہے وہ رکنا نہیں چاہیے، اس کے لیے تسلسل سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور قومی ٹیم اس کی اہل ہے۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)