ڈاکٹر طارق بنوری اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین نامزد

ڈاکٹر طارق بنوری چیئرمین ایچ ای سی کے طورپرادارے کے چوتھے مستقل سربراہ ہوں گے۔

ڈاکٹر طارق بنوری چیئرمین ایچ ای سی کے طورپرادارے کے چوتھے مستقل سربراہ ہوں گے۔فوٹو : فائل

چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے لیے ڈاکٹر طارق بنوری کے نام کی منظوری دے دی گئی ان کی تقرری کانوٹیفیکیشن جلد جاری ہونے کاامکان ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بطور کنٹرولنگ اتھارٹی حکومتی مدت ختم ہونے سے محض 3 روزقبل چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے لیے ڈاکٹر طارق بنوری کے نام کی منظوری دے دی ہے ان کی تقرری کانوٹیفیکیشن جلد جاری ہونے کاامکان ہے، وہ چیئرمین ایچ ای سی کے طورپرادارے کے چوتھے مستقل سربراہ ہوں گے۔

 

ادارے کے پہلے سربراہ ڈاکٹرعطا الرحمن، دوسرے ڈاکٹرجاویدلغاری جبکہ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے تیسرے سربراہ ڈاکٹر مختار احمد تھے وہ آئندہ مدت کے لیے بھی اس عہدے کے امیدوارتھے تاہم تلاش کمیٹی نے ان کے نام کی سفارش نہیں کی۔


تلاش کمیٹی کی جانب سے وزیراعظم کوبھجوائی گئی سمری میں جامعہ کراچی ایچ ای جے ریسرچ سینٹرکے پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری، ڈاکٹرانوارالحسن گیلانی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مختار احمدسمیت ڈاکٹر طارق بنوری کانام بھی موجودتھا۔ تلاش کمیٹی 23جنوری 2018 کو وزیراعظم نے ہی تشکیل دی تھی جس کے کنوینر ڈاکٹر بابرعلی تھے۔ اس کمیٹی نے اپریل کے دوسرے عشرے میں امیدواروں کے انٹرویوزکیے جس کے بعدمذکورہ 4 نام شارٹ لسٹ کیے گئے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے چیئرمین ایچ ای سی کے لیے منظورکردہ شخصیت ڈاکٹر طارق بنوری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورمیں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے لیے سفارشات مرتب کرنے والی ٹاسک فورس کاحصہ تھے۔ کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرطارق بنوری نے ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کیاہے وہ یونیورسٹی آف یوٹاہ سالٹ لیک سٹی امریکا کے پروفیسربھی رہے ہیں جبکہ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی )کے بانی ہیں۔

ڈاکٹرطارق بنوری پاکستان کی سول سروس کاحصہ بھی رہے تاہم اسی اثنا میں پی ایچ ڈی کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی چلے گئے انھوں نے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ انسٹی ٹیوٹ فارڈیولپمنٹ اکنامکس ریسرچ (ڈبلیوآئی ڈی ای آر) میں بحیثیت ریسرچ فیلوبھی خدمات انجام دیں۔

دریں اثنا فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈٕک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ، انٹریونیورسٹیز کنسورشیم کے نیشنل کوآرڈینیٹر مرتضیٰ نور و دیگر نے وزیراعظم کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بھی اپنے ہمسایہ ممالک کی طرح اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ترقی حاصل کرے۔

''ایکسپریس''سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹرطارق بنوری کاکہناتھاکہ بنیادی چیز یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے شعبے میں کافی توسیع ہوئی ہے اور بہتری بھی آئی ہے تاہم اب کوالٹی ایجوکیشن پرزیادہ فوکس کی ضرورت ہے کوالٹی ا یجوکیشن کے ایشوز پر ماہرین کو زیادہ تشویش ہے جبکہ طلبا پر سرمایہ کاری ہونی چاہیے۔
Load Next Story