نقیب قتل کیس گرینڈ جرگے کی عید کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کی دھمکی
حکومتی رویہ غیر سنجیدہ قرار، احتجاج کو ’’ریاست بڑی یا رائو انوار بڑا‘‘ کا نام دے دیا گیا، ترجمان جرگہ
نقیب قوم کا بیٹا تھا اس کو انصاف ضرور ملے گا، راؤ انوار کے وی آئی پی پروٹوکول کیخلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں، والد۔ فوٹو: فائل
جعلی پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود نے کہا ہے کہ رائو انوار 424 لوگوں کا قاتل ہے اور ہر جگہ کھلا گھوم رہا ہے۔اب اس حوالے سے اگرکوئی احتجاج ہو گا تو اس کا عنوان ''ریاست بڑی یا راؤ انوار'' ہوگا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود نے کہا ہے کہ نقیب کے خون کا سودا کرنا اپنے ماں باپ کے خون کا سودا کرنے کے مترادف ہوگا،ملک کے 22 کروڑ عوام کے میرے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف نے یقین دلایا ہے کہ نقیب قوم کا بیٹا تھا اس کو انصاف ضرور ملے گا۔ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے اربوں روپے کے ناجائز اثاثے بنائے ہیں۔ راؤ انوار کو وی آئی پی پروٹوکول دیے جانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کررہے ہیں۔
اس موقع پر معروف سماجی رہنما جبران ناصر اور دیگر بھی موجود تھے۔ گرینڈ جرگہ کے ترجمان سیف ارحمان نے کہا کہ راؤ انوار نے اربوں روپے کا نا جائز دھن کمایاہے۔نقیب کا خون نہ کوئی بیج سکتا ہے نہ اس کو خریدنے کی کوئی طاقت رکھتا ہے۔ ریاست ایک ماں ہے، اسکا دہرا معیار سماج سے باہر ہے۔ہمارے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے۔ اگر حکومت نے اپنی روش نہیں بدلی تو گرینڈ جرگہ عید کے بعد ریڈ زون میں ایک بڑا احتجاج کرے گی۔ ریاست ماں ہے، اور ہم کو اس سے انصاف کی امید ہے۔
نقیب کے والد محمد خان محسود نے کہا کہ اتنے بڑے بڑے قاتل ایسے ہی گھوم پھر رہے ہیں۔ہم قانون اور آئین کے حدود میں رہ کر انصاف لے کر رہیں گے۔ رائو انوار 424 لوگوں کا قاتل ہے اور ہر جگہ کھلا گھوم رہا ہے۔اب اس حوالے سے اگرکوئی احتجاج ہو گا تو اس کا عنوان ''ریاست بڑی یا راؤ انوار'' ہوگا۔انھوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے خون کا سودا نہیں ہو سکتاہے۔میں میڈیا کا بھی مشکورہوں جنھوں نے ہمارا ساتھ دیا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ایس ایس پی نے 2012 سے 74 بار دبئی کا چکر لگایا۔ آج نیب میں را ؤانوار کے کالے دھن کا پتا لگانے کے حوالے سے درخواست دی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرانے جا رہے ہیں کہ سندھ حکومت کے متعصبانہ رویے کا نوٹس لیا جائے۔ راؤ انور کے ساتھ ایک عام قیدی جیسا سلوک کیا جائے۔ ایک معطل افسر کو کورٹ میں سلیوٹ کیا جاتا ہے۔ سندھ حکومت را ؤانور کو وی آئی پی پروٹوکول دے رہی ہے۔
اس موقع پر جبران ناصر نے کہا کہ راؤ انوار پہلا مجرم ہے جس کی زندگی گرفتاری کے بعد اور آسان ہو گئی ہے۔ نقیب کی والد سے وعدہ کیا گیا تھا کہ قانونی کاروائی کی جائے گی۔انصاف دیا جائے گا۔کیا انھیں انصاف دیا گیاہے۔انھوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ ہمیں تھکادے گا تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ہم یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ ہم ان میڈیا اور پولیس والوں کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جنھوں نے نقیب اللہ کی کوریج کی ہے۔ ہم ان کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جو زندہ ہیں۔ ہمیں امید ہے نیب اور عدالت ہمارا ساتھ دے گی۔
دریں اثنا انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت6جون تک ملتوی کردی، عدالت نے راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے پیر کو نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی جہاں ملزم راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کی عدم پیشی پر عدالت برہمی کا اظہار کیا تفتیشی افسر کی جانب سے ڈی ایس پی اختر جواد عدالت میں پیش ہوئے جہاں انھوں نے بتایا کہ مفرور ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
عدالت نے مفرورملزمان سابق ایس ایچ اوامان اللہ مروت سمیت 12ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ راؤ انوار کی ضمانت اور بی کلاس پر وکلا نے دلائل دیے ،ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دیے جانے کے خلاف درخواست پر بھی وکلا نے ملزمان کو مقدمات کی نقول اور سی ڈیز فراہم کردی گئیں عدالت میں تفتیشی افسر کی جانب سے نقیب اللہ قتل کیس کے حوالے سے چلنے والی میڈیا رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
تفتیشی افسر کی جانب سے 12سے زاہد سی ڈیز عدالت میں جمع کرائی گئیں، سی ڈیز نقیب اللہ کے اغوا اور قتل کے بعد نیوز چینل پر چلنے والی میڈیا رپورٹ پر مشتمل ہے رائو انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق اعتراضات پر سماعت ہوئی جس پر عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ سے رائو انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق درخواست کی تصدیق کا حکم دے دیا ۔
مدعی مقدمے کے وکیل کا کہنا تھا کہ رائو انوار کو جب عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیجا گیا تو ملزم نے کسی قسم کے سیکیورٹی خدشات کا اظہار نہیں کیا تھا عدالت نے راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے نے سماعت 6جون تک ملتوی کردی آئندہ سماعت پر ملزم راؤ انوار کی درخواست ضمانت پر دلائل دیے جائیں گے۔
مدعی مقدمہ کے وکیل صلاح الدین پہنور کا کہنا تھا کہ سب جیل کے لیے کوئی نوٹس نہیں آیا تھا اچانک سے رائو انوار کہ گھر سب جیل قرار دے دیا گیا، ایک ملزم کو حکومت سہولت دے رہی ہے ،ایک ملزم جو جیل میں ہی نہیں تو اسے بی کلاس کی کیا ضرورت ہے،ایسا کوئی قانون نہیں جو ایک دہشتگرد کو بی کلاس فراہم کی جائے۔
عدالت میں تین ملزمان یاسین ڈکو،سپرد حسین اور خضرحیات کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئیں جس پرعدالت نے 6 جون کے لیے سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کردیے جبکہ محکمہ قانون سندھ نے نذیر بھنگورا کو نیا پراسیکیوٹر مقرر کر دیا ،سابق پراسیکیوٹر علی رضا نے دھمکیوں کے باعث کیس کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود نے کہا ہے کہ نقیب کے خون کا سودا کرنا اپنے ماں باپ کے خون کا سودا کرنے کے مترادف ہوگا،ملک کے 22 کروڑ عوام کے میرے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف نے یقین دلایا ہے کہ نقیب قوم کا بیٹا تھا اس کو انصاف ضرور ملے گا۔ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے اربوں روپے کے ناجائز اثاثے بنائے ہیں۔ راؤ انوار کو وی آئی پی پروٹوکول دیے جانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کررہے ہیں۔
اس موقع پر معروف سماجی رہنما جبران ناصر اور دیگر بھی موجود تھے۔ گرینڈ جرگہ کے ترجمان سیف ارحمان نے کہا کہ راؤ انوار نے اربوں روپے کا نا جائز دھن کمایاہے۔نقیب کا خون نہ کوئی بیج سکتا ہے نہ اس کو خریدنے کی کوئی طاقت رکھتا ہے۔ ریاست ایک ماں ہے، اسکا دہرا معیار سماج سے باہر ہے۔ہمارے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے۔ اگر حکومت نے اپنی روش نہیں بدلی تو گرینڈ جرگہ عید کے بعد ریڈ زون میں ایک بڑا احتجاج کرے گی۔ ریاست ماں ہے، اور ہم کو اس سے انصاف کی امید ہے۔
نقیب کے والد محمد خان محسود نے کہا کہ اتنے بڑے بڑے قاتل ایسے ہی گھوم پھر رہے ہیں۔ہم قانون اور آئین کے حدود میں رہ کر انصاف لے کر رہیں گے۔ رائو انوار 424 لوگوں کا قاتل ہے اور ہر جگہ کھلا گھوم رہا ہے۔اب اس حوالے سے اگرکوئی احتجاج ہو گا تو اس کا عنوان ''ریاست بڑی یا راؤ انوار'' ہوگا۔انھوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے خون کا سودا نہیں ہو سکتاہے۔میں میڈیا کا بھی مشکورہوں جنھوں نے ہمارا ساتھ دیا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ایس ایس پی نے 2012 سے 74 بار دبئی کا چکر لگایا۔ آج نیب میں را ؤانوار کے کالے دھن کا پتا لگانے کے حوالے سے درخواست دی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرانے جا رہے ہیں کہ سندھ حکومت کے متعصبانہ رویے کا نوٹس لیا جائے۔ راؤ انور کے ساتھ ایک عام قیدی جیسا سلوک کیا جائے۔ ایک معطل افسر کو کورٹ میں سلیوٹ کیا جاتا ہے۔ سندھ حکومت را ؤانور کو وی آئی پی پروٹوکول دے رہی ہے۔
اس موقع پر جبران ناصر نے کہا کہ راؤ انوار پہلا مجرم ہے جس کی زندگی گرفتاری کے بعد اور آسان ہو گئی ہے۔ نقیب کی والد سے وعدہ کیا گیا تھا کہ قانونی کاروائی کی جائے گی۔انصاف دیا جائے گا۔کیا انھیں انصاف دیا گیاہے۔انھوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ ہمیں تھکادے گا تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ہم یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ ہم ان میڈیا اور پولیس والوں کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جنھوں نے نقیب اللہ کی کوریج کی ہے۔ ہم ان کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جو زندہ ہیں۔ ہمیں امید ہے نیب اور عدالت ہمارا ساتھ دے گی۔
دریں اثنا انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت6جون تک ملتوی کردی، عدالت نے راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے پیر کو نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی جہاں ملزم راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کی عدم پیشی پر عدالت برہمی کا اظہار کیا تفتیشی افسر کی جانب سے ڈی ایس پی اختر جواد عدالت میں پیش ہوئے جہاں انھوں نے بتایا کہ مفرور ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
عدالت نے مفرورملزمان سابق ایس ایچ اوامان اللہ مروت سمیت 12ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ راؤ انوار کی ضمانت اور بی کلاس پر وکلا نے دلائل دیے ،ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دیے جانے کے خلاف درخواست پر بھی وکلا نے ملزمان کو مقدمات کی نقول اور سی ڈیز فراہم کردی گئیں عدالت میں تفتیشی افسر کی جانب سے نقیب اللہ قتل کیس کے حوالے سے چلنے والی میڈیا رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
تفتیشی افسر کی جانب سے 12سے زاہد سی ڈیز عدالت میں جمع کرائی گئیں، سی ڈیز نقیب اللہ کے اغوا اور قتل کے بعد نیوز چینل پر چلنے والی میڈیا رپورٹ پر مشتمل ہے رائو انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق اعتراضات پر سماعت ہوئی جس پر عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ سے رائو انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق درخواست کی تصدیق کا حکم دے دیا ۔
مدعی مقدمے کے وکیل کا کہنا تھا کہ رائو انوار کو جب عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیجا گیا تو ملزم نے کسی قسم کے سیکیورٹی خدشات کا اظہار نہیں کیا تھا عدالت نے راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے نے سماعت 6جون تک ملتوی کردی آئندہ سماعت پر ملزم راؤ انوار کی درخواست ضمانت پر دلائل دیے جائیں گے۔
مدعی مقدمہ کے وکیل صلاح الدین پہنور کا کہنا تھا کہ سب جیل کے لیے کوئی نوٹس نہیں آیا تھا اچانک سے رائو انوار کہ گھر سب جیل قرار دے دیا گیا، ایک ملزم کو حکومت سہولت دے رہی ہے ،ایک ملزم جو جیل میں ہی نہیں تو اسے بی کلاس کی کیا ضرورت ہے،ایسا کوئی قانون نہیں جو ایک دہشتگرد کو بی کلاس فراہم کی جائے۔
عدالت میں تین ملزمان یاسین ڈکو،سپرد حسین اور خضرحیات کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئیں جس پرعدالت نے 6 جون کے لیے سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کردیے جبکہ محکمہ قانون سندھ نے نذیر بھنگورا کو نیا پراسیکیوٹر مقرر کر دیا ،سابق پراسیکیوٹر علی رضا نے دھمکیوں کے باعث کیس کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔