انتخابات اور بڑے سیکیورٹی خطرات
قائمہ کمیٹی نے جائز سوال اٹھایا ، کئی نکات پر بحث ہوئی، مثلا یہ کہ الیکشن میں نتائج تبدیل کیے جاتے ہی
قائمہ کمیٹی نے جائز سوال اٹھایا ، کئی نکات پر بحث ہوئی، مثلا یہ کہ الیکشن میں نتائج تبدیل کیے جاتے ہیں۔فوٹو: فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے موقع پر بڑے پیمانے پر سیکیورٹی خطرات ہیں جو الیکشن کمیشن کے لیے پریشانی کا باعث ہیں ، کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم انتخابات کے موقع پر فوج تعینات کرنے کا ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پیر کو سینیٹر رحمن ملک کی زیرصدارت اجلاس میں سینیٹر میاں عتیق، اعظم موسیٰ خیل، چوہدری تنویر، جاوید عباسی، کلثوم پروین، اسد علی جونیجو، اعظم سواتی اور غفور حیدری نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں چیئرمین نادرا، چیف کمشنراسلام آباد، آئی جی پولیس اسلام آباد، ایڈیشنل آئی جی پولیس پنجاب اور سیکریٹری الیکشن کمیشن موجود تھے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آیندہ انتخابات کے حوالے سے غیر معمولی سیکیورٹی خطرات اور عالمی قوتوں کی طرف سے الیکشن سبوتاژ کیے جانے پر کمیٹی کے روبرو جو اندیشے اور خدشات اٹھائے ہیں وہ حد درجہ تشویش ناک ہیں، سیکریٹری بابر یعقوب نے کہا کہ وہ کمیٹی کو سیکیورٹی پر ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں کشیدگی ، معاشرے میں تشدد اور جمہوری عمل کے تسلسل کے باوجود سیاسی رہنماؤں میں عدم رواداری اور ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشی کے نتیجہ میں صورتحال خاصی دھماکا خیز ہے، ملک کی تین مین اسٹریم پارٹیوں پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، لاتعداد آزاد امیدوار جمہوری عمل کا حصہ ہوںگے۔
اس لیے جو سیاسی درجہ حرارت ہے اسے شفاف الیکشن کی محض خواہشات کے ساتھ منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا بلکہ اس کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہوںگے، فالٹ فری انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی لازمی قرار دی جانی چاہیے جس کی خلاف ورزی قابل تعدیب بھی ہونی چاہیے، تاکہ کوئی انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی جرات نہ کرسکے، سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جن عالمی قوتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ان کیمرہ بریفنگ میں ان کے مذموم عزائم اور ارادوں کی واضح نشاندہی کردیں تو الیکشن کو ممکنہ طور پر لاحق خطرات کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔
یوں تو اہل وطن اپنے دشمنوں سے ناواقف نہیں خطے میں کئی طاغوتی طاقتیں پاکستان کے صبر کو آزمانے میں مصروف ہیں مگر ذمے داری سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ الیکشن میں جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کریں ، ان کے جلسے اور انتخابی مہم شائستگی ، تنظیم ، ضبط و تحمل اور انتخابی منشور سے مربوط ہوں ، دشنام طرازی کی ساری تلواریں نیام میں ڈالی جانی چاہیئں، اور سیاسی قیادتوں کو ادراک کرنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے ایک ذمے دار افسر نے جن عالمی خطرات کے خدشات ظاہر کیے ہیں وہ اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کریں اور اسی جمہوری جذبہ، افہام و تفہیم اور معاملہ فہمی سے الیکشن کی تیاری کریں جو مہذب جمہوری ملکوں کا وتیرہ ہے چونکہ بات عالمی قوتوں کی طرف سے دخل اندازی کے خطرے کی ہے تو پوری قوم اس بات کا تہیہ کرلے کہ وہ الیکشن 2018 کے آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری طریقے سے انعقاد کی راہ میں کسی بھی رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گی۔
قائمہ کمیٹی نے جائز سوال اٹھایا ، کئی نکات پر بحث ہوئی، مثلا یہ کہ الیکشن میں نتائج تبدیل کیے جاتے ہیں، پولنگ اسٹیشنزسے نتائج ریٹرننگ افسروں کے دفاتر لے جاتے ہوئے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ الیکشن میں جھرلو نہیں پھرنا چاہیے۔ اس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن نتائج کی مانیٹرنگ کاطریقہ کار بھی وضع کرلیا گیا ہے، کسی کو نتائج تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مگر کوشش ہر بار یہی ہوتی ہے کہ فیئر الیکشن ہوں، بے ضابطگیاں پھر بھی ہوتی ہیں، مگر ایسا ممکن نہیں کہ کوئی سیاسی جماعت یا اکیلا امیدوار سارا الیکشن شو مشاعرے کی طرح لوٹ کر لے جائے ۔
چنانچہ لازم ہے کہ نگراں حکومت اس بار قومی چیلنجز اور سیاسی جماعتوں میں غیر معمولی محاذ آرائی، کشمکش، اور الزام تراشیوں سے پیدا شدہ ماحول کی گرمی کا خاتمہ کرے، سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کو ملکی حالات اور جمہوریت کے تسلسل اور اقتدار کی پر امن منتقلی کے لوازمات اور بنیادی تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے، الیکشن کو قومی جمہوری سفر کی نئی منزل کی طرف کوچ کی تیاری سمجھنا چاہیے، انتخابات ملکی آئین کی پانچ سالہ ضرورت ہیں، سیاسی جماعتیں ووٹ کے ذریعے تبدیلی حکومت کا جمہوری طریقہ استعمال کرتی ہیں، فیصلہ ووٹر کرتے ہیں کہ کس کو اقتدار کے مسند پر فائز ہونا چاہیے، اسٹالن کا زمانہ گیا جب وہ کہتے تھے کہ ووٹ دینے والے فیصلہ نہیں کرتے۔ بہر حال الیکشن خونریز جنگ یا خاندانوں کے درمیان دشمنی چکانے کا آخری داؤ نہیں، الیکشن وہی شفاف کہلاتے ہیں جس میں ووٹر آزادی سے اپنا ووٹ ڈالے، اسے پولنگ بوتھ تک جانے میں کسی قسم کا خوف نہ ہو۔
اسے ضمیر کے مطابق فیصلہ کی مکمل آزادی ہو اور تمام سیاسی جماعتیں ووٹنگ پراسیس اور نتائج کے اعلان پر کامل یقین رکھیں ، نگراں حکومت ، صوبائی حکومتیں جمہوری طرز عمل اور شفافیت کے ساتھ پولنگ کے انتظامات کو یقینی بنائیں، الیکشن کمیشن اور سیکیورٹی حکام انتخابی مہم کے لیے آزادانہ ، منصفانہ اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے ویسا جمہوری ماحول مہیا کریں جو آیندہ الیکشن کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولیس کی سیکیورٹی ناکافی ہے، صوبوںکی طرف سے پاک فوج کی خدمات کا مطالبہ آرہا ہے، بتایا گیا کہ ملک میں 20ہزار پولنگ اسٹیشن حساس قراردے دیے گئے، حساس پولنگ اسٹیشنوں میں کیمرے لگائے جائیں گے، سیکیورٹی کے لیے پاک فوج کی خدمات کامطالبہ آرہا ہے۔ پاک فوج کے ساتھ سیکیورٹی پر اجلاس ہوچکے ہیں، پاک فوج مشرقی اور مغربی بارڈر پر مصروف ہے، کیمروں کی تنصیب کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔ کیمروں کی تنصیب سے الیکشن میں شفافیت آئے گی۔ سیکیورٹی کے لیے پولیس ناکافی ہے۔ غور کیا جارہا ہے کہ پاک فوج کو صرف حساس پولنگ اسٹیشنوں یا تمام اسٹیشنوں پر تعینات کریں۔
نگراں حکومت جسٹس (ر) ناصرالملک کی سربراہی میں شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ حد تک قوم کی تالیف قلب کا سامان کریگی، نئے سیٹ اپ کے قیام کے ساتھ ہی ٹھوس اقدامات شروع ہونے چاہیئں، ایک بنیادی حقیقت پر سیاسی سواد اعظم کو اتفاق کرنا ہوگا اور وہ الیکشن میں فراڈ ، دھاندلی یا جعلی ووٹنگ کی شکایتوں سے متعلق ہے، ملکی الیکشن رگنگ اور جعلی ووٹنگ کے الزامات سے کبھی پاک نہیں رہے، ماسوائے 70 کے الیکشن کے، جھرلو کی گونج ہر الیکشن کے بعد سنائی دی۔ امیدوار اکثر اپنی ہار نہیں مانتے، گزشتہ 2013 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر سیاسی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کیا ، ڈھیر سارے پنکچرز کے الزامات لگائے گئے مگر حقیقت الزامات کے برعکس نکلی۔ بلاشبہ جعلی ووٹنگ اور دھاندلی کا گھناؤنا چکر پولنگ بوتھ پر چلتا رہا ہے، مقناطیسی سیاہی کا مسئلہ پیش آیا، ہزاروں ووٹوں کی تصدیق نہ ہوسکی۔ مگر اب کی بار یہ باب بند ہونا چاہیے، الیکشن ہوں اور نظر بھی آئیں کہ کسی انجینئرنگ کے بغیر ہوئے ہیں۔اسی میں قوم کی جیت ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آیندہ انتخابات کے حوالے سے غیر معمولی سیکیورٹی خطرات اور عالمی قوتوں کی طرف سے الیکشن سبوتاژ کیے جانے پر کمیٹی کے روبرو جو اندیشے اور خدشات اٹھائے ہیں وہ حد درجہ تشویش ناک ہیں، سیکریٹری بابر یعقوب نے کہا کہ وہ کمیٹی کو سیکیورٹی پر ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں کشیدگی ، معاشرے میں تشدد اور جمہوری عمل کے تسلسل کے باوجود سیاسی رہنماؤں میں عدم رواداری اور ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشی کے نتیجہ میں صورتحال خاصی دھماکا خیز ہے، ملک کی تین مین اسٹریم پارٹیوں پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، لاتعداد آزاد امیدوار جمہوری عمل کا حصہ ہوںگے۔
اس لیے جو سیاسی درجہ حرارت ہے اسے شفاف الیکشن کی محض خواہشات کے ساتھ منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا بلکہ اس کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہوںگے، فالٹ فری انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی لازمی قرار دی جانی چاہیے جس کی خلاف ورزی قابل تعدیب بھی ہونی چاہیے، تاکہ کوئی انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی جرات نہ کرسکے، سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جن عالمی قوتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ان کیمرہ بریفنگ میں ان کے مذموم عزائم اور ارادوں کی واضح نشاندہی کردیں تو الیکشن کو ممکنہ طور پر لاحق خطرات کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔
یوں تو اہل وطن اپنے دشمنوں سے ناواقف نہیں خطے میں کئی طاغوتی طاقتیں پاکستان کے صبر کو آزمانے میں مصروف ہیں مگر ذمے داری سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ الیکشن میں جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کریں ، ان کے جلسے اور انتخابی مہم شائستگی ، تنظیم ، ضبط و تحمل اور انتخابی منشور سے مربوط ہوں ، دشنام طرازی کی ساری تلواریں نیام میں ڈالی جانی چاہیئں، اور سیاسی قیادتوں کو ادراک کرنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے ایک ذمے دار افسر نے جن عالمی خطرات کے خدشات ظاہر کیے ہیں وہ اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کریں اور اسی جمہوری جذبہ، افہام و تفہیم اور معاملہ فہمی سے الیکشن کی تیاری کریں جو مہذب جمہوری ملکوں کا وتیرہ ہے چونکہ بات عالمی قوتوں کی طرف سے دخل اندازی کے خطرے کی ہے تو پوری قوم اس بات کا تہیہ کرلے کہ وہ الیکشن 2018 کے آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری طریقے سے انعقاد کی راہ میں کسی بھی رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گی۔
قائمہ کمیٹی نے جائز سوال اٹھایا ، کئی نکات پر بحث ہوئی، مثلا یہ کہ الیکشن میں نتائج تبدیل کیے جاتے ہیں، پولنگ اسٹیشنزسے نتائج ریٹرننگ افسروں کے دفاتر لے جاتے ہوئے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ الیکشن میں جھرلو نہیں پھرنا چاہیے۔ اس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن نتائج کی مانیٹرنگ کاطریقہ کار بھی وضع کرلیا گیا ہے، کسی کو نتائج تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مگر کوشش ہر بار یہی ہوتی ہے کہ فیئر الیکشن ہوں، بے ضابطگیاں پھر بھی ہوتی ہیں، مگر ایسا ممکن نہیں کہ کوئی سیاسی جماعت یا اکیلا امیدوار سارا الیکشن شو مشاعرے کی طرح لوٹ کر لے جائے ۔
چنانچہ لازم ہے کہ نگراں حکومت اس بار قومی چیلنجز اور سیاسی جماعتوں میں غیر معمولی محاذ آرائی، کشمکش، اور الزام تراشیوں سے پیدا شدہ ماحول کی گرمی کا خاتمہ کرے، سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کو ملکی حالات اور جمہوریت کے تسلسل اور اقتدار کی پر امن منتقلی کے لوازمات اور بنیادی تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے، الیکشن کو قومی جمہوری سفر کی نئی منزل کی طرف کوچ کی تیاری سمجھنا چاہیے، انتخابات ملکی آئین کی پانچ سالہ ضرورت ہیں، سیاسی جماعتیں ووٹ کے ذریعے تبدیلی حکومت کا جمہوری طریقہ استعمال کرتی ہیں، فیصلہ ووٹر کرتے ہیں کہ کس کو اقتدار کے مسند پر فائز ہونا چاہیے، اسٹالن کا زمانہ گیا جب وہ کہتے تھے کہ ووٹ دینے والے فیصلہ نہیں کرتے۔ بہر حال الیکشن خونریز جنگ یا خاندانوں کے درمیان دشمنی چکانے کا آخری داؤ نہیں، الیکشن وہی شفاف کہلاتے ہیں جس میں ووٹر آزادی سے اپنا ووٹ ڈالے، اسے پولنگ بوتھ تک جانے میں کسی قسم کا خوف نہ ہو۔
اسے ضمیر کے مطابق فیصلہ کی مکمل آزادی ہو اور تمام سیاسی جماعتیں ووٹنگ پراسیس اور نتائج کے اعلان پر کامل یقین رکھیں ، نگراں حکومت ، صوبائی حکومتیں جمہوری طرز عمل اور شفافیت کے ساتھ پولنگ کے انتظامات کو یقینی بنائیں، الیکشن کمیشن اور سیکیورٹی حکام انتخابی مہم کے لیے آزادانہ ، منصفانہ اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے ویسا جمہوری ماحول مہیا کریں جو آیندہ الیکشن کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولیس کی سیکیورٹی ناکافی ہے، صوبوںکی طرف سے پاک فوج کی خدمات کا مطالبہ آرہا ہے، بتایا گیا کہ ملک میں 20ہزار پولنگ اسٹیشن حساس قراردے دیے گئے، حساس پولنگ اسٹیشنوں میں کیمرے لگائے جائیں گے، سیکیورٹی کے لیے پاک فوج کی خدمات کامطالبہ آرہا ہے۔ پاک فوج کے ساتھ سیکیورٹی پر اجلاس ہوچکے ہیں، پاک فوج مشرقی اور مغربی بارڈر پر مصروف ہے، کیمروں کی تنصیب کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔ کیمروں کی تنصیب سے الیکشن میں شفافیت آئے گی۔ سیکیورٹی کے لیے پولیس ناکافی ہے۔ غور کیا جارہا ہے کہ پاک فوج کو صرف حساس پولنگ اسٹیشنوں یا تمام اسٹیشنوں پر تعینات کریں۔
نگراں حکومت جسٹس (ر) ناصرالملک کی سربراہی میں شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ حد تک قوم کی تالیف قلب کا سامان کریگی، نئے سیٹ اپ کے قیام کے ساتھ ہی ٹھوس اقدامات شروع ہونے چاہیئں، ایک بنیادی حقیقت پر سیاسی سواد اعظم کو اتفاق کرنا ہوگا اور وہ الیکشن میں فراڈ ، دھاندلی یا جعلی ووٹنگ کی شکایتوں سے متعلق ہے، ملکی الیکشن رگنگ اور جعلی ووٹنگ کے الزامات سے کبھی پاک نہیں رہے، ماسوائے 70 کے الیکشن کے، جھرلو کی گونج ہر الیکشن کے بعد سنائی دی۔ امیدوار اکثر اپنی ہار نہیں مانتے، گزشتہ 2013 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر سیاسی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کیا ، ڈھیر سارے پنکچرز کے الزامات لگائے گئے مگر حقیقت الزامات کے برعکس نکلی۔ بلاشبہ جعلی ووٹنگ اور دھاندلی کا گھناؤنا چکر پولنگ بوتھ پر چلتا رہا ہے، مقناطیسی سیاہی کا مسئلہ پیش آیا، ہزاروں ووٹوں کی تصدیق نہ ہوسکی۔ مگر اب کی بار یہ باب بند ہونا چاہیے، الیکشن ہوں اور نظر بھی آئیں کہ کسی انجینئرنگ کے بغیر ہوئے ہیں۔اسی میں قوم کی جیت ہے۔