ملک میں شدید گرمی کی لہر
سن دوہزار پندرہ کا سال کم وبیش دو ہزار قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا تھا وجہ تھی گرمی کی لہر
سن دوہزار پندرہ کا سال کم وبیش دو ہزار قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا تھا وجہ تھی گرمی کی لہر۔فوٹو: فائل
ملک بھر میں اس وقت شدید گرمی کی لہر آئی ہوئی ہے۔ چھوٹے بڑے شہر، قصبے، دیہات ، میدانی اور صحرائی علاقے سب شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ سورج آگ اگل رہا ہے، دھوپ کی حدت ناقابل برداشت ہوچکی ہے ۔ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔کراچی ، لاہور، اسلام آباد ، فیصل آباد، حیدرآباد ، ملتان، جھنگ، سکھر، تربت، لسبیلہ ، سبی سمیت دیگر علاقوں میں درجہ حرات چالیس سے پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہا ہے ۔گلوبل وارمنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں ۔ ہمارے یہاں تو اس مسئلے کو یکسر نظر اندازکیاگیا ۔
عالمی ماحولیاتی وموسمیاتی ماہرین اپنی تحقیق اور رپورٹس میں ہمیں خبردار کرتے رہے ، لیکن ہم نے کبوترکی طرح آنکھیں بند کرلی تھیں آج خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے ۔ بین الحکومتی پینل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سندھ ڈیلٹا کے درجہ حرارت میں چار سے چھ فیصد سینٹی گریڈ اضافہ ہوگا ۔ کراچی میں تو موسم گرما گزشتہ تین چار برس سے دس ماہ پر محیط ہوگیا ہے ۔کراچی میں تو ہیٹ ویوکا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ ایک ختم ہوتی ہے تو دوسری آجاتی ہے ،آنے والے تین دنوں میں پارہ 45 سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی سندھ پر ہوا کا کم دباؤ پھر متحرک ہوچکا ہے ۔ جو سمندرکی ہواؤں کی آیندہ تین روزکے دوران مکمل طور پر بند یا روک سکتا ہے جس کے نتیجے میں کراچی سمندرکی جنوب مغربی ہواؤں کے بجائے شمالی مغربی ہواؤں کی زد میں رہے گا ۔
سن دوہزار پندرہ کا سال کم وبیش دو ہزار قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا تھا وجہ تھی گرمی کی لہر ۔ اور تازہ ترین لہر میں بھی سو سے زائد جانیں جا چکی ہیں۔ لاہور میں کئی دن سے گرمی زوروں پر،آگ اگلتے سورج کی تپش اور دھوپ کی حدت اس قدر زیادہ ہے کہ ہر چیز پگھلتی محسوس ہوتی ہے ، دوپہرکے وقت چلتے ہیں لوکے تھپیڑے جو ہر انسان کے چہرے کو جھلسا دیتے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے تربت میں سب سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی ، جہاں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ رہا ، بلوچستان کے دیگر اضلاع لسبیلہ اور سبی بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے ۔ لسبیلہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اڑتالیس اور سبی میں سنتالیس سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ہماری تو وہ مثال ہے کہ جس شاخ پر بیٹھتے ہیں ، اسی کوکاٹ رہے ہوتے ہیں ۔ بڑے شہروں میں ہم نے پارکس اور ہزاروں درختوں کا صفایا کردیا ۔ اس کی دو بڑی مثالیں کراچی اور لاہور جیسے کثیر آبادی والے شہر ہیں ۔ لاہور اور کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال چار سے پانچ فٹ گرتی جا رہی ہے ۔ یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے۔
شدید ترین گرمی کے انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ، جن میں خشک سالی، زرعی پیدوار میں کمی اور گلیشیئرپگھلنے سے ملکی معیشت کی کمر ٹوٹ سکتی ہے ۔ پانی اور بجلی کا بحران اور لوڈشیڈنگ کے عذاب نے عام انسانوں کا نہ صرف جینا دوبھرکیا ہے بلکہ صحت عامہ کے مسائل بھی انتہائی سنگین ہوچکے ہیں۔ حکومتی اورعوامی سطح پر جنگی بنیادوں پر ملک بھر میں شجرکاری کی مہم کا آغاز کرنا ہوگا،کیونکہ عالمی معیارکے مطابق تو پچیس فیصد رقبے پردرخت ہونے چاہئیں، یہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے اس حل کرکے ہی ہم اپنے مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔
عالمی ماحولیاتی وموسمیاتی ماہرین اپنی تحقیق اور رپورٹس میں ہمیں خبردار کرتے رہے ، لیکن ہم نے کبوترکی طرح آنکھیں بند کرلی تھیں آج خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے ۔ بین الحکومتی پینل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سندھ ڈیلٹا کے درجہ حرارت میں چار سے چھ فیصد سینٹی گریڈ اضافہ ہوگا ۔ کراچی میں تو موسم گرما گزشتہ تین چار برس سے دس ماہ پر محیط ہوگیا ہے ۔کراچی میں تو ہیٹ ویوکا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ ایک ختم ہوتی ہے تو دوسری آجاتی ہے ،آنے والے تین دنوں میں پارہ 45 سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی سندھ پر ہوا کا کم دباؤ پھر متحرک ہوچکا ہے ۔ جو سمندرکی ہواؤں کی آیندہ تین روزکے دوران مکمل طور پر بند یا روک سکتا ہے جس کے نتیجے میں کراچی سمندرکی جنوب مغربی ہواؤں کے بجائے شمالی مغربی ہواؤں کی زد میں رہے گا ۔
سن دوہزار پندرہ کا سال کم وبیش دو ہزار قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا تھا وجہ تھی گرمی کی لہر ۔ اور تازہ ترین لہر میں بھی سو سے زائد جانیں جا چکی ہیں۔ لاہور میں کئی دن سے گرمی زوروں پر،آگ اگلتے سورج کی تپش اور دھوپ کی حدت اس قدر زیادہ ہے کہ ہر چیز پگھلتی محسوس ہوتی ہے ، دوپہرکے وقت چلتے ہیں لوکے تھپیڑے جو ہر انسان کے چہرے کو جھلسا دیتے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے تربت میں سب سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی ، جہاں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ رہا ، بلوچستان کے دیگر اضلاع لسبیلہ اور سبی بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے ۔ لسبیلہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اڑتالیس اور سبی میں سنتالیس سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ہماری تو وہ مثال ہے کہ جس شاخ پر بیٹھتے ہیں ، اسی کوکاٹ رہے ہوتے ہیں ۔ بڑے شہروں میں ہم نے پارکس اور ہزاروں درختوں کا صفایا کردیا ۔ اس کی دو بڑی مثالیں کراچی اور لاہور جیسے کثیر آبادی والے شہر ہیں ۔ لاہور اور کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال چار سے پانچ فٹ گرتی جا رہی ہے ۔ یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے۔
شدید ترین گرمی کے انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ، جن میں خشک سالی، زرعی پیدوار میں کمی اور گلیشیئرپگھلنے سے ملکی معیشت کی کمر ٹوٹ سکتی ہے ۔ پانی اور بجلی کا بحران اور لوڈشیڈنگ کے عذاب نے عام انسانوں کا نہ صرف جینا دوبھرکیا ہے بلکہ صحت عامہ کے مسائل بھی انتہائی سنگین ہوچکے ہیں۔ حکومتی اورعوامی سطح پر جنگی بنیادوں پر ملک بھر میں شجرکاری کی مہم کا آغاز کرنا ہوگا،کیونکہ عالمی معیارکے مطابق تو پچیس فیصد رقبے پردرخت ہونے چاہئیں، یہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے اس حل کرکے ہی ہم اپنے مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔