ہمارے نمائندے کون ہوں گے
وہی پرانے الیکشن جو بار بار آئے اور پرانے نمایندے یا ان کے بیٹے ، بھانجے اور بھتیجے دے کر چلے گئے.
Abdulqhasan@hotmail.com
ان دنوں اگرچہ قارئین کو الیکشن کے سوا کوئی اور موضوع قابل قبول نہیں لیکن پھر بھی کچھ ایسے زندہ موضوع سر اٹھا لیتے ہیں جو الیکشن کے ہنگاموں میں بھی چپ نہیں بیٹھتے۔ میں ان دنوں امیدواروں کی فہرست میں جن اسماء گرامی کو دیکھتا ہوں مجھے یہ نئے الیکشن بھی پرانے الیکشن ہی دکھائی دیتے ہیں۔
وہی پرانے الیکشن جو بار بار آئے اور پرانے نمایندے یا ان کے بیٹے ، بھانجے اور بھتیجے دے کر چلے گئے یعنی جاتے جاتے گند میں مزید اضافہ کر گئے۔ پہلے لوگوں میں ایک رکھ رکھاؤ اور شائستگی بھی تھی ان کی اولاد کی تربیت خدا جانے کس نے کی ہے کہ یہ بدتمیزی اور بدمعاشی کو اپنی شان سمجھتے ہیں۔ میں جب ان نو دولیتے نوجوانوں کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جن کی بڑے اور اونچے گھروں میں تربیت ہوئی وہ تو بے حد احتیاط کے ساتھ بات کرتے ہیں کہ کوئی ان کے باپ دادا کو برا نہ کہے لیکن آج کے کئی دولت مند گھرانوں بلکہ ہیرا پھیری کرکے خود دولت مند بن جانے والوں کی زبان کسی کے قابو میں نہیں ہے۔
ایک صاحب جو کسی صاحبزادے کو مل کر آئے تھے مجھے بے حد پریشان بلکہ مضطرب دکھائی دیے۔ میں پوچھے بغیر نہیں رہ سکا کہ ملاقات میں کوئی بہت ہی ناگوار بات ہو گئی ہے کہ آپ جیسا تحمل اور برداشت کا مالک بھی اس قدر پریشان دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے لیے چائے منگوائی گئی لیکن قدرے معمر ملازم سے چائے کے کچھ قطرے پلیٹ میں گر گئے، یہ دیکھ کر یہ صاحبزادے اس قدر برہم ہو گئے کہ انھوں نے اس محفل میں بزرگ ملازم کو صرف ماں بہن کی گالی نہیں دی ورنہ اس سے کم جو کچھ ہو سکتا تھا وہ کر دیا۔
ملازم چپ چاپ رہا اور اتنی ہمت کی کہ پلیٹ کو صاف کرنے لگا لیکن اس نوجوان کا اس بوڑھے ملازم پر غیض و غضب جاری رہا محفل اس قدر بدمزہ ہو گئی کہ میں کسی بہانے وہاں سے نکل آیا اور اب تمہارے سامنے اس ملازم کا سوچ رہا ہوں جو عمر کے اس حصے میں بھی ایسے بدتمیز لوگوں کی ملازمت پر مجبور ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نئی حکومت میں بھی وزیر یا کچھ اوپر ہوں گے یعنی وزیروں کو وزیر بنانے والے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم انھی لوگوں کی رعایا ہوں گے اور ہم آنے والے الیکشن میں انھی لوگوں کو پھر ووٹ دیں گے۔ ہم عوام میں اگر کوئی پندار باقی رہ گیا ہوتا تو میں یہاں غالب کے اس شعر کو نقل کرتا اور اپنی حالت کو اپنے عہد کے اس نہایت ہی حساس شاعر کی زبان میں بیان کرتا کہ
دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
آپ نے شاید کبھی غور نہیں کیا کہ ان لوگوں نے ہم عوام کو کس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ اب ہم فریاد کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔
خبریں چھپ رہی ہیں کہ لوگ الیکشن میں دلچسپی نہیں لے رہے اور اندیشہ ہے کہ ووٹوں کی تعداد بہت کم ہو گی۔ میں نے الیکشن میں دیکھا ہے کہ امیدوار لوگوں کو گھروں سے نکالتے ہیں اور انھیں اپنی سواری میں بیٹھا کر پولنگ اسٹیشن لے جاتے ہیں جہاں ان کے پولنگ ایجنٹ ان ووٹروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور انھیں اچھی طرح ذہن نشین کراتے ہیں کہ مہر کہاں لگانی ہے اس اطمینان کے ساتھ کہ ووٹر وہیں ٹھپہ لگائے گا جہاں اسے کہا گیا ہے اور اکثر و بیشتر ووٹر جو آتے ہی کسی کے کہنے پر ہیں امیدوار کی خواہش کے مطابق مہر لگاتے ہیں لیکن میرا یہ ایک احمقانہ خیال ہوتا ہے کہ پولنگ بوتھ کے اندر جو چاروں طرف سے بند ہوتاہے اور ووٹر کو کوئی دیکھ نہیں سکتا سوائے اس کے ضمیر کے اس وقت اس بند کمرے میں ووٹر کے سامنے جلی حروف میں یہ عبارت لکھی ہو کہ ووٹ اپنے ضمیر کے مطابق دو تمہیں تمہارے خدا کے سوا اور کوئی نہیں دیکھ رہا۔ میرے خیال میں الیکشن یعنی ووٹنگ کے منصفانہ ہونے کی اس سے بہتر کوئی اور صورت نہیں ہو سکتی لیکن ایسی کوئی بات نہ امیدوار ہونے دیں گے اور نہ ہی الیکشن کمیشن اتنی بڑی جسارت کرے گا۔
اگر ووٹر خدا کو حاضر ناظر جان کر ووٹ دیں تو امیدواروں کی ساری محنت اور خرچہ رائیگاں گیا۔ ووٹ امیدوار کو حاضر ناظر جان کر دیا جاتا ہے نہ کہ کسی اور کو۔ اس وقت جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان میں ایک بھی ایسی نہیں جو کسی ایسی بات کی اجازت دے گی جس سے اس کے ووٹر کو ورغلایا جا سکے اس لیے ہمارے یہ الیکشن جس طرح بھی ہو رہے ہیں انھیں ہونے دیں ایک الیکشن کی خرابیاں دوسرا الیکشن درست کرنا ہے۔ نواب صاحب سے جب امیدواروں کے کمزور کردار کی شکایت کی جاتی تو جواب میں کہتے اس کا علاج بھی ایک اور الیکشن ہے اور الیکشن کا سلسلہ جاری رہے تو تلچھٹ خود بخود ختم ہو جائے گی اور اکثریت اچھے لوگوں کی ہو گی۔
وہی پرانے الیکشن جو بار بار آئے اور پرانے نمایندے یا ان کے بیٹے ، بھانجے اور بھتیجے دے کر چلے گئے یعنی جاتے جاتے گند میں مزید اضافہ کر گئے۔ پہلے لوگوں میں ایک رکھ رکھاؤ اور شائستگی بھی تھی ان کی اولاد کی تربیت خدا جانے کس نے کی ہے کہ یہ بدتمیزی اور بدمعاشی کو اپنی شان سمجھتے ہیں۔ میں جب ان نو دولیتے نوجوانوں کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جن کی بڑے اور اونچے گھروں میں تربیت ہوئی وہ تو بے حد احتیاط کے ساتھ بات کرتے ہیں کہ کوئی ان کے باپ دادا کو برا نہ کہے لیکن آج کے کئی دولت مند گھرانوں بلکہ ہیرا پھیری کرکے خود دولت مند بن جانے والوں کی زبان کسی کے قابو میں نہیں ہے۔
ایک صاحب جو کسی صاحبزادے کو مل کر آئے تھے مجھے بے حد پریشان بلکہ مضطرب دکھائی دیے۔ میں پوچھے بغیر نہیں رہ سکا کہ ملاقات میں کوئی بہت ہی ناگوار بات ہو گئی ہے کہ آپ جیسا تحمل اور برداشت کا مالک بھی اس قدر پریشان دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے لیے چائے منگوائی گئی لیکن قدرے معمر ملازم سے چائے کے کچھ قطرے پلیٹ میں گر گئے، یہ دیکھ کر یہ صاحبزادے اس قدر برہم ہو گئے کہ انھوں نے اس محفل میں بزرگ ملازم کو صرف ماں بہن کی گالی نہیں دی ورنہ اس سے کم جو کچھ ہو سکتا تھا وہ کر دیا۔
ملازم چپ چاپ رہا اور اتنی ہمت کی کہ پلیٹ کو صاف کرنے لگا لیکن اس نوجوان کا اس بوڑھے ملازم پر غیض و غضب جاری رہا محفل اس قدر بدمزہ ہو گئی کہ میں کسی بہانے وہاں سے نکل آیا اور اب تمہارے سامنے اس ملازم کا سوچ رہا ہوں جو عمر کے اس حصے میں بھی ایسے بدتمیز لوگوں کی ملازمت پر مجبور ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نئی حکومت میں بھی وزیر یا کچھ اوپر ہوں گے یعنی وزیروں کو وزیر بنانے والے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم انھی لوگوں کی رعایا ہوں گے اور ہم آنے والے الیکشن میں انھی لوگوں کو پھر ووٹ دیں گے۔ ہم عوام میں اگر کوئی پندار باقی رہ گیا ہوتا تو میں یہاں غالب کے اس شعر کو نقل کرتا اور اپنی حالت کو اپنے عہد کے اس نہایت ہی حساس شاعر کی زبان میں بیان کرتا کہ
دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
آپ نے شاید کبھی غور نہیں کیا کہ ان لوگوں نے ہم عوام کو کس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ اب ہم فریاد کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔
خبریں چھپ رہی ہیں کہ لوگ الیکشن میں دلچسپی نہیں لے رہے اور اندیشہ ہے کہ ووٹوں کی تعداد بہت کم ہو گی۔ میں نے الیکشن میں دیکھا ہے کہ امیدوار لوگوں کو گھروں سے نکالتے ہیں اور انھیں اپنی سواری میں بیٹھا کر پولنگ اسٹیشن لے جاتے ہیں جہاں ان کے پولنگ ایجنٹ ان ووٹروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور انھیں اچھی طرح ذہن نشین کراتے ہیں کہ مہر کہاں لگانی ہے اس اطمینان کے ساتھ کہ ووٹر وہیں ٹھپہ لگائے گا جہاں اسے کہا گیا ہے اور اکثر و بیشتر ووٹر جو آتے ہی کسی کے کہنے پر ہیں امیدوار کی خواہش کے مطابق مہر لگاتے ہیں لیکن میرا یہ ایک احمقانہ خیال ہوتا ہے کہ پولنگ بوتھ کے اندر جو چاروں طرف سے بند ہوتاہے اور ووٹر کو کوئی دیکھ نہیں سکتا سوائے اس کے ضمیر کے اس وقت اس بند کمرے میں ووٹر کے سامنے جلی حروف میں یہ عبارت لکھی ہو کہ ووٹ اپنے ضمیر کے مطابق دو تمہیں تمہارے خدا کے سوا اور کوئی نہیں دیکھ رہا۔ میرے خیال میں الیکشن یعنی ووٹنگ کے منصفانہ ہونے کی اس سے بہتر کوئی اور صورت نہیں ہو سکتی لیکن ایسی کوئی بات نہ امیدوار ہونے دیں گے اور نہ ہی الیکشن کمیشن اتنی بڑی جسارت کرے گا۔
اگر ووٹر خدا کو حاضر ناظر جان کر ووٹ دیں تو امیدواروں کی ساری محنت اور خرچہ رائیگاں گیا۔ ووٹ امیدوار کو حاضر ناظر جان کر دیا جاتا ہے نہ کہ کسی اور کو۔ اس وقت جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان میں ایک بھی ایسی نہیں جو کسی ایسی بات کی اجازت دے گی جس سے اس کے ووٹر کو ورغلایا جا سکے اس لیے ہمارے یہ الیکشن جس طرح بھی ہو رہے ہیں انھیں ہونے دیں ایک الیکشن کی خرابیاں دوسرا الیکشن درست کرنا ہے۔ نواب صاحب سے جب امیدواروں کے کمزور کردار کی شکایت کی جاتی تو جواب میں کہتے اس کا علاج بھی ایک اور الیکشن ہے اور الیکشن کا سلسلہ جاری رہے تو تلچھٹ خود بخود ختم ہو جائے گی اور اکثریت اچھے لوگوں کی ہو گی۔