نیب نے ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا نوٹس لے لیا
نگرانی نظام متعارف اور ایس آر اوز جاری کرنے کے عمل میں شفافیت کیلیے اسٹیک ہولڈرزکونمائندگی دی جائے، چیئرمین نیب.
وصولیوں کی ضلعی سطح تک منتقلی کیلیے تحقیق،امیروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کیلیے اسٹریٹجی اور مختلف ریونیواسٹڈیز پر جامعات سے سفارشات لی جائیں،ایف بی آرکو خط فوٹو: فائل
قومی احتساب بیورو(نیب) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانیوں کا نوٹس لے لیا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ادارے کے اندر ہونے والی کرپشن روکنے کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق قومی احتساب بیورو کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ایک لیٹر لکھا ہے کہ ایف بی آر کے اندر ہونے والی کرپشن روکنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے اور امیر دولت مند لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی اسٹریٹجی بنائی جائے، اس کے علاوہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریگولیٹری فنکشنز کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جائے۔
ایس آر اوز کے اجرا کے لیے بھی صاف و شفاف نظام متعارف کرایا جائے اوراس عمل میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی نمائندگی دی جائے۔ دستاویز کے مطابق نیب کی طرف سے ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ اور وصولیاں بڑھانے کے لیے مختلف اسٹڈیز پرمقامی یونیورسٹیوں کے ذریعے مزید تحقیق کرا کے سفارشات حاصل کی جائیں جن کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کی جائیں اور ان پر عملدرآمد کیا جائے۔
لیٹر میں کہا گیاکہ ٹیکس وصولی کی نچلی سطح یعنی ضلعی حکومتوں کی سطح پر منتقلی کے لیے اسٹڈی کرائی جائے تاکہ ٹیکسوں کی وصولی میں زیادہ سے زیادہ افرادکی شمولیت ہوسکے اور لوگوں کو اپنے ٹیکسوں کی رقم انکے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ استعمال ہوتی ہوئی دکھائی دے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق قومی احتساب بیورو کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ایک لیٹر لکھا ہے کہ ایف بی آر کے اندر ہونے والی کرپشن روکنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے اور امیر دولت مند لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی اسٹریٹجی بنائی جائے، اس کے علاوہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریگولیٹری فنکشنز کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جائے۔
ایس آر اوز کے اجرا کے لیے بھی صاف و شفاف نظام متعارف کرایا جائے اوراس عمل میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی نمائندگی دی جائے۔ دستاویز کے مطابق نیب کی طرف سے ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ اور وصولیاں بڑھانے کے لیے مختلف اسٹڈیز پرمقامی یونیورسٹیوں کے ذریعے مزید تحقیق کرا کے سفارشات حاصل کی جائیں جن کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کی جائیں اور ان پر عملدرآمد کیا جائے۔
لیٹر میں کہا گیاکہ ٹیکس وصولی کی نچلی سطح یعنی ضلعی حکومتوں کی سطح پر منتقلی کے لیے اسٹڈی کرائی جائے تاکہ ٹیکسوں کی وصولی میں زیادہ سے زیادہ افرادکی شمولیت ہوسکے اور لوگوں کو اپنے ٹیکسوں کی رقم انکے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ استعمال ہوتی ہوئی دکھائی دے۔