اے این ایل شیئرزقیمتوں وحجم میں دھاندلی پر17افرادکے وارنٹ

ایس ای سی پی کی 6کمپنیوں اور 17افراد کے خلاف شکایت پرعدالت نے جاری کیے.

ایس ای سی پی کی 6کمپنیوں اور 17افراد کے خلاف شکایت پرعدالت نے جاری کیے۔ فوٹو فائل

سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے ایس ای سی پی آرڈیننس مجریہ1969کی دفعہ 17(e)(ii) to (v)کے تحت ایزگارڈ نائن لمیٹڈ (اے این ایل)کے حصص کی قیمتوں اور مقدار میں دھاندلی کے جرم کا ارتکاب کرنے والی 6کمپنیوں اور 17افراد کے خلاف مجاز عدالت میں شکایت درج کرادی ہے۔

جس پر3ایڈیشنل سیشنزججزپرمشتمل معزز عدالت نے بذریعہ آرڈ بتاریخ 22اپریل 2013 تمام ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے ہیں، ملزمان میں جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ (جے ایس جی سی ایل)، جہانگیر صدیقی اینڈ کمپنی لمیٹڈ (جے ایس سی ایل)، جہانگیر صدیقی اینڈ سنز لمیٹڈ ، جہانگیز صدیقی سیکیورٹیز سروسز لمیٹڈ ، جے ایس انویسٹمنٹ لمیٹڈ (جے آئی ایس ایل)، عزیز فدا حسین اینڈ کمپنی لمیٹڈ، سعد سعید فاروقی، محبوب علی کلیار، محمد صادق پتنی، شازیہ صادق، سید نظام شاہ، ہمایوں شیخ، عالیہ شیراز منو، آمنہ ہمایوں شیخ، نسرین شیخ، احمد شیخ ، محمد ریاض، محمد اعجاز، عرفان عزیز ، صبا عرفان عزیز، زہرا نسیم عزیز، محمد اقبال اور محمد مبشر حمید ڈاگیاکے نام شامل ہیں۔

کراچی اسٹاک ایکس چینج کے ٹریڈنگ ڈیٹا کے مطابق 2 اپریل2007 تا13 جولائی2007 کے درمیان ریکارڈشدہ73ٹریڈنگ سیشنز کے دوران اے این ایل شیئر کی قیمتوں اورکاروباری حجم میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، 20 اپریل2007 کا ڈیٹا یومیہ اوسطاً تجارتی حجم میں3.5ملین شیئرز سے لے کر 10.8ملین شیئرز کا غیرمعمولی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔




مذکورہ دورانیے میں یومیہ تجارتی حجم میں2.3ملین شیئرز (جو65 فیصدتھا)کا اضافہ دیکھنے میں آیا جو موجودہ کے مقابلے میں گزشتہ 12ماہ کے دوران 1.2 ملین شیئر ز تھا، مذکورہ مدت کے دوارن اے این ایل کے شیئرز میں 132اضافہ ہوا اوراس مدت میں اس کی قیمت 22.85روپے فی شیئر کی اوسط قیمت کے مقابلے میں3 جولائی2007 کو52.5 روپے فی شیئر تک جا پہنچی نتیجتاً کمیشن نے آرڈیننس کی دفعہ 21کے ساتھ ایس ای سی پی ایکٹ 1997کی دفعہ 29(2)کے تحت 5 نومبر2007 کوبذریعہ آرڈراے این ایل شیئر ز کی ٹریڈنگ کی تفتیش کا آغاز کیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب تفتیش جاری تھی تو 29 نومبر2007 تا22 اپریل2008 کے دوران ایک بار پھر اے این ایل کے 96 ٹریڈنگ سیشنز میں کاروباری حجم اورقیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، اس دوران یومیہ اوسط کاروباری حجم 5.8ملین حصص پر مشتمل رہا اور 18 جنوری2008 کو یہ حجم غیر معمولی طورپر 16.8ملین شیئرز پر بند ہواجبکہ حصص کی قیمت 36.90 روپے جو28 نومبر2007 کی کلوزنگ پرائس ہے سے بڑھ کر96.40 روپے جو21 اپریل2008 کی کلوزنگ پرائس تھی تک جا پہنچی جس میں60.55 روپے یا168 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایس ای سی پی کے مطابق اے این ایل شیئرز کی قیمتوں اورحجم میں ہونے والے غیر معمولی اضافہ دھاندلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

کلائنٹ یوآئی این کی سطح پر ٹریڈنگ ڈیٹا دو بروکریج ہاؤسز یعنی جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ اورعزیز فدا حسین اینڈ کمپنی لمیٹڈ کے مابین دانستہ خرید و فروخت ظاہر کرتا ہے، مذکورہ گروپس کی جانب سے شیئرز کی خرید و فروخت کی سرگرمیوں سے متعلق حقائق اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں کمپنیا ں براہ راست یا بلاواسطہ طور پرخرید وفروخت میں ملوث رہی ہیں اور ان کا یہ عمل دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، گروپ ممبران کی جانب سے استعمال کی گئی ٹریڈنگ ٹیکنیکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان نے اس اسکیم پر عملدرآمد کیا جبکہ اے این ایل کی شیئر پرائس اورحجم میں رودو بدل کیا گیا تھا، متعلقہ بروکریج ہاؤسزاوربینکوں سے موصولہ معلومات کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ ڈیٹا گروپس کے مابین متعدد اقسام کے فنانشل لنکس ہیں۔

جو مذکورہ افراد کے بینک اکاؤنٹس کو بھی ظاہر کرتے ہیں، Continuous Funding Systemیا سی ایف ایس مارکیٹ ڈیٹا کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریویو کی پہلی مدت کے دوران جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ، جے ایس گلوبل کے کلائنٹس کا اہم بروکریج ہاؤس نہیں تھا بلکہ ان کلائنٹس میں چندافراد کو اے این ایل شیئرز کی ٹریڈنگ کے حوالے سے سہولتیں بہم پہنچائی گئیں اور ان مصنوعی سرگرمیوں میں یہ برابر کا شریک رہا، گروپ کی بینک اکاؤنٹ معلومات کی تصدیق سے معلوم ہواکہ دیگر افراد کے تعاون سے اے این ایل شیئرز کی ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کرنے والے چند افراد خود ہی اس کے حقدار تھے، مذکورہ لین دین سے گروپس کے مابین فنانشل لنکس کا انکشاف ہوتا ہے، مزید براں بینک اکاؤنٹس کی مجاز اتھارٹی نے گروپ کے ممبران کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے اور یہ اکاؤنٹ فنڈنگ، ٹریڈنگ اور ان کو ٹرانسفر کرنے کی غرض سے استعمال کیے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ دوسرے بینکوں میں موجود بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بھی گروپ ممبران کی مالیاتی لین دین کی نشاندہی کی گئی، گروپ ممبران کے مابین فری ڈلیوری کی بنیاد پر متعلقہ سی ڈی سی اکاؤنٹس کے ذریعے بڑی تعداد میں اے این ایل شیئرزکا تبادلہ کیا گیا، علاوہ ازیں اے این ایل شیئرز کے تبادلے کیلیے ایک اور راستہ بھی اختیارکیا گیاجو KATSٹرمینل تھا جس میں مصنوعی منافع ظاہر کر کے عوام کو گمراہ کیا گیا تھا۔ ایس ای سی پی کی جانب سے اس ضمن میں تفتیشی رپورٹ اور شکایات کی نقول اپنی ویب سائٹ پرجاری کردی گئی ہیں۔
Load Next Story