سیاسی لیڈرشپ کے امتحان کی گھڑی
جمہوری عمل اور اقتدار کی پرامن اور پارلیمانی روایات اور اقدار کے مطابق ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جمہوری عمل اور اقتدار کی پرامن اور پارلیمانی روایات اور اقدار کے مطابق ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فوٹو: فائل
2018ء کے انتخابات کے حوالہ سے سیاسی حلقے، میڈیا اور رائے عامہ توقعات، امکانات، خدشات اور تحفظات کے دلچسپ اور تحیر خیز اشاریئے اور عندیے دے رہے ہیں۔
ملک کے فہمیدہ اور سنجیدہ طبقے رجایت پسندانہ انداز میں بہتری کی تمنا رکھتے ہیں اور ان کے چشم تصور میں پاکستان معروضی اور زمینی حقائق کے لحاظ سے اکسیویں صدی کے سیاسی منظرنامہ میں اپنی نئی انفرادیت دنیا سے تسلیم کرا لے گا اور عوام ووٹنگ کے نئے اور تحیر خیز جذبہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی اور میڈیا کے پنڈتوں کے سارے تجزیوں کے قطعی برعکس اپنا فیصلہ دے دیں گے۔
لیکن سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مثالی انتخابی سیناریو اس وقت تک ابھر ہی نہیں سکتا جب تک کہ ریاست اپنے وقار کے منافی ایسی کسی صورتحال کو انتخابات کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے جس سے قومی امنگوں کی حقیقی ترجمانی نہ ہو اور بے یقینی کی دھند سے فائدہ اٹھاکر کسی نہ کسی حوالہ سے ''روڈ ٹو الیکشن'' کے بیچ کوئی بھاری پتھر رکھ دیا جائے۔
یہ امر بلاشبہ جمہوری عمل اور اقتدار کی پرامن اور پارلیمانی روایات اور اقدار کے مطابق ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا واقعی انتخابات میں التوا کا بینر لیے کوئی ''جن'' بوتل سے نکلنے کے لیے بے چین ہے، اسے انتخابات میں تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرنے کی بے قراری ہے اور اگر ایسا ہے تو کیوں ہے۔
ملکی سیاست تو جستجو، انتشار، مناظرہ، مقابلہ اور تصادم کے ہر امکان سے نبرد آزما ہوکر اب 25 جولائی کے فیصلہ کن دن کی منتظر ہے، اسے سکون سے رائے دہندگی کے اہم تریں مشن کی تکمیل کی مکمل آزادی ملنی چاہیے اور ووٹرز اب ساری توجہ پولنگ تک جانے کی تیاری میں صرف کریں۔
لہٰذا اس سوال کا جواب مین اسٹریم سیاسی اسٹیک ہولڈرز دے سکتے ہیں کہ الیکشن جس طرح 1954ء سے 2013ء تک ہوئے ہیں، اس بار بھی انشا اﷲ اسی روایت کے تحت منعقد ہونگے۔ سیاسی قائدین صبر و تحمل اور دانشمندی کے ساتھ اپنے معاملات اور تیاریوں کا جائزہ لیں، ان کی مشترکہ جمہوری اسپرٹ اور اسپورٹس مین شپ کے ذریعہ ہی شفاف اور فول پروف الیکشن ہوسکتے ہیں، عدلیہ، الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عسکری قیادت اور ریاستی کلی مشینری اس مقصد کے لیے سیکیورٹی کا ناقابل تسخیر میکنزم وضع کرکے ووٹرز اور سیاسی جماعتوں کے قلب و ذہن میں موجود تحفظات اور اندیشوں کا ازالہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان پہلی بار الیکشن میدان میں تو نہیں اتر رہا۔ کسی دانا کا قول ہے کہ جس طرح انصاف میں تاخیر انصاف کے انکار کے مترادف ہے اسی طرح الیکشن میں تاخیر سے بھی ملک دشمن قوتیں انتشار کے پینڈورا باکس کھولنے کی سازش کرسکتی ہیں، الیکشن کمیشن عالمی قوتوں کی طرف سے ایسی واردات کے خدشہ کا پہلے ہی اظہار کرچکا ہے، بس اس کی تفصیل کا قوم کو انتظار ہے۔
ہاں البتہ کوئی طاقت پاکستانی ریاست کو ڈکٹیٹ نہیں کراسکتی جب کہ عالمی اصول ہے کہ ریاست اپنے وقار کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر اس تناظر میں سیاسی حقائق کا ادراک کیا جائے اور انتخابی موسم کے جمہوری تناظر میں سیاسی جماعتوں کے مابین کشیدگی اور انتخابی اداروں کے مابین کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ قوم ایک شفاف، فری، فیئر اور اوپن الیکشن کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے، سیاسی قیادتیں بھی حلقہ بندیوں، مردم شماری اور دیگر انتظامی اور آئینی موشگافیوں کے حوالے سے ہر طرح کی کلیئرنس لینے کے لیے بے تاب ہیں، مگر انتخاب کے طے شدہ شیڈول اور مقررہ تاریخ پر ہونے میں کوئی دو رائے نہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ قومی اسمبلی اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری ہونے کے بعد نصف شب کو تحلیل ہوگئی۔ قومی اسمبلی کے کل 56 اجلاس منعقد ہوئے۔ موجودہ اسمبلی نے دو بار قائد ایوان کا انتخاب کیا۔ اس اسمبلی نے 189 ریکارڈ قانون منظور کیے۔ 124 حکومتی بل ایوان میں پیش کیے گئے جب کہ 204 پرائیویٹ ممبر بل ایوان میں متعارف کرائے گئے۔
پانچ سالہ مدت کے دوران 40 آرڈیننس ایوان میں پیش کیے گئے جب کہ 8 مختلف بلز کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لی گئی۔ پارلیمنٹ کی تکذیب بھی کی گئی، دو بڑی جماعتوں کے قائدین نے اجلاس میں کم شرکت کی، مگر جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوئی، موجودہ اسمبلی نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی تاریخی 31 ویں ترمیم بھی منظور کی۔ موجودہ قومی اسمبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پانچ سالہ مدت میں 6 بجٹ پیش کیے۔
یاد رہے قومی اسمبلی کے ساتھ وفاقی حکومت اور وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے بعض اضلاع کی حلقہ بندیوں کو مسترد کیے جانے کے بعد انتخابی حکام تذبذب کی کیفیت سے دوچار ہیں، اخباری اطلاعات کے مطابق 25 جولائی کو عام انتخابات کے لیے شیڈول جاری کرنے سے پہلے عدالت کے تحریری احکامات کے منتظر ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ تقریباً 120 ایسی درخواستوں کی سماعت کررہی ہے جن میں نئی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے جو چاروں صوبوں میں ہیں۔
ادھر بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں شدید گرمی اور نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن 2018ء ایک ماہ تک ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کرکے خدشات کا ارتعاش پیدا کیا ہے، وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں الیکشن ایک ماہ تک ملتوی کرنے کے لیے قرارداد پیش کی، جس میں موقف اختیار کیا کہ ان کے صوبے کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ووٹرز کا انتخابی عمل میں حصہ لینا ناممکن ہوجاتا ہے، جب کہ ملکی الیکشن گرم ترین موسموں میں پہلے بھی ہوئے ہیں۔
اس وقت التوا کی استدعا صائب نہیں ہوگی۔ ادھر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت پارٹی کے مرکزی قائدین کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے ناصر محمود کھوسہ کی نامزدگی واپس لینے اور خیبر پختونخوا میں نگران وزیراعلیٰ کے لیے حمایت اللہ اور اعجاز قریشی کے ناموں کی منظوری دی گئی، جب کہ ن لیگ کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے لیے تحریک انصاف نے نام دیا تھا جس سے اتفاق کیا گیا اور حتمی مشاورت کے بعد نگران وزیراعلیٰ کی سمری گورنر کو بھیج چکے ہیں جو واپس نہیں ہو سکتی، ادھر خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بھی نگران وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
دریں اثناء الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلے کی وجہ سے انتخابات تاخیرکا شکار نہیں ہوںگے اور عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 60 روز کے اندر الیکشن کرانا آئینی ضرورت ہے۔ آیندہ الیکشن کے نتائج کے حوالہ سے قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں کا دلچسپ سلسلہ چل نکلا ہے، گیلپ پاکستان نے بھی اپنا جائزہ پیش کیا ہے جب کہ عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے پیشگوئی کی ہے کہ پنجاب میں بہت زیادہ مقبولیت ظاہر کرتی ہے کہ ن لیگ آیندہ انتخابات جیت جائے گی۔ یہ پیشگوئی پاکستان کے حوالے سے تازہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔
اکانومسٹ کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ سیاسی غیر یقینی بھی جاری رہے گی۔ لیکن اس تاثر کو مٹانے اور ملک میں جمہوری استحکام اور پرامن اقتدار کی منتقلی کے غیر معمولی چلینج کو قبول کرتے ہوئے سیاستدان ملکی سیاست کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ یہ سیاسی لیڈرشپ کے امتحان کی گھڑی ہے۔
ملک کے فہمیدہ اور سنجیدہ طبقے رجایت پسندانہ انداز میں بہتری کی تمنا رکھتے ہیں اور ان کے چشم تصور میں پاکستان معروضی اور زمینی حقائق کے لحاظ سے اکسیویں صدی کے سیاسی منظرنامہ میں اپنی نئی انفرادیت دنیا سے تسلیم کرا لے گا اور عوام ووٹنگ کے نئے اور تحیر خیز جذبہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی اور میڈیا کے پنڈتوں کے سارے تجزیوں کے قطعی برعکس اپنا فیصلہ دے دیں گے۔
لیکن سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مثالی انتخابی سیناریو اس وقت تک ابھر ہی نہیں سکتا جب تک کہ ریاست اپنے وقار کے منافی ایسی کسی صورتحال کو انتخابات کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے جس سے قومی امنگوں کی حقیقی ترجمانی نہ ہو اور بے یقینی کی دھند سے فائدہ اٹھاکر کسی نہ کسی حوالہ سے ''روڈ ٹو الیکشن'' کے بیچ کوئی بھاری پتھر رکھ دیا جائے۔
یہ امر بلاشبہ جمہوری عمل اور اقتدار کی پرامن اور پارلیمانی روایات اور اقدار کے مطابق ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا واقعی انتخابات میں التوا کا بینر لیے کوئی ''جن'' بوتل سے نکلنے کے لیے بے چین ہے، اسے انتخابات میں تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرنے کی بے قراری ہے اور اگر ایسا ہے تو کیوں ہے۔
ملکی سیاست تو جستجو، انتشار، مناظرہ، مقابلہ اور تصادم کے ہر امکان سے نبرد آزما ہوکر اب 25 جولائی کے فیصلہ کن دن کی منتظر ہے، اسے سکون سے رائے دہندگی کے اہم تریں مشن کی تکمیل کی مکمل آزادی ملنی چاہیے اور ووٹرز اب ساری توجہ پولنگ تک جانے کی تیاری میں صرف کریں۔
لہٰذا اس سوال کا جواب مین اسٹریم سیاسی اسٹیک ہولڈرز دے سکتے ہیں کہ الیکشن جس طرح 1954ء سے 2013ء تک ہوئے ہیں، اس بار بھی انشا اﷲ اسی روایت کے تحت منعقد ہونگے۔ سیاسی قائدین صبر و تحمل اور دانشمندی کے ساتھ اپنے معاملات اور تیاریوں کا جائزہ لیں، ان کی مشترکہ جمہوری اسپرٹ اور اسپورٹس مین شپ کے ذریعہ ہی شفاف اور فول پروف الیکشن ہوسکتے ہیں، عدلیہ، الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عسکری قیادت اور ریاستی کلی مشینری اس مقصد کے لیے سیکیورٹی کا ناقابل تسخیر میکنزم وضع کرکے ووٹرز اور سیاسی جماعتوں کے قلب و ذہن میں موجود تحفظات اور اندیشوں کا ازالہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان پہلی بار الیکشن میدان میں تو نہیں اتر رہا۔ کسی دانا کا قول ہے کہ جس طرح انصاف میں تاخیر انصاف کے انکار کے مترادف ہے اسی طرح الیکشن میں تاخیر سے بھی ملک دشمن قوتیں انتشار کے پینڈورا باکس کھولنے کی سازش کرسکتی ہیں، الیکشن کمیشن عالمی قوتوں کی طرف سے ایسی واردات کے خدشہ کا پہلے ہی اظہار کرچکا ہے، بس اس کی تفصیل کا قوم کو انتظار ہے۔
ہاں البتہ کوئی طاقت پاکستانی ریاست کو ڈکٹیٹ نہیں کراسکتی جب کہ عالمی اصول ہے کہ ریاست اپنے وقار کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر اس تناظر میں سیاسی حقائق کا ادراک کیا جائے اور انتخابی موسم کے جمہوری تناظر میں سیاسی جماعتوں کے مابین کشیدگی اور انتخابی اداروں کے مابین کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ قوم ایک شفاف، فری، فیئر اور اوپن الیکشن کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے، سیاسی قیادتیں بھی حلقہ بندیوں، مردم شماری اور دیگر انتظامی اور آئینی موشگافیوں کے حوالے سے ہر طرح کی کلیئرنس لینے کے لیے بے تاب ہیں، مگر انتخاب کے طے شدہ شیڈول اور مقررہ تاریخ پر ہونے میں کوئی دو رائے نہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ قومی اسمبلی اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری ہونے کے بعد نصف شب کو تحلیل ہوگئی۔ قومی اسمبلی کے کل 56 اجلاس منعقد ہوئے۔ موجودہ اسمبلی نے دو بار قائد ایوان کا انتخاب کیا۔ اس اسمبلی نے 189 ریکارڈ قانون منظور کیے۔ 124 حکومتی بل ایوان میں پیش کیے گئے جب کہ 204 پرائیویٹ ممبر بل ایوان میں متعارف کرائے گئے۔
پانچ سالہ مدت کے دوران 40 آرڈیننس ایوان میں پیش کیے گئے جب کہ 8 مختلف بلز کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لی گئی۔ پارلیمنٹ کی تکذیب بھی کی گئی، دو بڑی جماعتوں کے قائدین نے اجلاس میں کم شرکت کی، مگر جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوئی، موجودہ اسمبلی نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی تاریخی 31 ویں ترمیم بھی منظور کی۔ موجودہ قومی اسمبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پانچ سالہ مدت میں 6 بجٹ پیش کیے۔
یاد رہے قومی اسمبلی کے ساتھ وفاقی حکومت اور وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے بعض اضلاع کی حلقہ بندیوں کو مسترد کیے جانے کے بعد انتخابی حکام تذبذب کی کیفیت سے دوچار ہیں، اخباری اطلاعات کے مطابق 25 جولائی کو عام انتخابات کے لیے شیڈول جاری کرنے سے پہلے عدالت کے تحریری احکامات کے منتظر ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ تقریباً 120 ایسی درخواستوں کی سماعت کررہی ہے جن میں نئی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے جو چاروں صوبوں میں ہیں۔
ادھر بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں شدید گرمی اور نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن 2018ء ایک ماہ تک ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کرکے خدشات کا ارتعاش پیدا کیا ہے، وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں الیکشن ایک ماہ تک ملتوی کرنے کے لیے قرارداد پیش کی، جس میں موقف اختیار کیا کہ ان کے صوبے کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ووٹرز کا انتخابی عمل میں حصہ لینا ناممکن ہوجاتا ہے، جب کہ ملکی الیکشن گرم ترین موسموں میں پہلے بھی ہوئے ہیں۔
اس وقت التوا کی استدعا صائب نہیں ہوگی۔ ادھر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت پارٹی کے مرکزی قائدین کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے ناصر محمود کھوسہ کی نامزدگی واپس لینے اور خیبر پختونخوا میں نگران وزیراعلیٰ کے لیے حمایت اللہ اور اعجاز قریشی کے ناموں کی منظوری دی گئی، جب کہ ن لیگ کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے لیے تحریک انصاف نے نام دیا تھا جس سے اتفاق کیا گیا اور حتمی مشاورت کے بعد نگران وزیراعلیٰ کی سمری گورنر کو بھیج چکے ہیں جو واپس نہیں ہو سکتی، ادھر خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بھی نگران وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
دریں اثناء الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلے کی وجہ سے انتخابات تاخیرکا شکار نہیں ہوںگے اور عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 60 روز کے اندر الیکشن کرانا آئینی ضرورت ہے۔ آیندہ الیکشن کے نتائج کے حوالہ سے قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں کا دلچسپ سلسلہ چل نکلا ہے، گیلپ پاکستان نے بھی اپنا جائزہ پیش کیا ہے جب کہ عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے پیشگوئی کی ہے کہ پنجاب میں بہت زیادہ مقبولیت ظاہر کرتی ہے کہ ن لیگ آیندہ انتخابات جیت جائے گی۔ یہ پیشگوئی پاکستان کے حوالے سے تازہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔
اکانومسٹ کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ سیاسی غیر یقینی بھی جاری رہے گی۔ لیکن اس تاثر کو مٹانے اور ملک میں جمہوری استحکام اور پرامن اقتدار کی منتقلی کے غیر معمولی چلینج کو قبول کرتے ہوئے سیاستدان ملکی سیاست کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ یہ سیاسی لیڈرشپ کے امتحان کی گھڑی ہے۔