بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امیتازی سلوک
بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر اتنے عشروں بعد امریکی رپورٹ میں اس حقیقت کو منظرعام پر لانا حیرت انگیز امر ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر اتنے عشروں بعد امریکی رپورٹ میں اس حقیقت کو منظرعام پر لانا حیرت انگیز امر ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
امریکا کی مذہبی آزادی پر جاری کی گئی سالانہ رپورٹ نے نام نہاد سیکولر بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب اتارتے ہوئے اصل حقیقت دنیا کے سامنے آشکار کر دی ہے' امریکا کے مذہبی آزادی کے نگران ادارے کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم کی مذہبی آزادی پر جاری رپورٹ کے مطابق بھارت میں نہ صرف مسلمان بلکہ نچلی ذات کے ہندو دلت بھی محفوظ نہیں رہے.
رپورٹ میں بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ ہنس راج آہیر کا پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان شامل کیا گیا جس کے مطابق 2017ء میں 822 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں 111افراد ہلاک اور 384زخمی ہوئے' شدت پسند ہندو تنظیموں نے گزشتہ برس دس مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں شہید کر دیا۔
اس قسم کی پر تشدد وارداتیں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں، مذہبی عدم تشدد میں اضافے کی وجہ سے بھارت کو 2018ء میں ان ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کی نگرانی کی جائے گی۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری اور اقلیتوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں' تشدد کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہے' بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور تشدد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ عیسائی مبلغ بھی ہندو انتہا پسندوں کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہے' متعدد واقعات میں تو انھیں جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔
بھارت میں اچھوتوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو سماجی حیثیت بنا دی گئی ہے ، اس میں ان طبقوں کے لیے ترقی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب تو بھارت میں بسنے والے سکھ بھی انتہا پسند ہندوئوں سے خوفزدہ نظر آتے ہیں، اندارا گاندھی کے اپنے سکھ باڈی گاڈز کے ہاتھوں قتل کے بعد دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں قتل عام نے بھارت کے سیکولر چہرے سے نقاب ہٹا دیا اور اب سکھ بھارت سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں تاہم بھارت میں مسلمانوں کو زیادہ ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر اتنے عشروں بعد امریکی رپورٹ میں اس حقیقت کو منظرعام پر لانا حیرت انگیز امر ہے کہ اس عرصے کے دوران امریکی اداروں نے اس جانب توجہ کیوں نہیں کی اور اس سے مسلسل اغماض کیوں برتتے رہے۔ بھارت میں جس طرح مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوئوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اگر ایسا پاکستان یا کسی اسلامی ملک میں رونما ہوتا تو امریکا سمیت دنیا بھر کے مذہبی اور انسانی حقوق کے ادارے آسمان سر پر اٹھا لیتے اور اس ملک پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے، اقوام متحدہ بھی فوری حرکت میں آجاتی۔ اب امریکی مذہبی آزادی کے نگران ادارے نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مذہبی عدم تشدد میں بڑھتے ہوئے اضافے کا نوٹس لیا ہے تو دیر آید درست آید کے مصداق یہ خوش آیند امر ہے۔ بالخصوص مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں ہندو مذہبی انتہا پسند تنظیمیں زیادہ مضبوط ہوئیں اور انھیں اقلیتوں کے خلاف کھل کھیلنے کا موقع ملا، اقلیتوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر کسی انتہا پسند ہندو تنظیم کے خلاف ریاستی سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا بلکہ اس سے صرف نظر کیا جاتا رہا۔
رپورٹ میں بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ ہنس راج آہیر کا پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان شامل کیا گیا جس کے مطابق 2017ء میں 822 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں 111افراد ہلاک اور 384زخمی ہوئے' شدت پسند ہندو تنظیموں نے گزشتہ برس دس مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں شہید کر دیا۔
اس قسم کی پر تشدد وارداتیں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں، مذہبی عدم تشدد میں اضافے کی وجہ سے بھارت کو 2018ء میں ان ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کی نگرانی کی جائے گی۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری اور اقلیتوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں' تشدد کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہے' بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور تشدد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ عیسائی مبلغ بھی ہندو انتہا پسندوں کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہے' متعدد واقعات میں تو انھیں جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔
بھارت میں اچھوتوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو سماجی حیثیت بنا دی گئی ہے ، اس میں ان طبقوں کے لیے ترقی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب تو بھارت میں بسنے والے سکھ بھی انتہا پسند ہندوئوں سے خوفزدہ نظر آتے ہیں، اندارا گاندھی کے اپنے سکھ باڈی گاڈز کے ہاتھوں قتل کے بعد دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں قتل عام نے بھارت کے سیکولر چہرے سے نقاب ہٹا دیا اور اب سکھ بھارت سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں تاہم بھارت میں مسلمانوں کو زیادہ ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر اتنے عشروں بعد امریکی رپورٹ میں اس حقیقت کو منظرعام پر لانا حیرت انگیز امر ہے کہ اس عرصے کے دوران امریکی اداروں نے اس جانب توجہ کیوں نہیں کی اور اس سے مسلسل اغماض کیوں برتتے رہے۔ بھارت میں جس طرح مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوئوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اگر ایسا پاکستان یا کسی اسلامی ملک میں رونما ہوتا تو امریکا سمیت دنیا بھر کے مذہبی اور انسانی حقوق کے ادارے آسمان سر پر اٹھا لیتے اور اس ملک پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے، اقوام متحدہ بھی فوری حرکت میں آجاتی۔ اب امریکی مذہبی آزادی کے نگران ادارے نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مذہبی عدم تشدد میں بڑھتے ہوئے اضافے کا نوٹس لیا ہے تو دیر آید درست آید کے مصداق یہ خوش آیند امر ہے۔ بالخصوص مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں ہندو مذہبی انتہا پسند تنظیمیں زیادہ مضبوط ہوئیں اور انھیں اقلیتوں کے خلاف کھل کھیلنے کا موقع ملا، اقلیتوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر کسی انتہا پسند ہندو تنظیم کے خلاف ریاستی سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا بلکہ اس سے صرف نظر کیا جاتا رہا۔